آج : 6 November , 2016

حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ

حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ

یہ ہجرت نبی سے چند سال بعد کا واقعہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں کسی جگہ تشریف فرما تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقہ بنائے بیٹھے تھے اور حسب توفیق فیضانِ نبوت سے فیض پارہے تھے۔ اتنے میں گلی کے نکڑ سے ایک شخص نمودار ہوا۔ وہ تیز تیز قدموں سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب بڑھنے لگا۔ آنے والا شخص بظاہر قوی الجثہ لگتا تھا مگر کپڑوں میں پیوند لگے تھے۔ سر اور داڑھی کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ قریب آکر اس نے نہایت ادب سے سلام کیا اور پھر مجلس میں جہاں جگہ ملی، بیٹھ گیا اور نہایت توجہ و انہماک سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو سننے لگا۔ دورانِ گفتگو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’بہت سے گرد آلود، پراگندہ حال اور بکھرے بالوں والے، دو پرانی چادروں والے لوگوں کے نزدیک بالکل حقیر ہیں، لیکن جب یہ قسم کھا بیٹھتے ہیں تو اللہ تعالی ان کی قسم پوری کردیتا ہے۔ براء رضی اللہ عنہ بھی انہی لوگوں میں سے ہیں۔‘‘
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کلمات تحسین سن کر حضرت براء رضی اللہ عنہ فرط مسرت سے بے خود ہوگئے اور زبان پر تحمید و تحلیل جاری ہوگئی۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ کا تعلق قبیلہ خزرج کی شاخ نجار سے تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کا نام مالک بن نضر تھا۔ آپ خادم رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے علاتی (باپ شریک) بھائی تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا نام سمحاء تھا۔ مالک بن نضر کی دوسری بیوی حضرت ام سلیم تھیں۔ ان کا شمار جلیل القدر صحابیات میں ہوتا ہے۔ خادم رسول حضرت انس رضی اللہ عنہ انہی کے بطن سے تھے۔ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کو اللہ نے فطرت سلیمہ سے نواز رکھا تھا، اس لیے وہ ابتدائے اسلام میں ہی اسلام لے آئی تھیں۔ وہ اپنے کمسن بیٹے کو بھی کلمہ پڑھانے لگیں، تو ان کا خاوند مالک بن نضر جو کٹر مشرک تھا، وہ ان پر سخت ناراض ہوتا اور کہتا: ’’تم میرے بیٹے کو بھی بے دین کررہی ہو۔‘‘
حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اسے بہت سمجھایا مگر وہ آمادہ نہ ہوا اور ناراض ہوکر شام چلا گیا۔ وہاں کسی نے دشمنی میں اس کا قصہ تمام کردیا۔ اس طرح حضرت براء اور انس دونوں یتیم ہوگئے۔ حضرت انس کی والدہ نے تو انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم بنادیا لیکن حضرت براء بے یار و مددگار رہ گئے۔
حضرت براء رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا ذکر سیرت کی کتابوں میں نہیں ملتا، لیکن غالب گمان ہے کہ ہجرت مدینہ کے بعد مشرف بہ اسلام ہوئے۔ والد کا سایہ سر سے اٹھ چکا تھا۔ جائیداد تھی نہیں، اس لیے حضرت براء اللہ کے مہمان یعنی اصحاب صفہ میں شامل ہوگئے۔
حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کے متصل ایک چھت دار چبوترہ بنوایا تھا۔ وہاں بے گھر و بے در طلبہ قرآن و حدیث کا علم حاصل کرتے تھے۔ انہیں اصحاب صفہ کہا جاتا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے خود کو دین کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ یہ حضرات صبح و شام تحصیل علم اور یاد الہی میں مصروف رہ کر فقر و فاقہ کی زندگی گزارتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اصحاب صفہ پر بے حد مہربان تھے اور ان کی خوراک و لباس کے کفیل تھے۔ ان حضرات نے یہ طرز زندگی اپنی پسند سے اختیار کیا تھا۔ جہاد کے میدان میں یہ ہر اول دستہ ثابت ہوتے۔عام حالات میں یہ حضرات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سنتے، اس پر عمل پیرا ہوتے اور نو مسلم و کم فراغت والے مسلمانوں تک تعلیمات نبوی پہنچانے کا اہم فریضہ انجام دیتے۔
حضرت براء رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ آمد کے بعد ہی اصحاب صفہ میں شامل ہوگئے تھے۔ وہ ساتھیوں کے رنگ میں رنگ گئے۔ جھوٹا موٹا لباس ان کے زیبِ تن ہوتا اور روکھی سوکھی غذا سے جسم و روح کا رشتہ برقرار رکھتے۔ انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدمت ان کا محبوب مشغلہ تھا۔
حق و باطل کے پہلے معرکے ’’غزوہ بدر‘‘ میں حضرت براء رضی اللہ عنہ اور ان کے چچا حضرت انس بن نضر کسی وجہ سے شریک نہ ہوسکے تھے، حالانہ دونوں مخلص اور جانثار تھے۔ شاید اس کی وجہ علالت یا سفر ہوسکتا ہے۔ حضرت انس بن نضر نے اس کی تلافی غزوہ احد میں مردانہ وار لڑتے ہوئے رتبہ شہادت پاکرکی، جبکہ حضرت براء احد سے تبوک تک ہر معرکے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم رکاب رہے اوریہ سلسلہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد تک جاری رہا۔
11 ہجری میں سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خلافت کی باگ ڈور سنبھالی تو سارے عرب میں فتنۂ ارتداد کے شعلے بھڑک اٹھے۔ مرتدین میں سب سے طاقتور یمامہ کے قبیلے بنو حنیفہ کا ایک شخص مسیلمہ بن حبیب تھا جو تاریخ میں ’’مسیلمہ کذاب‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ مسیلمہ عہد رسالت کے آخری ایام میں اسلام سے دور ہوگیا تھا۔ اس نے مدینہ آکر خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے بعد خلیفہ بنائے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ خلافت تو بڑی چیز ہے، میں تجھے اپنے ہاتھ کی چھڑت تک دینا پسند نہیں کرتا، یمامہ واپس جاکر اس نے پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا:
’’میں آپ کے کام میں شریک ہوگیا ہوں، آدھا ملک میرا اور آدھا قریش کا۔‘‘
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں پیغام بھیجا:
’’ملک اللہ تعالی کا ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس کا وارث بنادے، اور آخرت کی بھلائی پرہیز گاروں کے لیے ہے۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد اس کو کھل کھیلنے کا موقع مل گیا اور بہلا پھسلا کر ایک لاکھ معتقدین کی جماعت تیار کرلی اور اسلامی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ اسے طاقت کا ایسا نشہ چڑھا کہ اسے جو بھی مسلمان مل جاتا، اس سے زبردستی جھوٹی نبوت کا اقرار کروانے کی کوشش کرتا۔ اگر وہ انکار کردیتا تو اسے اذیتیں دے دے کر شہید کرادیتا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس کی سرکوبی کے لیے حضرت عکمرہ بن ابی جہل کو مقرر کیا۔ وہ روانہ ہوئے تو مسیلمہ کی کثیر جمیعت کے پیشِ نظر حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کو مزید کمک دے کر بھیجا۔ حضرت عکرمہ نے جوش میں لڑائی شروع کردی مگر پسپا ہوئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ حضرت عکرمہ کی اس جلد بازی پر ناراض ہوئے اور پیغام بھیجا کہ واپس مت آنا، عمان کا رُخ کرو اور وہاں مرتدین سے لڑو۔ حضرت خالد رض اللہ عنہ مدینہ آئے ہوئے تھے، ان کے واپس پہنچنے تک حضرت شرحبیل بھی حضرت عکرمہ والی غلطی دہرا بیٹھے اور جنگ چھیڑدی، تاہم پیچھے ہٹنا پڑا۔
اسی دوران حضرت خالد مہاجرین و انصار کی ایک تازہ دم فوج کے ہمراہ بطاح آن پہنچے۔ ان میں براء بن مالک بھی تھے۔ جب تمام مسلمان بطاح آگئے، تب حضرت خالد سب کو لے کر مسیلمہ کی طرف بڑھے۔ اس وقت مسیلمہ کے پاس 40ہزار کا لشکر موجود تھا۔ اس کے مقابلے میں مسلمان صرف 13ہزار تھے۔ عقرباء کے میدان میں اسلامی لشکر اور باغی فوجوں کے درمیان خونریز جنگ ہوئی۔ ابن جریر طبری کے مطابق مسلمانوں کو اس سے شدید معرکہ کبھی پیش نہیں آیا۔ لڑائی کی ابتدا میں مسیلمہ کے بیٹے نے رجزخوانی کی اور قبیلے والوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا۔ اس پر قبیلے والے مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے۔
مسلمان بھی تیار تھے۔ جان ہتھیلی پر رکھ لی اور خوب پامردی سے لڑے۔ مسیلمہ کے ساتھی دیوانوں کی طرح لڑ رہے تھے۔ مسلمان بھی حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی للکار پر خود رفتہ ہوکر مقابلہ کررہے تھے۔ اسی کوشش میں حضرت قیس بن ثابت، حضرت زید بن خطاب، حضرت ابوحذیفہ، حضرت سالم اور کئی دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عہم نے مردانہ وار لڑتے ہوئے اپنی جانیں ناموس رسالت پر فدا کردیں۔ اس اثنا میں حضرت براء آگے بڑھے۔ ایسے موقع پر ان کے جسم پر لرزہ آجاتا تھا اور انہیں قابو کرنا مشکل ہوجاتا تھا۔ ان میں بلا کی قوت آجاتی اور وہ میدان جنگ میں شیر کی طرح بپھرتے۔ اس روز بھی یہی ہوا۔ انہوں نے کانپتے ہوئے مسلمانوں کو للکارا:
’’اے مسلمانو! کدھر جارہے ہو، ادھر آؤ۔ میں برا بن مالک ہوں، میری طرف آؤ۔‘‘
ان کی للکار سن کر مسلمانوں کے اکھڑتے قدم جم گئے۔ انہوں نے تازہ جوش سے دشمن پر حملہ کیا۔ اس وقت دشمن کا ایک نامی گرامی پہلوان ’حمار یمامہ‘ بھی سامنے آگیا۔ حضرت براء نے اس کے پاؤں پر وار کرکے گرانا چاہا۔ پاؤں بچانے کے چکر میں وہ لڑکھڑاتا ہوا گر پڑا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اسی کی تلوار سے اس کا کام تمام کردیا۔ لڑائی کی نہج کو دیکھتے ہوئے حضرت خالد نے اندازہ لگایا کی مسیلمہ کو ختم کیے بغیر کام نہیں بنے گا۔ چنانچہ انہوں نے ایک خونی دستہ تشکیل دیا۔ اس میں حضرت براء بھی تھے۔ یہ دستہ مسیلمہ کے پیچھے لگ گیا۔ کسی طرح اسے اس کی خبر ہوگئی۔ وہ بھاگتا ہوا ایک باغ (حدیقۃ الرحمن) میں جاگھسا۔ اس کا دروازہ بہت مضبوط تھا۔ حضرت براء نے کہا:
’’مسلمانو! مجھے اٹھا کر باغ میں پھینک دو۔‘‘ مسلمان ہچکچائے۔ ان سے پہلے حضرت ابودجانہ تو دیوار پھاند کراندر کود گئے۔ حضرت براء کی منت سماجت کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں نے انہیں بھی نیچے اتاردیا۔ ابودجانہ کا چھلانگ لگانے سے ایک پاؤں ٹوٹ گیا تھا لیکن وہ اس کی پروا کیے بغیر شیر کی طرح مرتدین پر ٹوٹ پڑے اور لڑتے لڑتے پھاٹک تک پہنچ گئے اور اسے کھول کر مجاہدین کا راستہ ہموار کردیا۔ اسے قتل ہوتا دیکھ کر مرتدین میں بھگڈر مچ گئی۔ ہزاروں آدمی بھاگ کھڑے ہوئے۔ مسلمانوں کا نقصان بھی کم نہ تھا۔ ہزار سے زاید صحابہ کرام شہید ہوئے جن میں اکثریت حفاظ کرام کی تھی۔ حضرت براء زخموں سے چور تھے۔ ایک ماہ تک وہیں زیر علاج رہے۔ حضرت خالد ساتھ رہے۔ جب ان کے زخم ٹھیک ہوگئے تو پہلے سے زیادہ جوش و ولولے کے ساتھ جہاد میں شریک ہوئے۔
فتنۂ ارتداد کے بعد شام و ایران سے لڑائیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ حضرت براء ان تمام معرکوں میں مجاہدین کے ساتھ زندگی کی آخری سانس تک شریک جہاد رہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا: ’’براء کو فوج کا افسر بنانا خطرناک غلطی ہوگی کیونکہ وہ نتائج و عواقب کی پروا کیے بغیر آگے بڑھیں گے۔‘‘
اور یہ ہے بھی سچ! کیونکہ وہ بلا کے جری تھے۔ عراق، عرب اور ایران کے ساتھ کئی معرکوں میں حضرت براء اور حضرت انس دونوں بھائی شانہ بشانہ لڑتے رہے۔ حضرت براء کا شمار جلیل القدر صحابہ کرام میں ہوتا ہے۔ حافظ ابن حجر نے انہیں فضلاء صحابہ میں شمار کیا ہے۔ کیوں کہ آپ رضی اللہ عنہ برسوں فیضان نبوی سے فیض یاب ہوتے رہے، تا ہم ان سے کوئی حدیث مروی نہیں۔ بظاہر اس کا سبب ان کا سپاہانہ ذوق تھا۔ زندگی جہاد میں گزاری۔ حدیث کی طرف شاید اسی لیے توجہ نہ دی۔ اہل سیر ان کی بے مثال جرأت اور بے خوفی کے معترف ہیں۔ آپ مستجاب الدعوات بھی تھے۔ (رضی اللہ عنہ)

بقلم: ابواحمد
اشاعت: ہفتہ روز میگزین ’بچوں کا اسلام‘۔ نمبر: 748


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں