11 جولائی کو سرب فوج کے ہاتھوں 8ہزار مسلمانوں کے قتل عام کے 15 سال مکمل ہوئے۔ جولائی 1995ء میں شہید ہونے والے ان آٹھ ہزار بوسنیائی مسلمانوں کی یاد میں خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ مظالم کے خلاف ریلیاں نکالی گئیں۔ احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ سیمینار اور ورکشاپ منعقد کی گئیں۔ شناخت کی […]
افغانستان کے خلاف امریکا کی اپنے اتحادیوں کے ساتھ نو سال پہلے کی گئی سراسر ناجائز جارحیت نتائج کے اعتبار سے سپر پاور کے لیے خود کش حملہ بن گئی ہے۔ مسلمانان افغانستان کی تاریخ ساز ، سخت جان اور ایمان افروز مزاحمت سے نمٹنا امریکی معیشت کے لیے روز بروز مشکل تر ہوتا جارہا […]
امریکی فورسز کے افغانستان اور پاک افغان سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے نام پر جاری فوجی اپریشن کی بربریت اور ڈرون حملوں کی وحشیانہ بھرمار کے رد عمل میں خود امریکہ کے اندر دہشت گردی کی وارداتوں کو مہمیز مل چکی ہے مگر وائٹ ہاوس کے پیادے اور اوبامہ ایڈمنسٹریشن کے گماشتے شائد امریکہ […]
آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایاکہ ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سیدنا امیر معاویہ بن ابی سفیان کو اس حالت میں اُٹھائیں گے کہ اُن پر نورِ ایمان کی چادر ہو گی ” ۔ (کنزالعمال)
”بے کس، مصیبت زدہ، بے سہارا اور غلام عوام کو ہمارے حوالے کیجیے تاکہ وہ آزادی کی زندگی بسر کرسکیں۔“ یہ الفاظ امریکا کے مجسمہٴ آزادی پر کندہ ہیں۔ نیویارک کی بندرگاہ پر قائم مجسمہٴ آزادی مشعل ہاتھ میں لیے دنیا بھر کے مظلوم انسانوں کو اپنی آغوش پناہ میں سمیٹنے کی زبان حال سے […]
افغانستان “بادشاہتوں کا قبرستان” جہاں چنگیز خان کے بعد سے کوئی غیر ملکی حملہ آور اپنے قدم جمانے میں کامیاب نہیں ہوسکا اور اب یہاں مغرب کے گم ہوجانے کی باری ہے۔ اعلیٰ ترین امریکی کمانڈر جنرل اسٹینلے مک کرسٹل کے امریکی صدر اوباما، نائب صدر اور ان کی ٹیم کے بارے میں ایک میگزین […]
نور محمد بلوچ کا شکوہ بجا ہے۔ میں اُن کے شکوؤں سے بھرے خط کو من و عن اس کالم میں شائع کررہا ہوں کیونکہ ان شکوؤں کا پاکستان کے حکمرانوں کے ساتھ ساتھ نوجوان پاکستانیوں تک پہنچنا ضروری ہے۔ نور محمد بلوچ نے لکھا ہے۔
پچھلے ماہ مولانا فضل الرحمن صاحب نے ایم ایم اے میں شامل چھ جماعتوں کے نمائندگان کو اسلام آباد میں مرکزی وزراء کے احاطے میں واقع اپنے دولت کدے پر کھانے کی دعوت دے کر بلایا۔ مولانا خان محمد مرحوم کی وفات کی بنا پر یہ دعوت ملتوی ہو گئی۔ اس دعوت کی اطلاع مجھے […]
اسلام اور اہلِ اسلام تقریباً 70 برس تک 1917ء میں روس میں بالشویک انقلاب سے 1988ء میں افغانستان میں سوویت یونین کی شکست تک) کمیونزم اور سوشلزم کے خلاف برسرِپیکار رہے۔ان نظریات کے ساتھ اہلِ اسلام نے اپنی جنگ، ذہن کی دُنیا سے نکل کر ذرائع ابلاغ، معیشت، معاشرت، سیاست یہاں تک کہ جنگی میدانوں […]
اسلامی دنیا میں باہم متحد ہونے کی خواہش مضبوطی اور شدت اختیار کرتی جارہی ہے متعدد سروے اور عوامی جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصر جیسے دور دراز ملک سے لیکر پاکستان تک مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد شریعت کے ضابطوں پر مشتمل قوانین کی تشکیل اور اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد کی خواہاں […]