بادشاہتوں کا قبرستان

بادشاہتوں کا قبرستان
us-war-deathsافغانستان “بادشاہتوں کا قبرستان” جہاں چنگیز خان کے بعد سے کوئی غیر ملکی حملہ آور اپنے قدم جمانے میں کامیاب نہیں ہوسکا اور اب یہاں مغرب کے گم ہوجانے کی باری ہے۔ اعلیٰ ترین امریکی کمانڈر جنرل اسٹینلے مک کرسٹل کے امریکی صدر اوباما، نائب صدر اور ان کی ٹیم کے بارے میں ایک میگزین انٹرویو میں ترش اور کھرے ریمارکس کی اشاعت کے بعد ان کی توہین آمیز رخصتی افغانستان میں امریکہ کی ناکامی کی واضح علامت ہے۔ اب واحد قابل بحث نکتہ یہ ہے کہ امریکی اور نیٹو فوجی دستے کب اپنے انجام کو پہنچ کر یہاں سے رخصت ہوں گے۔ سرکاری طور پر یہ واپسی اوباما کی دوسری مدت کے لئے دوبارہ انتخاب سے قبل جولائی 2011 میں شروع ہوگی۔لیکن جنرل ڈیوڈ ایچ پیٹریاس نے جو مک کرسٹل کی جگہ آئے ہیں امریکی سنیٹ میں اپنی تقرری کی توثیق کیلئے ہونیوالے اجلاس میں دعوی کیا کہ افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی ایک نئے عمل کا آغاز ہے اور افغانستان میں امریکہ کو بہت دیر تک ٹھہرنا ہے۔ چنانچہ داخلی طور پر افغانستان سے واپسی کیلئے عوام کے سخت دباوٴ کے باوجود یہ جنگ جو کسی غیر ملکی سرزمین پر لڑی جانیوالی امریکی جنگوں میں طویل ترین جنگ ہے مزید جاری رہ سکتی ہے۔

جنگ کے خاتمے کا کھیل امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے کوئی خوش کن نہیں ہے۔جنگ میں اب تک ان کے 1000 فوجی مارے جاچکے ہیں۔لیکن افغانوں کے قلب و روح کو جیتنے کا مقصد ان کو ابھی تک چکر میں ڈالے ہوئے ہے۔درحقیقت انسداد عسکریت پسندی کی حکمت عملی کے بارے میں جس کی دلالی اس کے مصنف جنرل پیٹریاس اور ان کے پیشرو جنرل مک کرسٹل کرتے رہے ہیں امریکہ میں بھی شبہ کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔طالبان کی قوت میں اضافے اور افغان آبادی کی امریکہ سے دشمنی کی وجہ سے یہ حکمت عملی حقیقتاً ناکامی سے دوچار ہے۔اس دوران پاکستانی افواج اور اس کے انٹیلیجنس بازو آئی ایس آئی جو تاریخی طور پر افغانستان کو اپنی تزویراتی گہرائی تصور کرتے ہیں خود اپنے ایک نئے امن مشن کی کامیابی کے لئے کوشش کررہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جن کی بعد میں فوجی ترجمان نے تردید کردی ہے تاہم امریکی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے، فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور ان کے معاون آئی ایس آئی چیف جنرل شجاع پاشا افغان صدر حامد کرزئی اور سراج الدین حقانی کی قیادت میں سرگرم حقانی نیٹ ورک کے درمیان مفاہمت کرانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی نے یہ رپورٹ چلائی کہ دو پاکستانی جنرل سراج الدین حقانی کے ساتھ صدر کرزئی سے ملاقات کے لئے کابل جا رہے ہیں۔ کابل اور جی ایچ کیو نے راولپنڈی سے اس کی تردید کردی۔چنانچہ میڈیا کے ایک سیکشن کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ پیر کو جنرل کیانی کا مجوزہ دورہ نہ ہوسکا۔ نتیجہ جو بھی ہو، پاکستان کی جانب سے کرزئی طالبان اختلاط پر عجلت کے ساتھ زور دیا جارہا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اسلام آباد میں دفتر خارجہ اس بارے میں مکمل خاموش ہے۔ نہ ہی وزیراعظم نے اس اہم مسئلے پر کچھ بولنا گوارا کیا جو ہماری قومی سلامتی سے تعلق رکھتا ہے۔ درحقیقت سویلین حکمراں افغانستان کے معاملے میں مکمل طور پر حسب روایت فوج اور آئی ایس آئی کے حق میں دستبردار ہو گئے ہیں۔ یا پھر یہ فوج اور سول قیادت کے درمیان کسی تزویراتی انڈراسٹینڈنگ کا نتیجہ ہے۔
واشنگٹن فطری طور پر ان سرگرمیوں کے بارے میں مشکوک ہے۔سی آئی اے کے سربراہ لیون پینیٹا نے ایک حالیہ انٹرویو میں ابتدائی مرحلے میں حاصل ہونیو الی ان کوششوں کی کامیابی کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا۔ان کے مطابق جب تک طالبان کو میدان جنگ میں شکست نہیں دی جاتی وہ کانفرنس ٹیبل پر نہیں آئیں گے۔صدر اوباما نے انہی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے ان مذاکرات کو بہرحال ایک مفید قدم قرار دیا۔جارج ڈبلیو بش سے قطع نظر جنہوں نے بطور صدر قبل از وقت عراق میں اپنی فتح کا ا علان کردیا تھا موجودہ امریکی انتظامیہ میں کوئی بھی فتح کی بات نہیں کرتا اور نہ فتح کو اپنا مقصد قرار دیتا ہے۔ درحقیقت روڈ میپ میں پروگریس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ افغان سرزمین کو امریکہ کے خلاف استعمال نہ کیا جاسکے۔
نیویارک ٹائمز میں ایک رپورٹ کے مطابق جنرل کیانی اور جنرل پاشا کی جانب سے مذاکرات کا ایک مقصد القاعدہ اور طالبان کے درمیان تعلق کو توڑنا اور القاعدہ کو اپنے ٹھکانے کہیں اور لے جانے پر مجبور کرنا ہے۔اس کی کوئی ضمانت نہیں کہ یہ ممکن بھی ہے یا نہیں۔جو لوگ کرزئی اور طالبان کے درمیان مذاکرات پر شبہ کا اظہار کرتے ہیں ان کا بھی یہی کہنا ہے۔ طالبان کیوں بات چیت کریں گے اگر وہ میدان جنگ میں کامیاب ہورہے ہیں اور دشمن کے حوصلے پست ہوچکے ہیں اور وہ تقسیم بھی ہے۔ پاکستانی فوج کی جانب سے کابل میں امن مذاکرات سے کیا فائدہ ہوگا اگر بقول واشنگٹن القاعدہ کے تمام محفوظ ٹھکانے پاکستان کے محفوظ علاقوں میں ہیں۔ جنرل پیٹرائس اپنے پیش رو کے برخلاف جنرل کیانی پر مزید ” ڈو مور” کا دباوٴ ڈالیں گے۔واشنگٹن میں جنگی تزویرات کے ماہرین کے مطابق افغانستان اور خود امریکی سرزمین پر حملوں کو روکنے کے لئے پاکستان میں القاعدہ اور طالبان کے ٹھکانوں کو تباہ کرنا ضروری ہوگا۔ روس کی قیادت مین وسط ایشیائی جمہوریتیں افغان تنازع سے اپنا مطلب پورا کرنے کے چکر میں ہیں۔ان کا تزویراتی مفاد شمالی افغانستان میں ہے اور ان کا دوست یعنی شمالی اتحاد آسانی سے کابل میں طالبان کے غلبہ والی پختون حکومت برداشت نہیں کرے گا۔یہ بھی واضح نہیں ہے کہ ملا عمر اور گلبدین حکمت یار کو مذاکرات کی میز پر کیسے لایا جائے گا۔
بھارت کے افغانستان میں سب سے زیادہ اقتصادی اور تزویراتی مفادات ہیں جن سے کنارہ کشی اختیار کرنا کابل کے لئے آسان نہٰیں ہوگا۔ پاکستان کے لئے یہ بے حد مشکل کام ہوگا کہ کابل کو اس پر آمادہ کیا جاسکے کہ وہ بھارت کو جو افغانستان میں دوسرا بڑا سرمایہ کار ہے اپنے قونصل خانے بند کرنے پر مجبورکرے۔جنرل پیٹریاس سینٹ کی جانب سے توثیق کے بعد جنرل مک کرسٹل کے “ہوّے” یعنی افغانستان میں امریکی سفیر کارل ایکن بیری کے ساتھ کابل پہنچ رہے ہیں۔ یہ جنگجو سفارتکار بھی رچرڈ ہالبروک کے ساتھ تختہ مشق ہے۔ اوباما کی افغان ٹیم میں اتحاد کے منفرد مظاہرے کے باوجود درون خانہ سخت اختلافات ہیں۔صدر اوباما کے پاکستان اور افغانستان کے لئے خصوصی نمائندے کو دونوں ملکوں میں سخت ناپسند کیا جاتا ہے۔کرزئی ہالبروک کی دست درازیوں سے نالاں ہیں کہ ہالبروک کا کردار افسانوی “بدصورت امریکی” جیسا ہے۔ کرزئی ہالبروک کو گزشتہ دنوں اپنے دوبارہ انتخاب کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے پر معاف نہیں کرسکتے۔ گزشتہ ماہ ہالبروک اپنے گیارہویں دورے پر اسلام آباد پہنچے تو انہیں جنرل کیانی سے بھی ملنے کے لئے دو دن انتظار کرنا پڑا۔ جنرل کیانی قدرتی طور پر اپنے ہم منصب سے ملنے میں زیادہ اچھا محسوس کرتے ہیں۔
اس پس منظر میں ہالبروک کے تبدیل کئے جانے کی افواہیں بے بنیاد نہیں ہیں۔ اسلام آباد میں نئے امریکی سفیر کے طور پر کیمرون ہیوم کی نامزدگی کو روک دیا گیا ہے کیونکہ وہ نہایت بددماغ مشہور ہیں۔افغانستان میں پاکستان کی خواہشوں کی فہرست بہت طویل ہے۔جنرل کیانی کو اس سال نومبر میں ریٹائر ہونا ہے۔اگر وہ اپنے فوجی کیرئر کے اختتام پر ایک قابل عمل امن معاہدہ کرانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ ایک تاریخ ساز کارنامہ ہوگا کہ انہوں نے پہلے پاکستان میں طالبان کو شکست دی اور اور پھر دوسری طرف افغانستان مین طالبان کے ساتھ ایک امن معاہدہ بھی کرایا۔ موجودہ ماحول میں یہ ایسے دوطرفہ مقاصد ہیں جن پر بادی النظرفریقین کو اتفاق ہے۔

عارف نظامی
(بہ شکریہ روزنامہ جنگ)

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں