آج کل توہین رسالت، ختم نبوت، اقلیتوں کے حقوق وغیرہ پر بہت باتیں اور جگہ جگہ بحث و مباحث کا سلسلہ جاری ہے۔ جمہوری طریقے سے بننے والے توہینِ رسالت قانون کوجمہوریت کا دعویدار مغرب آج تک ہضم نہ کر سکا اور اَوّل روز سے ہی اس قانون کو ختم کرانے اور معطل کرانے کی […]
منگل اوربدھ کی درمیانی شب ایک بجکر23منٹ پر آنے والے زلزلے نے پاکستان کے بڑے حصے کو بلاکر رکھ دیا، سندھ ، بلوچستان اور پنجاب میں زلزلے کے جھٹکے آئی، اس کے علاوہ مغرب میں دبئی سے لے کر مشرق میں دہلی تک جھٹکے محسوس کیے گئے۔
پاکستان نے جوبائیڈن کے حالیہ دورے کے موقع پر افغانستان کے حوالے سے ”گریٹ گیم“ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ یہ اصطلاح 19ویں صدی کے آغاز میں روس اور برطانیہ کے درمیان مختلف علاقوں پر قبضے اور محاذ آرائی کے لیے پہلی بار استعمال کی گئی تھی۔ پھر دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ کی […]
پاپائے روم کی اسکندریہ میں قبطی عیسائیوں کے کلیسا پر بم حملوں کی مذمت کو مصر کے صدر حسنی مبارک نے ریاست کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے مصر میں ویٹی کن کے سفیر کو نکل جانے کا حکم دے دیا۔ یاد رہے کہ پاپائے روم بینی ڈکٹ نے 10 جنوری کو 119 […]
گورنرپنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے بعد ملک میں ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے۔ ایک طبقہ سلمان تاثیر کو شہید اور پاکستان میں لبرل ازم کا علمبردار قرار دیتے ہوئے خراج تحسین پیش کررہا ہے، ان کی یاد میں شمعیں جلارہا ہے جبکہ دوسرا طبقہ ممتاز حسین قادری کو غازی قرار دیتے ہوئے […]
وہ مسلمان تھا اور قلب یورپ کی ایک عظیم مسلم سلطنت کا فرمانروا، وہ جانتا تھا کہ قرآن میں یہود و نصاری کے بارے میں واضح احکامات ہیں کہ وہ کبھی تمہارے ہمدرد اور خیر خواہ نہیں ہو سکتے، مگر اقتدار کی چاہ اور حصولی کیلیے وہ عیسائی بادشاہ کے دربار میں سجدہ ریز تھا، […]
جاہل اور وحشی کہلانے والے چنگیز ی لشکروں نے اگر آج سے صدیوں پہلے بغداد کے کتب خانوں کو جلاکر راکھ کردیا تھا تو دنیا میں علم و ہنر کی روشنی پھیلانے کے دعویدار تہذیب جدید کے امام بھی ان سے پیچھے نہیں بلکہ دو قدم آگے ہی ہیں۔
مہنگائی پر کون لکھے، کہ یہاں تو قلم و قرطاس کو استعمال کرنے کے ماہرین کی تحریریں وکی لیکس کے انکشافات کی عریاں سادگی سے آنکھیں دوچار کئے ہوئے ہیں اب ان دنوں عوام و تجزیہ نگار وکی لیکس اور حکومتی انہدام کیسے ہو گا ،جیسے سربستہ رازوں کے مطالعے میں مستغرق ہیں اور مہنگائی […]
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں دوہزار دس کا سال انسانی بحرانوں کی تاریخ کا حصہ بن گیا ہے۔ مظاہرین پر فائرنگ سے ایک سو بارہ ہلاکتیں، مہینوں بستیوں کے محاصرے، گرفتاریاں اور دوسری زیادتیوں کی شدت واقعی تاریخ ساز تھی۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کو تین برس گزر گئے۔ تقویم کے پیمانے سے ایک ہزار پچانوے دن، ایک ہزار پچانوے راتیں۔ وہ خاک نشینوں میں سے نہ تھی کہ اس کا لہو رزق خاک ہو جاتا۔ وہ لاوارث بھی نہ تھی کہ کوئی اس کے خوں بہا کا تقاضا نہ کرتا۔ وہ کمزور […]