دارالعلوم زاہدان تاریخ کے آئینہ میں

دارالعلوم زاہدان تاریخ کے آئینہ میں

اسلامی تاریخ اس بات پر گواہ ہے دینی مدارس ہمیشہ اعلی دینی و ایمانی ارمانوں کے مراکز رہے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانیت پر مثبت اثرات چھوڑگئے۔ در حقیقت دینی مدارس دینداری و حق طلبی کو فروغ دےکر عامۃ الناس کو دین سے مضبوط تعلق قائم کرنے کے ذرائع ہیں۔ دین کے درد رکھنے والے مصلحین، معماران امت اور دینی شعور پیدا کرنے والے انہی مدارس کے تربیت یافتہ ہیں جنہوں نے دنیا میں ایک انقلاب بپا کیا ہے۔

دارالعلوم زاہدان جس کے با مقصد منصوبوں نے احیائے دین اور درخت اسلام کی آبیاری کی راہ میں قابل قدر خدمات سر انجام دیا ہے، اسی سلسلے کی ایک مضبوط کڑی ہے۔ اس دینی و علمی ادارے کی سرگرم و مخلص انتظامیہ کی بے وقفہ کوششوں اور توفیق الہی کی برکت سے یہ جامعہ کمال کے مدارج طے کررہاہے اور آئے دن اس کی افادیت بڑھ رہی ہے۔ صحرائے علم و دین کے پیاسے حکمت و معرفت کے سرچشمے سے اپنی پیاس بجھا کر فیض‌یاب ہورہے ہیں۔

اب دارالعلوم زاہدان آسمان علم و ثقافت کا روشن ستارہ بن چکاہے جس کا شمار ایران کے سب سے مشہور اور ممتاز علمی مراکز سے ہوتاہے۔ علمائے کرام و حفاظ قرآن کا ماوی و مسکن دارالعلوم زاہدان کا عوام میں روحانیت کے فروغ اور علوم قرآنی و نبوی کی حفاظت کے سلسلے میں اہم کردار ہے۔ اس آباد اور عہدساز جامعہ کی بنیاد شہرہ آفاق مفکراسلام اور بلوچستان کے مشہور عالم دین حضرت مولانا عبدالعزیز سربازی نے رکھی جو ابهی تک ترقی کی منازل طے کرتا چلا آرہاہے۔

مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ کے مختصر سوانح حیات
مولانا عبدالعزیز رحمة الله علیه کے والد گرامی مولانا قاضی عبداللہ سربازی تھے جن کا شمار علاقے کے ممتاز اور سرگرم علماء میں ہوتا تھا۔ مولانا عبداللہ دعوت و ارشاد اور حق گوئی کے حوالے سے مشہور تھے جنھوں نے ذکری فرقہ، بدعتیوں اور قبرپرستوں کے خلاف جہاد کرکے اس راہ میں شدید مشکلات کا بھی سامنا کیا۔ آپ نے اپنی پیہم کوششوں سے راہ حق و حق‌پرستی سے رکاوٹوں کو دور کیا۔
مولانا عبدالعزیز رحمه‌الله کی پیدائش 1295 ہجری شمسی (1916ء) کو ایرانی بلوچستان کے ضلع سرباز کی ایک بستی ’’دپکور‘‘ میں ہوئی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کرنے کے بعد سخت مشکلات و پریشانیوں کے باوجود ہندوستان کا رخ کیا اور بر صغیر کی معروف دینی درس‌گاہ دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا۔
بانی دارالعلوم زاہدان مولانا عبدالعزیز نے درس نظامی کے اکثر درجات دارالعلوم دیوبند میں‌ پڑھنے کے بعد اعلی تعلیم کے لیے مدرسہ امینیہ دہلی کا انتخاب کیا۔ مولانا نے مفتی کفایت اللہ رحمہ اللہ جیسی شخصیات سے استفادہ کرکے “مدرسہ امینیہ دہلی” سے سند فراغت حاصل کی۔
مولانا عبدالعزیز اپنی بے‌انتہا ذکاوت اور قابلیت کی وجہ سے اساتذہ کی توجہات سمیٹنے میں کامیاب ہوئے تھے چنانچہ مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمه‌الله نے انھیں ” مفتی بلوچستان” کے لقب سے نوازا۔ دہلی میں اپنے قیام کے دوران آپ نے دعوت و تبلیغ کے بانی مولانا محمدالیاس رحمه‌الله سے ملاقات کرکے ان سے بھی استفادہ کیا۔
علوم نبوت کے سرچشموں سے اپنی علمی پیاس بجھانے کے بعد 1943ء میں آپ وطن واپس ہوکر دعوت و ارشاد کا آغاز کیا اور کمرٍ ہمت باندھ کر عوام کو توحید، اسلامی اخلاقیات اور عبادات کی طرف دعوت دینا شروع کیا۔
اپنے والد کی نگرانی میں ایک عرصہ تک بلوچستان میں اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کرنے کے بعد فریضہ حج ادا کرنے اور حرمین شریفین کی برکات سے مستفید ہونے کی نیت سے آپ نے سرزمین وحی کا رخ کیا۔ جب مدرسہ صولتیہ(1) کے ذمہ داروں کو آپ کی موجودگی کا علم ہوا تو انہوں نے بانیء دارالعلوم سے درخواست کی کہ اپنے علوم و فیوض سے مدرسہ صولتیہ کے طلباء کو بہرہ‌ور فرمائیں۔ مولانا عبدالعزیز نے دو سال تک حرم مکی کے انوار و برکات سے استفادہ کرکے صولتیہ کے طلبہ کو بھی فیض‌یاب کرتے رہے۔ صولتیہ کے اساتذہ و دیگر ذمہ‌داران مولانا سے بے حد متاثر ہوئے۔ آپ کا مکۃ المکرمۃ میں مزید قیام کا ارادہ تھا مگر والد کے خط نے آپ کو بلوچستان کی طرف روانہ کرنے پر مجبور کیا۔ مولانا عبداللہ نے خط کے ذریعہ اپنے فرزند ارجمند سے کہاتھا وہ اپنے پسماندہ علاقہ میں دینی خدمات انجام دینے کو حرمین شریفین میں قیام پر ترجیح دیں۔
مولانا عبدالعزیز نے امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور دعوت و اصلاح کو ترجیح دی۔ آپ نے لوگوں کے روزمرہ اختلافات اور قبائلی تنازعات کے تصفیے پر اپنی توجہ مرکوز کردی۔
کچھ عرصے کے بعد آپ نے اپنے آبائی علاقہ’’دپکور‘‘میں ایک دینی مدرسے کی بنیاد ڈالی اور مدرسے کے بانی و مہتمم کی حیثیت سے بعض دیگر علماء کے ساتھ تدریس میں مصروف ہوگئے۔
اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ 1956ء میں والد کے علاج کے غرض سے آپ نے ایرانی بلوچستان کے دارالحکومت زاہدان کا رخ کیا اور ایک مہینے تک “زاہدان” میں قیام‌پذیر ہوئے۔ زاہدان کے سرکردہ افراد اور خیرخواہ شخصیات نے مولانا کی امت کے لیے درد و فکر اور دلسوزی دیکھ کر اس سے مثبت اثرلیا اور آپ کےشمع وجود کے گرد حلقہ‌زن ہوئے۔ شہر کی معزز و دوراندیش شخصیات نے قاضی عبداللہ سے درخواست کی کہ وہ اپنے فرزندِ ارجمند کو زاہدان میں قیام کی اجازت دیں اور والد کی موافقت کے بعد مولانا کو بھی شرح صدر ہوا۔
آپ نےعلم و معرفت کے روشن چراغوں سے جاہلانہ رسوم و رواج وخرافات پرستی کی تاریکیوں ‌کا خاتمہ کردیا۔ جہالت، بدعات، تنازعات اور نادانی کے گرداب میں گرفتار ”دزآپ” مولانا کی انتھک محنتوں اور شفقت و درد سے بھرے مواعظ‌ کی بدولت انوار دین و ایمان سے آشنا ہوا اور لوگوں کی زندگیاں بدلنے لگیں۔

دارالعلوم زاہدان کا سنگ بنیاد
1956ء میں مولانا عبدالعزیز رحمہ‌اللہ نے مستقل طور پر زاہدان میں رہائش اختیار کی اور اپنی اصلاحی و دینی سرگرمیوں کو مزید تیز کردیا۔ معاشرے کی علمی و دینی پسماندگی دیکھ کر مسلمانوں کے بچوں کو اسلامی علوم سے آشنا کرنے کے غرض‌ سے آپ دینی مدرسہ بنانے کی سوچ میں پڑگئے تھے۔ اس زمانے میں زاہدان کی مرکزی جامع مسجد (مسجدعزیزی) تھی جو چھوٹی ہونے کے باوجود جمعہ کے دن نمازیوں کی کمی سے نالاں تھی۔ جامع مسجد کے ساتھ چند چھوٹے کمرے بھی بنائے گئے تھے۔ جمعے کی امامت “قاضی شاہ محمد” مرحوم کرتے تھے جو مسجدکے پڑوس میں رہائش‌پذیر طلبہ کو پڑھا بھی رہے تھے۔
قاضی شاہ محمد کی وفات کے بعد مولانا عبدالعزیز جامع مسجد (موجودہ مسجدعزیزی) میں قیام پذیر ہوئے اور پوری یکسوئی کے ساتھ دعوت واصلاح کے عظیم کام میں مصروف ہوگئے۔ اس دوران مولانا عبدالحمید دامت برکاتہم جو درس نظامی سے فارغ التحصیل ہوکر واپس زاہدان تشریف لاچکے تھے، مولانا عبدالعزیزکی خواہش پر تدریس سے وابستہ ہوئے۔
کچھ عرصے کے بعد مولانا عبدالعزیز(رح) نے مدرسہ کو دوسری جگہ منتقل کرنے کا ارادہ کیا۔ نئی جگہ کے بارے میں دو رائے سامنے آئیں۔ بعض لوگوں کی خواہش تھی یہ مدرسہ قدیم عیدگاہ کے ساتھ قائم ہوجائے جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا تھا مدرسے کی بنیاد زاہدان کے مغربی علاقہ “کوہ تیراندازی” کے پاس ڈالی جائے۔ استخارہ و قرعہ‌اندازی کے بعد کوہ تیراندازی کے دامن میں مدرسہ بنانے کے حامی جیت گئے۔ لوگوں نے بلاتاخیر ایک مناسب جگہ تیار کرکے مولانا کے حوالے کردی۔ دیوار بناکر مدرسے کی حدود کا تعین کیاگیا اور مولاناعبدالحمید زیدمجدہم کے لئے ایک مکان تعمیر کیاگیا۔
مدرسے کی نئی عمارت شہر سے باہر ایک ویران اور غیرآباد علاقے میں واقع ہوچکی تھی۔ وہاں کسی کا گھر تھا نہ “جامع مسجدمکی” اور مشہور زمانہ “خیابان خیام” کا نام و نشان تھا۔ 1971ءکے ایک یادگار دن میں جامع مسجد (عزیزی) کے مدرسے سے تمام طلباء “دارالعلوم زاہدان” منتقل ہوئے۔ دارالمطالعہ کی موجودہ جگہ پر چھوٹی سی مسجد تعمیر کی گئی جس میں طلبہ اور مدرسے کے آس پاس رہنے والے لوگ نماز پڑھتے تھے۔
ابتدامیں طلبہ کی تمام ضروریات عوام کے ذریعے پوری ہوتی تھیں۔ گذرایام کے ساتھ ساتھ حالات میں بہتری آئی۔ مولاناعبدالحمید دامت برکاتہم کے گھر میں روٹی پکتی تھی اور دو وقت کا کھانا بھی وہیں تیار ہوتاتھا۔ اس زمانے میں طلبہ کی تعداد 60سے 80 کے درمیان تھی۔ مولانا یارمحمد رخشانی، مولانا غلام محمد (حافظ محمداسلام کے والدماجد)، مولانا مفتی خدانظر رحمہم‌اللہ، مولانا نذیراحمد سلامی، حافظ قاری خدابخش اور حضرت شیخ‌الاسلام مولاناعبدالحمید زیدمجدہم طلبہ کو پڑھاتے تھے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ دارالعلوم زاہدان کی منتقلی کے بعد مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ کی حیات ہی میں جامعہ کے اہتمام و ادارت کا کام شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کو سونپ دی گئی تھی۔ آپ نے جامعہ اور اس کی شاخیں چلانے کے لیے ہمیشہ حکومتی امداد مسترد کیاہے اور یہ عظیم جامعہ محض عوامی امداد و تعاون پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھا ہوا ہے۔
حضرت شیخ الاسلام دامت برکاتہم سے کئی مرتبہ سنا گیاہے کہ انہوں نے حرمین شریفین اور اجابت دعا کی مخصوص جگہوں خاص طورپر میدان عرفات میں جامعے کی ترقی، نشو ونما اور اس علمی مرکز کی مقبولیت کے لئے بہت دعا فرمائی۔ شہسوار قافلہ حق کی دعاؤں، اخلاص و للہیت اورشب وروز کی کاوشوں کی برکت سے جامعہ دارالعلوم زاہدان کاشمار ایران سمیت پورے خطے کے ممتاز اور مایہ ناز دینی مدارس میں ہونے لگا۔؎
کعبہ را ہردم تجلی مے فزود آن ز اخلاصات ابراہیم بود

مولاناعبدالعزیز کی بیماری اور سانحہ ارتحال
مولانا عبدالعزیز 1981ء میں مرض قلب میں مبتلا ہوئے۔ دوستوں کے اصرار اور ڈاکٹروں کے مشورے پر علاج کیلئے آپ انگلینڈ تشریف لے گئے۔ کچھ افاقہ ہونے کے بعد واپس وطن آگئے۔ لیکن ڈیڑھ سال کے بعد دوبارہ طبیعت خراب ہوگئی اور چارمہینے تک آپ بستر بیماری سے اٹھ نہ سکے۔

لندن میں قیام کے دوران آپ کو گردوں کی تکلیف محسوس ہوئی۔ ایران واپس آنے کے بعد ڈاکٹرز کے مشورے پر گردے کی پیوندکاری کے لئے آپ نے امریکا کا رخ کیا۔
امریکی ڈاکٹروں نےاس ادھیڑ عمری میں گردے کی پیوندکاری کو غیرسودمند قرار دیا۔ ریاست کیلفرنیا میں چند دن قیام کے بعد آپ واپس ایران آگئے۔ علاج اور خون کی صفائی کیلئے کئی دفعہ تہران اورمشہد تشریف لے گئے۔
مولانا عبدالعزیز اپنی بابرکت عمر کے آخری ایام میں ڈائلز کے لئے مشہد میں رہائش پذیرہوئے اور 1987ء میں مشہد ہی میں موت کے منادی کو لبیک کہہ کر خالق حقیقی سے جا ملے۔ رحمہ اللہ رحمۃواسعۃ واسکنہ جناتہ
بانی دارالعلوم زاہدان مولانا عبدالعزیز کے سانحہ ارتحال کے بعد مسجد و مدرسہ کو سنبھالنے کی حساس اور سنگین ذمہ داری مولانا عبدالحمید دامت برکاتہم پر آگئی۔ مولانا عبدالحمید کی سنجیدہ کوششوں اور مسلسل محنتوں کی برکت سے تھوڑے ہی عرصہ میں قابل دید ترقی اور مثبت تبدیلیوں نے دارالعلوم زاہدان کو چار چاند لگادیا۔
1979ء کے انقلاب کے بعد مناسب اسلامی ماحول پیداہونے کی وجہ سے بتدریج طلبہ کی تعداد بڑھنے لگی۔ 1985ء میں مولانا مفتی محمدقاسم قاسمی صاحب حضرت شیخ الاسلام حفظہمااللہ کی دعوت پر دارالعلوم زاہدان تشریف لائے اور طلبہ کی تعلیم وتربیت کی ذمہ داری سنبھالنے لگے۔ مفتی قاسمی صاحب کی تشریف‌‌آوری کے بعد ان کی خداداد صلاحتیوں اور مخلصانہ کاوشوں کی بدولت جامعہ کی فضا میں علمی و ثقافتی تبدیلی آگئی اور عربی زبان کی طرف رغبت دیکھنے میں آئی۔
طلبہ کی تعداد کا گراف اوپر کی طرف جانے لگا اور جامعہ کی چاردیواری ناکافی نظر آئی۔ چنانچہ حضرت شیخ الاسلام مولاناعبدالحمید کی ہمت پر آس پاس کے مکانات کو خرید کر جامعہ کی تعمیرنو میں انہیں دارالعلوم کی حدود میں شامل کیاگیا۔

ذیل میں دارالعلوم زاہدان کے بعض شعبوں کامختصر تعارف پیش خدمت ہے

ادارت و اہتمام
تمام شعبہ جات کی سرپرستی حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید دامت برکاتہم فرماتے ہیں۔ آپ صحیح بخاری کی تدریس کے ساتھ ساتھ ایک مدبر مہتمم کی حیثیت سے جامعہ کے تمام امور کی نگرانی بھی فرماتے ہیں۔
خلاؤں کو پر کرنے اور شعبوں کی مزید ترقی کے لیے ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ “دفتر مدیریت” میں امور جامعہ کے علاوہ عامۃ الناس کے مسایل و مشکلات کی شنوائی بھی ہوتی ہے۔ بہت سارے اہم سیاسی مسائل اور قبائلی تنازعات کے حل کے بارے میں یہاں فیصلہ ہوتاہے۔
ادارتی امور
اداراتی امور کے دفتر کی اہم ذمہ داریوں میں جامعہ کے ملازمین اور عملہ کے امور اور تعلقات، جامعہ کے حوالے سے داخلہ و خارجہ ہم آہنگی و اتفاق پیدا کرنا، طلبہ کی رہائشی، رفاہی اور معیشتی مسائل کا حل شامل ہے۔
اسی طرح اساتذہ و ملازمین کی تنخواہوں کی نگرانی اور حسب ضرورت ان کی رہائش کا مسئلہ حل کرنا بہی ادارتی امور کے ذمہ دار کا کام ہے۔

ناظم تعلیمات
درج ذیل کام نائب مہتمم برائے تعلیمی امور کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں: جدید طلبہ کے لیے داخلہ کی منصوبہ بندی، اسباق کی تقسیم، درسی نصاب کی ترتیب و تنظیم، طرق تدریس کی نگرانی، تمام درجات کی نگرانی اور درس‌گاہوں کی دیکھ بھال کے لیے نگران متعین کرنا، تکرار و مطالعہ اور دروس کی نگرانی، امتحانات کی نظامت، مختلف میدانوں میں طلبہ کے درمیان مقابلوں کا انعقاد، درسی امور میں اساتذہ و طلبہ کے مسائل کا حل، درسی کتب اور ضروری کتابچوں کی فراہمی، تعلیمی امور میں “شورائے ہم آہنگی مدارس” کے منظور شدہ قوانین کے اجرا کی نگرانی، اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ کے لیے خصوصی کلاسوں (سمرکیمپس) کا انعقاد، انگریزی اور کمپیوٹر سمیت دیگر ضروری مواد کے کورسز منعقد کرانا اور تعلیمی امور میں موجود کمزوریوں کے بارے میں تحقیق کرنا اور شورائے مدارس اہل سنت کو آگاہ کرنا ناظم تعلیمات کی اہم ذمہ داریوں میں ‌سے ہیں۔
یہ بات قابل ذکر ہے دارالعلوم زاہدان میں درس نظامی کی تعلیم نو سالوں پر مشتمل ہے جبکہ شوافع اور عربی کی کلاسیں درجہ سادسہ تک ہیں، بعد میں سب کلاسیں مدغم ہوجاتی ہیں۔

دارالافتاء
1984ء (1404ھ) میں دارالافتاء دارالعلوم زاہدان نے مفتی خدانظر رحمه‌اللہ کی نگرانی میں باقاعدہ اپنا کام شروع کیا۔ عوام کے شرعی سوالات کا جواب پہلے زبانی دیا جاتا تھا پھر تحریری طور پر فتوے صادر ہونے لگے۔ تمام فتاوی کا ریکارڈ ترتیب کے ساتھ بنایا گیا۔ جب شعبہ تخصص فی‌الافتاء قائم ہوا تو ترتیب و حفاظت کا کام اس شعبہ کے حوالے کیا گیا۔ بعد میں مفتی خدانظر رحمه‌الله کی ہمت و محنت سے پرانے صادر ہونے والے فتاوی فقہی ابواب کی ترتیب سے زیور طبع سے آراستہ ہوکر “محمودالفتاوی” (فتاوائے دارالعلوم زاہدان) کے عنوان سے کتابی شکل میں شائع ہوئے۔ اب تک قریبا محمودالفتاوی کی چار جلدیں شائع ہو چکی ہیں اور دیگر حصے بھی تدوین و ترتیب کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔

تخصص فی الافتاء
1991ء (1411ھ) میں معاشرے کی شدید ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے دارالعلوم زاہدان کے ذمہ داروں نے اس شعبہ کا آغاز کیا جس کا مقصد بعض منتخب اور با صلاحیت فضلاء کو فتوا نویسی کی تربیت اور فقہ وافتاء کے میدان میں انہیں مہارت حاصل کرنے کا موقع فراہم کرنا تھا۔ نوجوان فضلائے کرام نے مفتی خدانظر رحمه‌الله اور مفتی محمدقاسم قاسمی صاحب کی نگرانی میں فتوانویسی اور متعلقہ امور میں حصول علم کا سفر آغاز کیا۔ مختصر عرصے میں اس شعبہ نے باقاعدہ مرتب درسی نصاب کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھا اور اس کا نصاب دارالعلوم زاہدان کے نصاب کا حصہ بن گیا۔

تخصص فی الحدیث
تعلیمی سال 28-1427ھ میں تخصص فی الحدیث کا اجراء ہوا جس کے افتتاحی پروگرام میں مشہور محدث جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاون کے شعبہ تحقیق وتخصص فی الحدیث کے نگران مولانا عبدالحلیم نعمانی صاحب نے شرکت فرمائی۔ جیسا کہ شعبہ کے نام سے واضح ہے اس تخصص کا مقصد منتخب فضلائےکرام کو فن حدیث اور اس کے متعلق دیگر فنون میں مہارت حاصل کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ تجربہ کار اور باصلاحیت اساتذہ کی نگرانی میں تخصص فی الحدیث کے طلبہ علمی کاوشوں میں مصروف ہیں اور اعلی علمی خدمات سرانجام دینے کے قابل بن رہے ہیں۔

تخصص فی الدعوة والارشاد
زمانہ طالبعلمی ہی سے دینی مدارس کے طلبہ حصول علم کےلیے کوشاں ہیں تا کہ اپنی اصلاح کے علاوہ امت دعوت و اجابت کو بھی صحیح راستے کی راہ دکھائیں۔ دعوت و ارشاد اور امت کی اصلاح ہی علم دین کے حصول کا داعیہ ہے۔ اس پرفتن دور میں اسلام اور مسلمانوں سمیت پوری انسانیت کو خطرناک چیلنجز کا سامنا ہے۔ خودغرضی اور مادیت پرستی کا دور دورہ ہے۔ ایسے حالات میں دعوت وارشاد کی باریکیوں اور اصول وضوابط سے آگاہ علمائے کرام ہی امت کی صحیح رہ نمائی کرسکتے ہیں۔
دارالعلوم زاہدان نے اسی ضرورت کے پیش نظر “تخصص فی الدعوة والارشاد” کا آغاز کرکے عالمانہ دعوت و تبلیغ کی راہ ہموار کی ہے۔ اس تخصص میں فارغ التحصیل طلبہ کو دعوت و ارشاد کے ممکنہ طریقوں سے علمی و عملی طور پر آشنا کیا جاتاہے۔ فتنوں اور باطل کی شرانگیزیوں سے انہیں واقف کیا جاتاہے جس کے بعد وہ ہر چیلنج سے نمٹنے کےلیے پوری طرح تیار ہوتے ہیں۔ دیگر تخصصات کی طرح تخصص فی الدعوة والارشاد کا دورانیہ بھی دو سال ہے۔
تخصص فی التفسیر
قرآن پاک کے ترجمہ و تفسیر کے دورے ویسے شعبان و رمضان میں ہر سال منعقد ہوتے ہیں لیکن تخصصی انداز میں قرآنی علوم پر دسترسی کے حصول کے لیے اس تخصص کا آغاز ہواہے۔

تخصص فی الادب العربی
اس تخصص میں طلبہ کو عربی ادب اور تاریخ کی باریکیوں سے روشناس کرایا جاتاہے۔ اس شعبے میں دیگر تخصصات کی طرح صرف دینی جامعات کے فضلا ہی شرکت کرسکتے ہیں جو عربی بول چال پر مہارت رکھتے ہیں۔
تخصص فی التجوید والقراءات
اس یکسالہ تخصص میں طلبہ تجوید قرآن میں تخصص حاصل کرکے قراءات کے موضوع پر موجود کتابوں کو سبقا پڑھتے ہیں۔ اس شعبے کا قیام سنہ دوہزار عیسوی میں عملی ہوا۔

دورہ صحافت
کسی بھی معاشرے میں صحافت کی اہمیت روز روشن کی طرح واضح ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر دارالعلوم زاہدان کے زیرانتظام یکسالہ دورہ صحافت و فارسی ادب منعقد ہوتاہے۔ اس شعبے سے فارغ ہونے والے علما مختلف رسالوں اور ویب سائٹس میں سرگرم عمل ہیں۔ اس شعبے کی نگرانی قسم التخصصات و الدرسات العلیا پر ہے۔

القسم العربی
عربی زبان پر مزید توجہ دینے اور طلبہ کو عربی ادب میں ماہر بنانے کے لیے 1421 (2000ئ) میں دارالعلوم زاہدان کے شعبہ القسم العربی قائم ہوا۔ اس شعبے کا نام اب ’معہد اللغة العربیة و الدراسات الاسلامیة‘ میں بدل چکاہے جس کا نصاب درسی مستقل ہے اور درجہ سادسہ تک کی کلاسوں کو شامل ہے۔

سہ ماہی رسالہ” ندائے اسلام”
دیگر شعبوں کے ساتھ صحافت اور میڈیا کے میدان میں بھی دارالعلوم زاہدان خدمات انجام دینے کو اپنی ذمہ‌داری سمجھتاہے۔ عوام کی روزمرہ زندگی میں میڈیا کا موثر کردار ناقابل انکار ہے۔ اسی لیے دارالعلوم زاہدان کےمخلص ذمہ داروں کی مسلسل کوششوں کے نتیجہ میں 2000ء کے ابتدائی دنوں میں ایران کی وزارت اطلاعات ونشریات (فرہنگ وارشاد) کی طرف سے سہ ماہی “ندائے اسلام” کو اشاعت کی اجازت مل گئی اور اپریل 2000ء میں اس کا پہلا شمارہ شائع ہوگیا۔ فارسی اور انگریزی میں شائع ہونےوالا یہ رسالہ جلد ہی ایران اور خطے کے دیگر ممالک میں اپنے قارئین کا حلقہ وسیع کرنے میں کامیاب ہوا۔ اس رسالے کی سرکولیشن دس سے پندرہ ہزار ہے۔
’’ندائے اسلام‘‘ کی پالیسی حقیقت‌پسندی، مسایل کے بیان میں اعتدال و میانہ‌روی، افراط وتفریط سے گریز اور مخصوص سیاسی رویوں اور رجحانات سے دوری کرنا ہے۔ نیز خالص اسلامی عقائد سے دفاع اور علمی و فکری جہاد کی راہ میں کوشش کرنا ادارے کی ذمہ داری ہے۔ ہر تین مہینے کے بعد شائع ہونے والے رسالے کا دفتر دارالعلوم زاہدان کے ادارتی دفاتر کی عمارت میں واقع ہے۔

الصحوة الاسلامیہ میگزین
عربی زبان میں ماہنامہ الصحوة الاسلامیة کا شمار ایران کے معیاری رسالوں میں ہوتاہے جو اہل سنت ایران سمیت پورے عالم اسلام کے حالات پر بے لاگ تجزیوں اور مختلف ادبی و تاریخی نکات پر مشتل ہے۔ اس رسالے کے اکثر مضامین سنی آن لائن ویب سائٹ پر دوبارہ شائع ہوتے ہیں اور پی ڈی ایف فائل بھی دستیاب ہے۔

تربیتی امور میں مشاورت
ایک ماہر استاذ کی نگرانی میں طلبہ اور عام نوجوانوں کو تربیتی و اصلاحی امور میں مشاورت فراہم کی جاتی ہے اور ان کی رہنمائی کے لیے یہ دفتر سرگرم رہتاہے۔

محسنین ٹرسٹ
دوہزار دو میں ’موسسہ خیریہ محسنین‘ کے نام سے ایک فلاحی ادارہ قائم ہوا جس کی سرپرستی دارالعلوم زاہدان کررہاہے۔ نادار لوگوں سے تعاون، یتیموں، بیواووں اور مدارس و جامعات کے طلبہ سے بطور خاص تعاون کرنا اس شعبے کی اہم خدمات میں شامل ہے۔ منشیات سے نجات دلانے کے لیے بھی یہ شعبہ سرگرم ہے اور عنقریب ایک اسپتال کے قیام بھی اس کے منصوبوں میں داخل ہے۔

مجمع فقہی اہل‌سنت ایران
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید اور مفتی خدانظر رحمه‌الله کے علمی شاہکاروں اور نمایاں خدمات میں سے ایک “مجمع فقہی اہل سنت ایران” کی تاسیس ہے جس کا دفتر دارالعلوم زاہدان میں واقع ہے۔
اس مجلس کی بنیاد 1998ء (1418ھ) میں ڈالی گئی جس کے ارکان میں ایران کے مختلف علاقوں سےتعلق رکھنے والے علماء و فقہاء شامل ہیں۔ معاشرے کو در پیش جدید مسائل کا حل اس مجلس میں بحث وتحقیق کے لیے پیش کیا جاتاہے چنانچہ ماضی اور معاصر کے فقہا کی آراء اور کتاب وسنت کی روشنی میں فتوے صادر ہوتے ہیں۔
ایرانی بلوچستان کے علماء و فقہا کی دعوت پر اس مجلس کی تاسیس ہوئی اور بعد میں خراسان، گلستان، صوبہ فارس سمیت ایران کے جنوبی علاقوں سے تعلق رکھنے والے علمائے احناف وشوافع کو رکنیت دی گئی۔ اب تک یہ مجلس قابل ذکر کامیابیاں‌ حاصل کر چکی ہے۔

شورائے ہم‌آہنگی مدارس (اتحاد مدارس اہل سنت سیستان وبلوچستان)
دینی مدارس اور طلبہ کی تعداد مین اضافہ ہونے کے ساتھ‌ساتھ دینی مدارس کے درمیان ہم آہنگی و تعلق کا فقدان بڑھنے لگا، اس خلا کو پر کرنے کے علاوہ طلبہ کی تعلیمی صلاحتیوں میں نکہار پیدا کرنے کو مدنظر رکھ کر اس ادارے کی تاسیس کی گئی۔ چنانچہ مولاناعبدالعزیز، مولانا عبدالحمید اور مولانا محمدیوسف حسین‌پور کی محنتوں کے نتیجے میں “شورائے ہم آہنگی مدارس اہل‌سنت سیستان وبلوچستان” کا اجرا ہوا جس کے بنیادی مقاصد مدارس کے درمیان تعلیمی، تربیتی اور ثقافتی امور میں ہم آہنگی پیدا کرنا اور کیفیت کے اعتبار سے مدارس کی نشو ونما تھے۔
انقلاب 1979ء سے پہلے تشکیل پانےوالے اس ادارے کے ارکان شروع میں صرف چھ تھے مگر بتدریج دیگر مدارس نے بھی رکنیت حاصل کرلی چنانچہ ایرانی صوبہ سیستان وبلوچستان کےتمام معتبر دینی مدارس اس شورا کے رکن ہیں جن کی تعداد پچاس سے زیادہ ہے۔ شورائے ہم آہنگی مدارس اہل‌سنت کا مرکزی دفتر دارالعلوم زاہدان میں واقع ہے۔

مرکز صحت عامہ
صحت کے شعبے میں دارالعلوم زاہدان کے زیر اہتمام ’ام المومنین خدیجة الکبری کلینک‘ 2004ءمیں قائم ہوا۔ اس خیراتی مرکز صحت میں جامعہ کے اساتذہ وطلبہ کے علاوہ دیگر شہریوں کو بھی خدمات فراہم کی جاتی ہے۔

دفتر خیرین
دارالعلوم زاہدان کا ایک اہم سرگرم شعبہ ’دفتر خیرین‘ ہے جو عوامی چندوں کو اکٹھا کرتاہے۔ اس شعبے کے تحت شہر کے متعدد شاپنگ سینٹرز اور تجاری مراکز میں بکسز نصب ہیں۔ اسی شعبے سے جامع مسجدمکی اور دارالعلوم زاہدان کے تعمیراتی کاموں کے اخراجات کا انتظام ہوتاہے۔

مدرسۃ البنات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا
خواتین اور بچیوں کی دینی تعلیم معاشرے اور لوگوں کی ضروریات میں سے ہے۔ غیراسلامی تہذیبوں کی یلغار کا سد باب اور خواتین کو شرعی مسایل سے آشنا کرنا توجہ طلب مسئلہ ہے جس کے لیے بڑی عرق‌ریزی سے منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے۔
اللہ تعالی کے فضل وکرم سے اور حضرت شیخ‌الاسلام کی اوالعزمی کی برکت سے 1990ء مطابق 1410 ھ معاشرے کی یہ ضرورت مدرسۃ البنات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شکل میں پوری ہوئی۔
جب مسلمان بچیوں کا رجوع زیادہ ہونے لگا تو مدرسۃ البنات کے ذمہ دار حضرات کو شہر زاہدان کے مختلف علاقوں میں شاخیں کھولنی پڑی۔ عوام کے پرجوش استقبال کی وجہ سے اس وقت زاہدان میں اس ادارے کی سات شاخین قائم ہیں۔

مکاتب اور شاخیں
ویسے تو روحانی طور پر بےشمار دینی ادارے اور مدارس دارالعلوم زاہدان کے نقش قدم پر چل رہے ہیں مگر براہ راست مکمل طور تین رہائشی دینی مدرسے جامعہ کے زیر اہتمام خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ “مدرسہ دینی مولانا عبدالعزيز” جو زاہدان شہر میں واقع ہے اور “مدرسہ دینی کهنوک” جو زاہدان کے نواحی علاقے میں ہے۔ دارالعلوم امام اعظم ابوحنیفہ جو سیستان کے عظیم آباد گاوں میں واقع ہے، خود کئی شعبوں کی سرپرستی کر رہاہے۔
غیر رہائشی مکاتب قرآنی کی تعداد 150 سے زائد ہے جو دارالعلوم کے زیر انتظام مصروف عمل ہیں۔ “دفتر امور مکاتب” جو دارالعلوم کے ادارتی دفاتر کی عمارت میں واقع ہے انہی مکاتب قرآنی کے امور و مسایل کی نگرانی کےلیے ہے۔ ان مکاتب کا جال پورے صوبے میں پھیلا ہوا ہے۔ جن میں مسلمان بچے مفت میں اعلی دینی و اسلامی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔

دفتر برائے امور طلبہ (عصری جامعات کے طلباء)
دارالعلوم زاہدان کا ایک اہم اور مثبت اقدام اس انقلابی شعبے کا قیام ہے۔ اس شعبہ کا مقصد دینی مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کے طلبہ کو ایک دوسرےسے قریب کرنا اور باہمی تعاون کی فضا قائم کرناہے۔ یونیورسٹیوں کے طلبہ کا دارالعلوم زاہدان سے محبت اور اس کے پرسکون علمی ودینی ماحول سے پرجوش استقبال اور شرعی مسائل کے بارے میں آگاہی حاصل کرنے کاجذبہ دیکھ کر جامعہ کے منتظمین نے ایک منظم شعبے کے قیام کا ارادہ کیا۔
1990ء ہی سے اسٹوڈنٹس کےلیے خصوصی کاوشوں کا آغاز ہوا۔ مسجد عزیزی (جامعہ کی پرانی جگہ) میں ایک لائبریری اور آڈیوبینک قائم ہوئی۔ درس قرآن کے ہفتہ وار مجالس کا آغاز ہوا اور حضرت شیخ الاسلام کی تاکید کےبعد ان طلبہ کی دینی ترقی کے غرض سےایک مستقل شعبہ قائم ہوا۔ اس شعبہ کا کام دارالعلوم اور یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ واساتذہ کےدرمیان تعلق قائم کرناہے۔ غیر زاہدانی طلباء جو زاہدان کی مختلف یونیورسٹیز میں زیر تعلیم ہیں کےلیے جامعہ کےقریب رہائش‌گاہ کرایے پر حاصل کرلی گئی۔ رہائش گاہ کی عمارت دارالعلوم سے قریب ہونےکی وجہ سے یہ طلباء‌ دارالعلوم اور جامع مسجد مکی کی روحانی و پرسکون فضا سے بہ آسانی استفادہ کرسکتےہیں۔ یہ طلباء تاریخ ،عقیدہ، تفسیر اور سیرت کی کلاسوں میں شرکت کرتےہیں۔ مدارس اور یونیورسٹیز کے طلبہ کا سالانہ مشترکہ اجلاس احاطہ دارالعلوم زاہدان میں منعقد ہوتاہے۔

سنی آن‌لائن ڈاٹ یو ایس
اسلام کی تبلیغ اور عوام وخواص سے رابطے کےلیے جدید آلات کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
انٹرنیٹ کی وسیع دنیا معلومات کےتبادلے اور اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کا آسان ترین ذریعہ ہے۔ دنیا کو ایک بستی میں تبدیل کرنےوالے اس جام جم کی اہمیت کو دیکھ کر “قدیم نافع و جدید صالح” کی پالیسی پر گامزن دارالعلوم زاہدان نے اس رنگ بہ رنگ دنیا میں آج سے دس سال پہلے قدم رکھا اور ایرانی اہل سنت کی آفیشل ویب سائٹ کا اجراء کیا۔
سنی آن‌لائن (www.sunnionline.us) دنیا کی چار اہم زبانوں (عربی، فارسی، اردو اور انگریزی) سمیت بلوچی زبان میں اپ ڈیٹ ہوتی ہے۔
مختلف علمی اور مذہبی موضوعات کےعلاوہ عالم اسلام کی تازہ ترین صورتحال سے باخبر رہنے اور مستفید ہونے کےلیے روزانہ سینکڑوں صارفین اس ویب سائٹ کا وزٹ کرتےہیں۔
احاطہ دارالعلوم زاہدان میں واقع “سنی آن‌لائن” کے منصوبوں میں ترکی، روسی اور پشتو زبانوں کو ویب سائٹ کی لینگویج سیلیکٹ آپشن میں اضافے کا عزم ہے۔
مرکزی پبلک لائبریری
دارالعلوم زاہدان کی لائبریری کا شمار ایرانی اہل سنت کی بڑی اور ممتاز لائبریریوں میں ہوتاہے جس میں بیس ہزار جلدوں سے زائد کتابیں مختلف موضوعات اور زبانوں میں دستیاب ہیں۔
موجود کتابوں کی فہرست کمپیوٹر میں موجود ہے۔ لائبریری کے منتظمین متعدد موضوعات میں کتب کی فراہمی کےلیے کوشاں ہیں۔
شعبہ تحقیق و ترجمہ
ایران میں اہل سنت برادری کو بعض کتابوں اور موضوعات کی اشد ضرورت کےپیش نظر دارالعلوم زاہدان کے اساتذہ و منتظمین نے شعبہ مرکز تحقیق وترجمہ کی سنگ بنیاد ڈالی۔
2003ء (1424ھ) میں قائم ہونے والا یہ مرکز مختصر عرصے میں کمال وترقی کے مدارج طے کرنے میں کامیاب ہوا۔
انتشارات (مکتبہ) صدیقی
قابل قدر خدمات سرانجام دینے والا انتشارات صدیقی دارالعلوم زاہدان کا ذیلی شعبہ ہے جو دینی وثقافتی کتابوں کی اشاعت کا فریضہ سرانجام دیتاہے۔ یہ ادارہ اب تک متعدد کتابیں زیورطبع سے آراستہ کرچکا ہے۔ مرکز تحقیق و ترجمہ کی شائع شدہ کتابوں کی طباعت کا کام بھی اسی ادارے کی ذمہ داریوں میں سے ہے۔

دارالقضاء و التحکیم
متعدد افراد اور قبائل اپنے تنازعات اور جھگڑوں کا تصفیہ شریعت کےمطابق کرنا چاہتےہیں اور اسی لیے دارالعلوم زاہدان کا رخ کرتےہیں۔ دارالقضاء والتحکیم اسی تقاضے کی ایجاد ہے۔ چنانچہ دارالافتاء کے ساتھ ایسے تنازعات کےحل کےلیے مستقل شعبہ قائم کیا گیا۔ جامعہ کےاحاطے میں قائم دارالقضاء و التحکیم روزانہ بیسیوں افراد کے اختلافات ختم کرنے کی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھا رہاہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
(1) یہ مدرسہ خلافت عثمانی کے دور میں قائم ہوا جس کے بانی مشہور عالم اور مناظر مولانا رحمت اللہ کیرانوی رحمه الله ہیں۔
(2) زاہدان کا پرانا نام جس کا مطلب “پانی کو اپنےاندر جذب کرنے والی زمین” ہے۔

دیدگاههای کاربران

2 تعليقات لـ “دارالعلوم زاہدان تاریخ کے آئینہ میں

  1. مولانا عمر فاروق حقانی says:

    اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمارے دینی مدارس تا قیامت سلامت رہے

  2. عبد المتين اشاعتي (اورنغ آباد) خادم جامعه اكل كوا مهاراشتر , الهند says:

    ماشاء الله تبارك الله فيكم يا أهل السنة والجماعة (إيران)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

همچنین بخوانید