دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل اسرائیل کی بنیاد پر عالم اسلام اسی طرح مضطرب تھا۔ اقبال کا کہنا تھا:
ہے خاک فلسطیں پہ یہودی کا اگر حق
ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہل عرب کا؟
اقبال فلسطینی مسلمانوں سے گہری ہمدردی رکھتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ اسلام نسل و رنگ، علاقوں اور سرحدوں سے ماورا ہے۔ اقبال کا انتقال 1938ء میں ہوا اور اسرائیل 1948ء میں وجود میں آیا لیکن مشرق وسطیٰ میں ہونے والی تبدیلیوں پر اقبال کی گہری نگاہ تھی۔ مغربی ممالک پہلی جنگ عظیم کے بعد مسلمانوں سے کیے ہوئے تمام وعدوں کو بھلا کر یہودیوں کو فلسطین کی زمینیں دینے پر تلے ہوئے تھے۔ اس لیے وہ ہر پلیٹ فارم پر مسئلہ فلسطین کے متعلق اپنی فکرمندی کا اظہار کرتے تھے۔ لاہور کے موچی دروازے میں 30 دسمبر 1919ء کو منعقدہ جلسہ میں اقبال نے قرارداد میں برطانوی حکومت کو یاد دلایا کہ اس نے سلطنتِ عثمانیہ اور ترکی سے متعلق مسلمانوں سے وعدے کیے تھے لیکن پیرس کی صلح کانفرنس کے فیصلے قابل اطمینان نہیں ہیں۔ اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ سلطنت عثمانیہ کے کسی حصے پر صراحتا یا اشارتا کسی دوسری سلطنت کا قبضہ نہیں ہونا چاہیے۔
پہلی جنگ عظیم کے بعد لیگ آف نیشنز (مجلس اقوام) میں بنائی گئی جو اقوام متحدہ کی پیش رو تھی۔ لیگ آف نیشنز کی تخلیق کو اقبال استعمار کی سازش سمجھتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ یہ تنظیم انگریزوں اور فرانسیسیوں نے محض مسلمان ممالک کے حصے بخرے کرکے آپس میں بانٹنے کیلئے بنائی ہے۔ اس تنظیم پر اقبال نے ‘‘جمعیت الاقوام’’ کے عنوان سے طنز یہ کہا:
برفتد تا روشِ رزم دریں بزمِ کہن
دردمندانِ جہاں طرحِ نو انداختہ اند
من ازیں بیش ندانم کہ کفن دزدے چند
بہرِ تقسیم قبور انجمنے ساختہ اند
اقبال کے نزدیک لیگ آف نیشنز کفن چوروں کی انجمن تھی جو قبروں کی تقسیم کے لیے وجود میں لائی گئی۔ اسی لیے اقبال نے اپنی نظم ‘‘فلسطینی عرب سے’’ میں فلسطینیوں سے کہا تھا:
تری دوا نہ جینوا میں ہے، نہ لندن میں
فرنگ کی رگ جاں پنچہ یہود میں ہے
سنا ہے میں نے غلامی سے امتوں کی نجات
خودی کی پرورش و لذتِ نمود میں ہے
اقبال برطانیہ کی یہود نوازی کے سخت مخالف تھے۔ 7 دسمبر 1929ء کو لاہور بیرونِ دہلی دروازہ میں منعقدہ جلسے میں فلسطین کے متعلق برطانیہ کی یہود نواز حکمتِ عملی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی گئی۔ اقبال نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا: ‘‘یہودیوں کو یورپ کی تمام سلطنتوں میں نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ مسلمانوں نے یہودیوں کو نہ صرف پناہ دی بلکہ انھیں اعلی مناصب پر فائز کیا۔ ترک یہودیوں کے ساتھ غیر معمولی رواداری کا سلوک کرتے رہے۔ انھیں مخصوص اوقات میں دیوار براق کے ساتھ کھڑے ہو کر گریہ و بکا کرنے کی اجازت دی۔ اسی وجہ سے اس دیوار کا نام ان کی اصطلاح میں دیوارِ گریہ مشہور ہوگیا۔ شریعت اسلامیہ کی رو سے مسجدِ اقصیٰ کا سارا احاطہ وقف ہے۔ جس قبضے اور تصرف کے یہود اب دعوے دار ہیں قانونی اور تاریخی اعتبار سے انھیں اس کا حق نہیں۔ سوائے اس کے کہ ترکوں نے انھیں گریہ کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔’’
مسئلہ فلسطین کے ساتھ ان کی وابستگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اقبال نے گول میز کا نفرنسز اور دوسرے مواقع پر فلسطین میں برطانوی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کی اور کہا کہ ‘‘انگریزوں کو بحر مردار کے مالی ذخائر اور دوسرے معاملات کا خیال ترک کرکے اخلاقی طور پر اہل فلسطین کے ساتھ انصاف کرنا چاہیے اور اس سلسلہ میں سب سے پہلا کام یہ ہے کہ بالفور کا اعلامیہ منسوخ کیا جائے۔’’
علامہ اقبال نے لندن (1931ء) میں منعقدہ دوسری گول میز کانفرنس میں شرکت کی۔ انھیں دنوں یروشلم میں موتمر عالمِ اسلامی کے زیر اہتمام ایک کانگریس کا انعقاد ہو رہا تھا تا کہ صہیونی خطرے پر غور کیا جاسکے۔ اقبال لندن کی گول میز کانفرنس کو ادھورا چھوڑ کر یروشلم چلے گئے تا کہ اس میں شریک ہوسکیں۔ یہودیوں نے اس کانفرنس کی بھرپور مخالفت کی لیکن مفتی اعظم فلسطین سید امین الحسینی کی مساعی سے یہ کانفرنس منعقد ہو کر رہی۔ 7 دسمبر 1931ء کو شروع ہونے والی اس کانفرنس میں اقبال موتمر کے نائب صدر بنائے گئے اور اس کی متعدد سب کمیٹیوں کا رکن بھی بنایا گیا۔ وہ 6 دسمبر سے 15 دسمبر 1931ء تک فلسطین میں مقیم رہے اور فلسطین کے تاریخی مقامات کا مشاہدہ کیا جس کا تذکرہ ان کی معرکہ آرا نظم ‘‘ذوق و شوق’’ میں ہے۔ اقبال رحمہ اللہ نے موتمر کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ‘‘اسلام کو اس وقت دو طرفہ خطرہ ہے، ایک مادی الحاد سے اور دوسرا وطنی قومیت سے، ہمارا فرض ہے کہ ان دونوں خطروں کا مقابلہ کریں۔ مجھے یقین ہے کہ اسلام کی روح ان دونوں خطروں کو شکست دے سکتی ہے۔’’
اقبال رحمہ اللہ کا دوسرا زور جدید علوم کے حصول پر تھا، ان کا کہنا تھا کہ قدیم طرز کی جامعات کی بجائے عالم عرب کو جدود علوم کے مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ کانفرنس کے اختتام پر اقبال نے عالم عرب کو مخاطب کرکے کہا: ‘‘میرا عقیدہ ہے کہ اسلام کا مستقبل عرب کے مستقبل کے ساتھ وابستہ ہے اور عرب کا مستقبل عرب کے اتحاد پر موقوف ہے، جب عرب متحد ہوجائیں گے تو اسلام کامیاب ہوجائے گا۔’’
نومبر 1932ء میں اقبال تیسری گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن گئے۔ وہاں ان کی ملاقات مارگریٹ فر کہرسن سے ہوئی، مس فرکہرسن ایک تنظیم نیشنل لیگ کی رہنما تھیں۔ جس کا ایک مقصد بر عظیم پاک و ہند اور مشرقی وسطیٰ کے مسلمانوں کو انصاف کے حصول میں مدد دینا تھا۔ اس تنظیم کو فلسطینیوں سے بھی ہمدردی تھی۔ مس فرکہرسن نے لندن میں 24 نومبر 1932ء کو اقبال کے اعزاز میں استقبالیہ دیا۔ اس موقع پر اقبال نے کہا کہ برطانیہ کو چاہیے کہ فلسطین سے برطانوی اقتدار ختم کرکے اسے عربوں کے حوالے کرے۔ اقبال آخر عمر میں بھی باوجود بیماری کے مسلمانوں، فلسطین اور عالم اسلام کے معاملات و مسائل کے بارے میں متفکر تھے، فلسطین کے سفر کے متعلق کہا کرتے تھے یہ میری زندگی کا نہایت دلچسپ واقعہ ہے، وہاں متعدد اسلامی ممالک کے نمائندوں سے ملاقات ہوئی، شام کے نوجوانوں سے مل کر میں خصوصا متاثر ہوا۔ اقبال کے بقول ملت اسلامیہ کا کام تو زمانے سے باطل کے اثرات کو مٹانا تھا لیکن یہ خود دین و وطن کی آویزش کا شکار ہوچکی ہے۔ اس کا سبب اس کے باطن میں فروزان شمع ایمان کی لوکا مدھم ہونا ہے مشرق، مغرب کی حکمرانی کے ہاتھوں برباد ہوا اور اشتراکیت کے تصور نے دین و ملت کی تب و تاب کردی، اقبال کہتے ہیں:
ترک و ایران و عرب مستِ فرنگ
ہر کسی را در گلو شستِ فرنگ
ترک ہو یا ایران یا عرب سب فرنگیوں کے افکار و تصورات میں مست ہیں، ہر ایک کے گلے میں فرنگیوں کا پھندا پڑا ہوا ہے۔ اقبال رحمہ اللہ کہتے ہیں: یورپ کا لارڈ جو سراپا مکروفن ہے اس نے اہل دین کو نیشنلزم کی تعلیم دی۔ وہ خود تو مرکزیت کی فکر میں ہے اور تو (عالم اسلام) نفاق میں پڑا ہوا ہے، تجھے بھی چاہیے کہ اس کی طرح متحد ہو کر شام فلسطین اور عراق کی علیحدگی کی باتیں چھوڑ دے۔ اگر تو اچھے برے میں فرق کرنا جانتا ہے تو اپنا دل مٹی پتھر اور اینٹ سے مت لگا یعنی وطنیت کے محدود و تصور سے اوپر اٹھ جا۔

آپ کی رائے