ڈرون حملوں کا رد عمل

ڈرون حملوں کا رد عمل
usa-droneامریکی فورسز کے افغانستان اور پاک افغان سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے نام پر جاری فوجی اپریشن کی بربریت اور ڈرون حملوں کی وحشیانہ بھرمار کے رد عمل میں خود امریکہ کے اندر دہشت گردی کی وارداتوں کو مہمیز مل چکی ہے مگر وائٹ ہاوس کے پیادے اور اوبامہ ایڈمنسٹریشن کے گماشتے شائد امریکہ میں دہشت گردی کے واقعات اور ڈرون حملوں کے مابین تعلق تسلیم کرنے پر امادہ نہیں یا پھر وہ اس تعلق کو سرے سے تسلیم کرنا ہی نہیں چاہتے۔ دفاعی و علاقائی امور پر دسترس رکھنے والے امریکہ تجزیہ نگار چیخ چیخ کر التجائیں کررہے ہیں کہ اوبامہ اینڈ کمپنی اس تعلق کو تسلیم کرکے حقائق کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرے۔

امریکی جریدے نیوز ویک میں فواز جرجیس نے اپنے کالم بعنوان( امریکہ میں ڈرو ن حملوں کی مخالفت) میں اس نقطہ نظر سے مکمل اتفاق کیا ہے کہ ڈرون حملوں نے مسلمانوں کو امریکہ کے خلاف مشتعل کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ٹائمز سکوائر میں دہشت گردی کی سازش کرنے اور نیویارک سب وے سسٹم کو بارود سے اڑانے کا اعتراف کرنے والے نجیب زازی نے سرعام تسلیم کیا ہے کہ پاک افغان سرحدی علاقوں میں ڈرون حملوں نے انہیں امریکہ میں تخریب کارانہ کاروائیوں کی طرف راغب کیا۔
پچھلے سال امریکی ماہر نفسیات حسن ندال نے فورٹ ہڈ میں14 امریکیوں کو گولیوں سے بھون ڈالہ تھا۔ اسکے علاوہ ورجینا سے تعلق رکھنے والے پانچ امریکن نژاد مسلمانوں پر پاکستان اور افغانستان میں امریکی اہداف پر حملے کرنے کا الزام لگایا گیا تھا کے متعلق جانکاری ملی ہے کہ دونوں واقعات ڈرون استبدادیت کا رد عمل ہیں۔فواز جرجیس اوبامہ پر تنقید کے نشتر چلاتے ہیں کہ وہ حقائق سے کیوں منہ چڑا رہے ہیں؟ امریکہ میں جب کبھی دہشت گردی کی سازش کا انکشاف ہوتا ہے تو اوبامہ اسکی زمہ داری تحریک طالبان اور القاعدہ کے سر تھوپ کر بری الذمہ ہوجاتے ہیں.
ٹائمز سکوائر کے واقعے پر بھی امریکی انتظامیہ نے اپنی سابقہ روایات کے تناظر میں صرف اتنا کہا کہ تحریک طالبان نے فیصل شہزاد کو اس منصوبے کی ہدایت دی تھی۔طالبان نے فیصل شہزاد کی مالی معاونت بھی کی مگر فیصل شہزاد کا موقف امریکی حکومت کے نقطہ نظر کی نفی کرتا ہے کہ وہ طالبان کے پاس صرف امداد کے لئے گیا تھا کوئی دوسرا مقصد نہ تھا۔صدر اوبامہ کے مشیر برائے دہشت گردی جان برنین نے اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے کہ شہزاد ڈرون حملوں کی وجہ سے دہشت گردی کی طرف مائل ہوا۔ جان برنین سمجھتے ہیں کہ فیصل امریکہ مخالف تنظیموں القاعدہ اور طالبان کے نظریات سے متاثر ہوا۔
صدر اوبامہ کی ٹیم ڈرون حملوں کے متعلق اپنا جواز رکھتی ہے کہ ڈرون حملوں نے پاک افغان سرحدی علاقوں میں القاعدہ اور طالبان کے جنگجووں کو خاصا کمزور کردیا ہے اور شائد اسی وجہ سے پاکستانی سرزمین پر امریکی فوجیوں کا جانی نقصان نہیں ہورہا ہے مگر یہاں اوبامہ اور انکے صلاح کار یہ بھول جاتے ہیں کہ ڈرون حملوں کی وجہ سے پاکستان اور امت مسلمہ میں امریکی مقبولیت نفرت میں بدل رہی ہے۔مسلمانوں میں انتقام کا جذبہ پانی کے ابال کی طرح کھول رہا ہے۔ اوبامہ اور انکی ٹیم اپنے جواز پر قائم و دائم ہے۔یوں وہ رد عمل کے امکانات کو بھی نظر انداز کررہی ہے حالانکہ CIA اوبامہ کو مسلسل رد عمل کی جانب توجہ دینے کی تلقین کررہی ہے۔
فواز جرجیس اگے چل کر لکھتے ہیں کہ جنگ اب عراق کی بجائے افپاک سرحد پر لڑی جارہی ہے۔ القاعدہ کی جانب سے اب نئے جنگجو بھرتی کرنے کی کوششوں کی بجائے رضاکار جنگی میدان میں وارد ہوگئے مگر انکی تعداد پہلے کی نسبت کم ہے۔نئے جنگجو کہاں سے ارہے ہیں ابھی تک انکا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔جنگجووں کے درمیان جو چیز مشترک ہے وہ سارے قدامت پسند ہیں اور افپاک لڑائیوں کی وجہ سے سامنے ائے ہیں۔
ان معرکہ ارائیوں کا متنازعہ عنصر سی ائی اے کا پریڈیٹر زون ہے جو پاکستان میں استعمال ہورہا ہے۔ڈرون صدر اوبامہ کا پسندیدہ جنگی ہتھیار ہے۔اسی لئے اوبامہ نے ایک طرف نے ڈرون حملوں میں توسیع کردی ہے تو دوسری طرف کم اہمیت والے اہداف کو بھی ڈرون حملوں کی لسٹ میں شامل کردیا ہے۔امریکی حکومت کے مطابق2008 میں جب ڈرون حملوں کی رفتار وشدت میں اضافہ کیا گیا تھا تو سی ائی اے نے القاعدہ و طالبان کے انتہائی اہمیت اور درمیانے درجے کے اہداف کی بجائے کم اہمیت والے اہداف کو معمول سے 12گنا زیادہ ہٹ کیا۔رواں سال کے پہلے 4 ماہ میں امریکیوں نے پاکستان میں پریڈیٹرز سے60 میزائل فائر کئے،افغانستان جو اصل میدان جنگ ہے میں بھی اتنی تعداد استعمال کی گئی۔
پاکستان میں ایک ہفتے میں 3 یا 4 بار پریڈیٹرز خون کی ہولیاں کھیلتے ہیں جو بش دور کے مقابلے میں 4 گنا زیادہ ہیں۔اگرچہ ان حملوں میں ا درجن بھر القاعدہ کے شدت پسند ہلاک ہوئے مگر سچ تو یہ ہے کہ بے گناہ اور معصوم شہریوں کی بڑی تعداد بھی لقمہ اجل بن گئی۔پریڈیٹرز شب خون نے پاکستان اور افغانستان کی عوام کے دلوںمیں امریکہ کے خلاف نفرت کی اگ بھڑکادی ہے جن میں مغرب کے تارکین وطن اور سیکیورٹی فورسز کے اراکین بھی شامل ہیں۔
پاکستانی طالبان اور القاعدہ اسی نفرت کو کیش کروا کر نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کررہی ہے۔جرجیس اپنے مضمون کے اخر میں لکھتے ہیں کہ القاعدہ کے لئے پریڈیٹرز ممدون ثابت ہورہے ہیں اور انہی حملوں کی اڑ لیکر القاعدہ اور تحریک طالبان امریکہ میں خود کش حملوں کے منصوبوں کے تانے بانے بن رہی ہے۔امریکن ارمی کے سپیشل سیل کے سابق لیگل افیسرجیفرے ایڈیکاٹ کہتے ہیں کہ ڈرون حملوں کے رد عمل میں ہم ہلاک اور گرفتار کئے جانے والے شدت پسندوں کے مقابلے میں اپنے دشمنوںکی زیادہ تعداد پیدا کررہے ہیں۔
اوبامہ انتظامیہ پریڈیٹرز حملوں کی توسیع کے خطرات کو تو کم از کم تسلیم کرلے اور ڈرون حملوں کے جو مضر اثرات اور نقصانات سامنے ارہے ہیں کے متعلق بحث و مکالمے کی حوصلہ افزائی کرے کیونکہ ڈرون حملوں کے اثرات اب تو ملک کے اندر جاپہنچے ہیں۔نیوز ویک میں شائع ہونے والا جرجیس کا ارٹیکل حقیقت پر مبنی ہے۔ڈرون حملوں میں مارے جانے والے افراد کی غالب اکثریت عام شہریوں بچوں اور بوڑھوں پر مشتعمل ہے۔ڈرون حملوں کی وحشت پر ہر پاکستانی اور افغانی کی رگوں میں امریکی نفرت کا شعلہ جوالہ زندگی کی علامت بن کر گردش کررہاہے۔
اگر اوبامہ نے فاٹا میں ڈرون حملوں کا نہ تھمنے والہ سلسلہ جلد از جلد منقطع نہ کیا تو رد عمل میں ایک نہ ایک روز امریکہ دہشت گردی کا گڑھ بن سکتا ہے اور یاد رہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں بھڑکنے والی اگ کا اتش فشاں جلد یا بدیر خود امریکی ریاست کو بھسم کر سکتا ہے۔
پاکستانی حکومت ڈرون حملوں کی روک تھام کے لئے غیرت و حمیت کا مظاہرہ کرے اگر امریکی ڈرون کی قیامت صغری سے باز نہیں اتے تو ارباب اختیار امریکہ کے ساتھ ہر قسم کے جنگی تعاون کے خاتمے کا اعلان کردے ایسی صورتحال میں 17 کروڑ پاکستانی گیلانی و زرداری اور کیانی کی پشت پر ہونگے۔ وہ حکمران کبھی نہیں ہارا کرتے جنکی پشت بانی انکی قوم کررہی ہو۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ایٹم بم نام کا کھلونا ہم نے کس مقصد کے لئے سنبھال رکھا ہے۔

تحریر : روف عامر پپا بریار
(بہ شکریہ جیو اردو)

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں