دینی اور مذہبی جماعتوں کا اتحاد

دینی اور مذہبی جماعتوں کا اتحاد
mma2پچھلے ماہ مولانا فضل الرحمن صاحب نے ایم ایم اے میں شامل چھ جماعتوں کے نمائندگان کو اسلام آباد میں مرکزی وزراء کے احاطے میں واقع اپنے دولت کدے پر کھانے کی دعوت دے کر بلایا۔ مولانا خان محمد مرحوم کی وفات کی بنا پر یہ دعوت ملتوی ہو گئی۔ اس دعوت کی اطلاع مجھے نہیں تھی اور اخبارات میں اس طرح کی خبریں آتی رہیں کہ مولانا نے ایم ایم اے کا اجلاس طلب کیاہے۔میں چونکہ ایم ایم اے کا صدر ہوں اور جب تک ایم ایم اے کے باقاعدہ اجلاس میں میری جگہ دوسرا صدر منتخب نہیں کیا جاتا اس وقت تک صدر رہونگا اس لئے میں نے اپنی بے خبری اور لاتعلقی کا اظہار کیا۔اس پر مولانا نے مجھے ٹیلی فون پر اطلاع دی کہ یہ باقاعدہ اجلاس نہیں ہے محض ایک دعوت ہے اور مجھے بھی ازراہ کرم اس میں شریک ہونے کی دعوت دی گئی۔

دعوت میں شریک اکثر مدعوئین نے اس رائے کا اظہار کیا کہ چونکہ ایم ایم اے میں شامل جماعتوں کا موقف اور پالیسی ایک نہیں ہے اس لئے ایم ایم اے کو فعال نہیں بنایا جا سکتا۔ ایم ایم اے کو فعال بنانے کے لئے مولانا فضل الرحمن صاحب کی جماعت کو حکومتی اتحاد سے نکل کر عملاً اپوزیشن کا ساتھ دینا چاہئے۔ مولانا فضل الرحمن صاحب نے اس پر آمادگی ظاہر کی لیکن کہا کہ اگر ایم ایم اے بحال ہو جائے تو ایم ایم اے کے پلیٹ فارم پر جوبھی فیصلہ ہو وہ اس کی پابندی کریں گے۔ یعنی پہلے ایم ایم اے بحال ہو اس کے بعد وہ فیصلہ کرے تو مولانا فضل الرحمن صاحب حکومتی اتحاد سے نکل آئیں گے۔ اس سے شرکاء نے اتفاق نہیں کیا اور اگلے تقریب ملاقات تک فیصلہ ملتوی ہو گیا۔
دوسری تقریب ملاقات جمعیت اہل حدیث کے امیر پروفیسر ساجد میر صاحب کی دعوت پر ان کے مرکز میں منعقد ہوئی ۔ اس میں اتنی پیش رفت ہوئی کہ مولانا نے فرمایا کہ وہ ایم ایم اے کو حکومتی اتحاد پر ترجیح دیتے ہیں لیکن حکومتی اتحاد سے نکلنے کے لئے انہیں اپنی جماعت کے اندر فضاء تیار کرنے کے لئے کچھ وقت چاہئے۔
اس دوران یہ خبریں بھی گشت کرتی رہیں کہ مولانا صاحب ایم ایم اے کی بحالی کے ساتھ ساتھ حکومت سے بھی مذاکرات میں مشغول ہیں اور حکومت سے دوسرے مطالبات کے علاوہ ان کا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ مولانا محمد خان شیرانی صاحب کو اسلامی نظریاتی کونسل کا چیرمین بنا دیاجائے۔وہ حکومت سے ایک اور وزارت کے بھی طلبگار ہیں اور اپنے وزارء کے محکموں کے لئے مزید بجٹ بھی چاہتے ہیں اور ایم ایم اے کے ساتھ مذاکرات اور اس کے احیاء کی کوششوں کو حکومت پر اپنے مطالبات منوانے کے حق میں دباؤ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔پاکستان کے دینی حلقوں کی خواہش ہے کہ مذہبی اوردینی جماعتیں دوبارہ ایم ایم اے کے پلیٹ فارم پر متحد ہو جائیں۔ انتخابات کے علاوہ بھی جو دینی اور مذہبی مسائل ہیں ان میں لادین عناصر اور مغربی تہذیب کے دلدادہ عناصرکا مقابلہ متحدہ پلیٹ فارم سے بہتر طور پر کیا جا سکتا ہے۔ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کے نتیجہ میں ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے اور مذہبی تعصبات میں کمی واقع ہوتی ہے۔انتخابات کی صورت میں دینی جماعتوں کا ووٹ تقسیم ہونے سے بچ جاتا ہے اور کامیابی کے امکانات خاص طور پر صوبہ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور سندھ اور پنجاب کے شہری علاقوں میں بڑھ جاتے ہیں۔ لیکن اتحاد کے لئے ضروری ہے کہ تمام جماعتوں کا ہدف بھی مشترک ہو اور ان کا طریقہ کار بھی ہم آہنگ ہو۔ اس لئے مولانا فضل الرحمن صاحب پر حکومت سے علیحدگی کا دباؤ بڑھ گیا جس پر مولانافضل الرحمن صاحب نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اپنی جماعت میں فضاء ہموار کر نے کے بعد یہ فیصلہ کر سکتے ہیں۔ان کے اس رویے کی بنا پر جب پریس بریفنگ کے وقت صحافیوں نے ان پر تابڑتوڑ حملے شروع کر دیے اور ان پر ڈبل گیم کھیلنے کاالزام لگا یا اور ایم ایم اے کی بحالی کے کارڈکو استعمال کر کے حکومت سے مزید مراعات حاصل کرنے کے بارے میں پے درپے سوالات اُٹھائے تو میں نے ان کی جان چھڑانے کے لئے کہاکہ مولانا درست سمت میں چلنے کی کوشش کر رہے ہیں اس لیے ان کی نیت پر شک کرنے کی بجائے انہیں کچھ مہلت دینی چا ہئے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی شخص چاہے جتنا بھی شاطر کیوں نہ ہو تمام لوگوں کو غیر معینہ مدت کے لئے دھوکے اور انتظار میں نہیں رکھ سکتا ۔ مولانا فضل الرحمن صاحب کو اگر واقعی دینی جماعتوں کا اتحاد عزیز ہے تو انہیں امریکہ نواز اتحاد سے نکل کر حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے میدان میں آنا پڑیگا تا کہ قومی خود مختاری کے لئے جد وجہد کی جا سکے اور ملک کو امریکہ سے آزاد کر کے حقیقی اسلامی ،فلاحی اور جمہوری ریاست بنانے اور ایک حقیقی عادلانہ معاشرہ استوار کرنے کے راستے پر لگایا جا سکے۔
قومی انتخابات میں جب بھی جماعت اسلامی نے آزادانہ یا دوسرے دینی جماعتوں کے ساتھ مل کر حصّہ لیا ہے تو مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بنک متاثر ہوا ہے۔اور جب بھی جماعت اسلامی نے بائیکاٹ کیا ہے یامسلم لیگ کے ساتھ مل کر حصہ لیا ہے تو مسلم لیگ کو دو تہائی اکثریت ملی ہے۔لیکن مسلم لیگ (ن) نے کبھی جماعت اسلامی کو یا جماعت اسلامی کے مقاصد کو آگے نہیں بڑھایا اور عملاً وہی طرز حکومت اور رویہ اختیار کیا ہے جو پیپلز پارٹی یا نیشنل عوامی پارٹی یا دوسرے سیکولر پارٹیوں کارویہ ہوتا ہے حد یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں اتوار کی بجائے جمعہ کی چھٹی کا جو عوامی مطالبہ منظور ہواتھا وہ بھی جناب نواز شریف صاحب نے واپس اتوار کی چھٹی کی طرف پھیر دیا ۔اس روش سے تنگ آکر دینی جماعتوں کو اپنا پلیٹ فارم منظم کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ اگرچہ جمعیت علماء اسلام کے ساتھ بھی جماعت اسلامی کا تجربہ زیادہ کامیاب نہیں رہا لیکن اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ ملک میں عملاً مارشل لاء نافذ تھا اور صوبائی سطح پر اختیارات بھی محدود ہوتے ہیں۔
پھر بھی جماعت اسلامی جمعیت علماء اسلام اور دوسری دینی جماعتوں کی صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت سیکولر اورلادین جماعتوں کی حکومتوں سے بدر جہا بہتر تھی۔صحت ، تعلیم اور دیہی ترقی کے میدانوں میں جو کام متحدہ مجلس عمل کے دورحکومت میں ہوا وہ سابقہ ادوار میں نہیں ہواتھا اور خاص طور پر ایم ایم اے کے بعد جب لوگوں نے موجودہ پیپلز پارٹی اور اے این پی کی حکومت کو دیکھا تو چیخ اُٹھے اور ایم ایم اے کی بحالی کا مطالبہ کرنے لگے۔
ایم ایم اے کی بحالی کے امکانات سے مسلم لیگ (ن) خاصی پریشان ہے ایک تو مسلم لیگ (ق) کے الگ ہونے کی وجہ سے اس کا ووٹ بنک پہلے متاثر ہے ساتھ ہی اگر جماعت اسلامی اور دوسری دینی جماعتیں الگ محاذ بنا لیں تو پنجاب میں بھی مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بنک متاثر ہو سکتا ہے۔اور پنجا ب میں جماعت اسلامی ایک مضبوط تنظیم کے طور پر ہر جگہ موجود ہے اس لئے مسلم لیگ (ن) کی تشویش بجا ہے۔اس تشویش کے پیش نظر مسلم لیگ (ن) کے ہم خیال کالم نویس حرکت میں آگئے ہیں اور مولانا فضل الرحمن صاحب کو نشانہ بنا کر حقیقتاً وہ دینی اتحاد کے راستے میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے کارکن اس وقت مسلم لیگ کے ساتھ اتحاد کے موڈ میں نہیں ہیں اگر مولانا فضل الرحمن صاحب حکومتی اتحاد سے باہر نہیں آتے تو انہیں چھوڑ کر باقی دینی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر منظم ہو سکتی ہیں۔یہ بھی اگر ممکن نہ ہوا تو جماعت اسلامی اپنے مضبوط اور ملک گیر تنظیم کی بدولت خود اپنے نشان اور اپنے جھنڈے تلے عوام کو ایک تازہ دم نئی قیادت فراہم کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ جماعت اسلامی مذہبی جماعتوں کا اتحاد چاہتی ہے لیکن کسی مقصد کے حصول کی خاطر اور اگر اتحاد کی خاطر مقصد کو قربان کرنا پڑے تو ایسے اتحاد سے جماعت اسلامی اکیلے انتخاب کے میدان میں آنے کو ترجیح دے گی۔

قاضی حسین احمد
(بہ شکریہ روزنامہ جنگ)


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں