عراق حکومت اور اہل سنت ایران کے بارے میں آیت اللہ سیستانی کے نام خط

عراق حکومت اور اہل سنت ایران کے بارے میں آیت اللہ سیستانی کے نام خط

زاہدان (عبدالحمید ڈاٹ نیٹ) اہل سنت ایران کے ممتاز دینی و سماجی رہ نما نے عراق کے اعلی شیعہ مرجع آیت اللہ سیستانی کے نام خط لکھتے ہوئے عراق کی نئی حکومت میں قوم کے تمام اکائیوں کی شرکت پر زور دیاہے۔ مولانا عبدالحمید نے اہل سنت ایران کے مسائل حل کرنے میں سیستانی سے اپنا اثر ورسوخ استعمال کرنے کا مشورہ دیاہے۔
سنی آن لائن نے مولانا عبدالحمید کی آفیشل ویب سائٹ کے حوالے سے رپورٹ شائع کی جس کے مطابق آیت اللہ سیستانی کے نام خط میں ’آمریت اور عوام پر مظالم ڈھانا‘، ’لوگوں کے جائز مطالبات پر توجہ نہ دینا‘ اور ’مسلک و لسانیت سے بالاتر حکومتوں کی عدم تشکیل‘ کو عراق، شام اور یمن جیسے ممالک کی تباہی و بربادی کا سبب یاد کیا۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے اپنے خط میں عراق کی تازہ صورتحال اور انتخابات کے نتائج کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: کئی سالوں سے ناامیدی کے بعد عراق میں امید کی کرن نظر آتی ہے۔ توقع ہے آنجناب اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ایک ایسی حکومت کی تشکیل پر زور دیں گے جس میں تمام لسانی و مسلکی برادریوں کی نمائندگی شامل ہو۔ اسی صورت میں عوام ایک جمہوری اور انصاف پسند حکومت کے سایے تلے اپنے سیاسی، معاشرتی، معاشی اور ثقافتی حقوق حاصل کرسکیں گے اور ماضی کے تلخ حادثات تکرار نہیں ہوں گے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے خط کے ایک حصے میں اہل سنت ایران کے مسائل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ’سخت امتیازی سلوک‘، ’مذہبی آزادیوں کی کمی‘، ’اعلی عہدوں سے اہل سنت کو محروم رکھنا‘ اور سنی اکثریت علاقوں میں ’شیعہ و سنی برادریوں میں نابرابری‘ کو اہل سنت ایران کے اہم مسائل میں شمار کیا۔
انہوں نے تہران میں اہل سنت کے لیے مسجد تعمیر کرنے کی پابندی، جمعہ و عیدین قائم کرنے میں پابندیاں، سنی برادری کے مسائل حل کرنے کے بارے میں مرشد اعلی کے حکم کو نظرانداز کرنے کو برادری کے دیگر مسائل کے ضمن میں یاد کیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان و صدر مجمع فقہ اسلامی اہل سنت نے خط میں تصریح کرتے ہوئے لکھا: اہل سنت کے مسائل کے بارے میں جب بھی اعلی حکام سے بات ہوتی ہے، ان کا بہانہ یہ ہوتاہے کہ ان پر دباو ہے اور وہ قم کے بعض مراجع اور شیعہ علماء کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ لہذا عالم اسلام میں ایک موثر شیعہ مرجع اور عالم دین کی حیثیت سے آپ سے توقع کی جاتی ہے کہ اہل سنت ایران کے چالیس سالہ پریشانیوں کے خاتمے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کریں۔
انہوں نے اپنے خط کے آخر میں لکھاہے: اگر ایران و عراق سے امتیازی پالیسیوں اور عدم مساوات کا خاتمہ ہوجائے، دنیا والے عالم اسلام میں امت مسلمہ کا عملی اور حقیقی اتحاد دیکھیں گے۔ اس سے عالم اسلام میں پائیدار امن قائم ہوگا اور اسلام دشمن قوتوں کو غلط فائدہ اٹھانے کا موقع ہاتھ نہیں آئے گا۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں