قاتل مضبوط اور قانون کمزور

قاتل مضبوط اور قانون کمزور
bugti-musharrafنور محمد بلوچ کا شکوہ بجا ہے۔ میں اُن کے شکوؤں سے بھرے خط کو من و عن اس کالم میں شائع کررہا ہوں کیونکہ ان شکوؤں کا پاکستان کے حکمرانوں کے ساتھ ساتھ نوجوان پاکستانیوں تک پہنچنا ضروری ہے۔ نور محمد بلوچ نے لکھا ہے۔

”محترم حامد میر صاحب !
السلام علیکم کے بعد عرض ہے کہ 21 / جون کے روزنامہ جنگ میں ”عظیم تر پاکستان ۔ 20 تجاویز“ کے عنوان سے آپ کا کالم بڑے غور سے پڑھا۔ رقبے کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے لیکن آپ کے کالم میں بلوچستان کے متعلق صرف ایک تجویز شامل تھی کہ بلوچستان کے لاپتہ افراد کو بازیاب کروایا جائے۔
جناب والا ! یقیناً لاپتہ افراد کا معاملہ ہم بلوچوں کے لئے بڑا اہم ہے لیکن آپ نواب اکبر بگٹی کے قاتلوں کو کیوں بھول گئے؟ حامد میر صاحب یاد رکھیں کہ آج آپ لوگوں نے ہمیں زبردستی پاکستانی بنا رکھا ہے۔ ہم مجبور ہیں۔ نہ ایران کے ساتھ جاسکتے ہیں نہ افغانستان کے ساتھ مل سکتے ہیں۔ پاکستان ہمارا فطری ٹھکانہ تھا لیکن آپ نے ہم پر اتنا ظلم کیا کہ آج ہمارے نوجوان آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔ آپ نے ہماری مجبوری کو کمزوری سمجھا اور ہمارے لیڈر نواب اکبر بگٹی کو شہید کردیا۔
آپ سُن لیں کہ جب تک شہید اکبر بگٹی کا قاتل جنرل پرویز مشرف اور اُس کے حواری انجام کو نہیں پہنچتے بلوچستان میں امن قائم نہیں ہوگا۔ آپ کا صدر آصف علی زرداری سو دفعہ کہے کہ وہ بے نظیر بھٹو کا بدلہ نہیں لے گا لیکن ہم بلوچ شہید اکبر بگٹی کے قاتلوں کو معاف نہیں کریں گے۔ مشرف دور کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس ندیم اعجاز کا نام اکبر بگٹی قتل کیس میں بھی آیا اور بے نظیر قتل کیس میں بھی آیا۔ آپ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے استعفی لینے کی کوشش میں بھی یہ آدمی شامل تھا اس آدمی کا نہ تو آپ کی عدالتیں کچھ بگاڑ سکیں نہ آپ کچھ بگاڑ سکے بلکہ تھوڑا سا سچ لکھنے کی پاداش میں آپ خود قاتل قرار دیئے جانے سے بال بال بچ گئے۔ آپ لوگوں کی بے بسی نے ہم بلوچوں کو یقین دلا دیا ہے کہ ہمیں اپنا بدلہ خود لینا ہے ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ کبھی کوئٹہ یا تربت میں آکر چند دن گزاریں اور یہاں سے بیٹھ کر پاکستان کو دیکھیں تو آپ کو اپنے پاکستانی ہونے پر بہت شرم آئے گی۔ بلوچستان میں قانون نافذ کرنیوالے ادارے قانون کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ خفیہ ادارے دن دیہاڑے ہمارے بچوں کو اُٹھا کر غائب کر دیتے ہیں اور جب ہمیں اپنے بچوں کی لاشیں ملتی ہیں تو پھر ہم بھی پاگل جنونی بن کر پنجابیوں کو ڈھونڈتے ہیں۔ اگر آپ کو اپنے عظیم تر پاکستان میں بلوچستان کی ضرورت ہے تو پھر ہمارے نواب اکبر بگٹی کے قاتلوں کو اپنی بہادر عدالتوں سے سزا دلوا کر دکھایئے۔ اگر آپ ایسا نہیں کرسکتے تو قاتلوں کو نواب اکبر بگٹی کے خاندان کے حوالے کردیں۔ ہم بلوچ روایات کے مطابق قاتلوں کو بے گناہی ثابت کرنے کا موقع دیں گے اور انہیں آگ پر چلنا ہوگا۔ اُن کے پاؤں جل گئے تو وہ مجرم قرار پائیں گے اور اگر پاؤں نہ جلے تو بے گناہ ٹھہرا کر رہا کر دیئے جائیں گے۔ اگر آپ قاتل ہمارے حوالے نہیں کرسکتے تو پھر بلوچستان کو بھول جائیں۔ کیونکہ بلوچ آپ کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ اس خط کے ذریعہ میں آپ کو صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ عظیم تر پاکستان کا سودا اتنا مہنگا نہیں ہے ایک طرف آپ کے پاکستان کی عظمت ہے اور دوسری طرف نواب اکبر بگٹی کے قاتل ہیں جو بے نظیر بھٹو کے بھی قاتل ہیں اور آئین پاکستان کے بھی قاتل ہیں۔ پاکستان کی عظمت اور ان قاتلوں میں سے آپ کو ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ آپ کو پاکستان کی عظمت چاہیے لیکن قاتلوں کے سرپرستوں کو یہ عظمت نہیں چاہئے اُنہیں اپنے غنڈہ راج کی عظمت چاہیے اور یہی آپ کے پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ اُمید ہے کہ آپ ہماری دعوت قبول کریں گے اور کوئٹہ آکر اپنے پاکستان کو ہماری نظر سے بھی دیکھیں گے۔والسلام ۔ نور محمد بلوچ ۔ کوئٹہ۔

مجھے اعتراف ہے کہ نواب اکبر بگٹی کے قاتلوں کی گرفتاری بلوچوں کا ایک اہم مطالبہ ہے اور جب تک یہ مطالبہ پورا نہیں ہوتا عام بلوچ نوجوانوں کے دل و دماغ میں غصے اور انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرنا بہت مشکل ہے۔
نواب اکبر بگٹی کے قاتلوں کی گرفتاری کے معاملے میں کوئی پیش رفت نہ ہونا یقیناً باعث تشویش ہے۔ 21/جون کے کالم کے سلسلے میں کوئٹہ سے منور علی نے ایک ای میل بھیجی ہے لکھتے ہیں کہ آپ بلوچستان سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے مطالبے پر بہت توجہ دیتے ہیں لیکن بلوچستان میں پنجابیوں کے قتل عام پر توجہ کیوں نہیں دیتے؟ منور علی لکھتے ہیں کہ اُن کے دادا 80 سال قبل ایک بڑے زلزلے کے بعد کوئٹہ آکر آباد ہوئے اور شہر کی تعمیر نو میں حصہ لیا۔ آج کوئٹہ سے ان تمام پنجابیوں کو مار مار بھگایا جارہا ہے جو 80سال قبل یہاں آئے تھے اور ایسا لگتا ہے کہ کوئٹہ میں پاکستان ختم ہوچکا ہے۔ سکھر سے منور تالپور نے لکھا ہے کہ آپ نے 21 / جون کے کالم میں عظیم تر پاکستان کے سلسلے میں 20 تجاویز کے ذریعہ ایک تعمیری بحث شروع کی ہے۔ اُن کا خیال ہے کہ شہباز شریف کی طرف سے دو روپے کی روٹی کے منصوبے سے زیادہ اہم بے نظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام ہے اور اس پروگرام پر بھی سیاسی اتفاق رائے قائم کیا جائے کیونکہ یہ منصوبہ غریبوں کو روٹی کے ساتھ ساتھ کپڑا اور مکان بھی دے گا۔ منور تالپور نے شکوہ کیا ہے میڈیا نے اس پروگرام کو زیادہ اہمیت نہیں دی حالانکہ اس منصوبے کی کامیابی بھی پاکستان کو عظیم بنا سکتی ہے۔
کراچی سے احمد خان لکھتے ہیں کہ 21/جون محترمہ بے نظیر بھٹو کا یوم ولادت تھا لیکن 21جون کو آپ کے کالم میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کی گرفتاری کا کہیں کوئی ذکر نہیں تھا حالانکہ آپ نے خود 20 سال قبل اپنی کتاب ”بھٹو کی سیاسی پیش گوئیاں“ میں لکھا تھا کہ اگر بے نظیر بھٹو کا جسمانی وجود مٹایا گیا تو پاکستان کے وجود کے لئے بڑے خطرات پیدا ہو جائیں گے۔ احمد خان نے لکھا ہے کہ افسوس کچھ ہفتے پہلے تک پیپلز پارٹی اقوام متحدہ انکوائری کمیشن رپورٹ کی تعریفیں کررہی تھی اور اب اچانک اس پر اعتراضات کرنے لگی جس کے بعد ہمیں کوئی شک نہیں کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد بھی پارلیمنٹ مضبوط نہیں ہوئی بلکہ محترمہ بے نظیر کے قاتل بدستور مضبوط ہیں۔ احمد علی کا خیال ہے کہ جب تک بے نظیر صاحبہ کے قاتل اور ان کے سرپرست انجام کو نہیں پہنچتے پاکستان میں سیاستدانوں کا قتل جاری رہے گا اور جب تک یہ سیاسی قتل بند نہیں ہوتے عظیم تر پاکستان کی منزل کا حصول بہت مشکل ہے۔

حامد میر
(بہ شکریہ روزنامہ جنگ)


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں