زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس منگل (16 جون 2026ء) کو دارالعلوم زاہدان میں منعقد ہوا۔
سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، یہ اجلاس دارالعلوم زاہدان کے دفترِ برائے سکول طلبا و طالبات کے زیرِ اہتمام منعقد ہوا، جس میں زاہدان اور اس کے نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کی ایک جماعت نے شرکت کی۔ اجلاس میں دو موضوعات: ’’موسمِ گرما کی تعطیلات میں طلبہ کو قرآن، احکام اور دینی مسائل کی تعلیم دینے کی منصوبہ بندی‘‘ اور ’’فساد، سماجی برائیوں اور معاشرتی مسائل کا مقابلہ‘‘ پر تبادلۂ خیال کیا گیا اور مختلف تجاویز و سفارشات پیش کی گئیں۔ اجلاس کے اختتام پر شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے بطورِ مہمانِ خصوصی خطاب فرمایا۔
“مساجد میں طلبہ کے مکاتب کے لیے علما، اساتذہ اور معززین پر مشتمل کونسلوں کا قیام”، “قرآنی سرگرمیوں کی سرپرستی کے لیے خصوصی فنڈ کا اہتمام”، “مساجد کے موسمِ گرما کے تعلیمی پروگراموں اور طلبہ کی سرگرمیوں میں علما، اساتذہ اور مخیر حضرات کی شمولیت”، “دیہی علاقوں میں طلبہ کی تعلیمی کلاسوں پر خصوصی توجہ”، “موسمِ گرما کی طلبہ کلاسوں کے لیے جدید اور دلکش مواد پر مشتمل خصوصی کتابوں کی تیاری”، “دینی مدارس کی جانب سے طلبہ کو قرآن اور دینی مفاہیم کی مکمل اور فنی تعلیم پر خصوصی توجہ اور دینی امور کی جانب طلبہ کی رغبت کے لیے بہتر منصوبہ بندی”،”موسمِ گرما کی کلاسوں کے اساتذہ کے مسائل اور ضروریات کا خیال رکھنا”، “مساجد میں طلبہ کے لیے حفظِ قرآنِ مجید کی خصوصی کلاسوں کا انعقاد”، “محلوں اور علاقوں میں نوجوانوں کے لیے خصوصی نشستوں کا انعقاد اور ان میں علما اور دینی، تبلیغی و ثقافتی کارکنان کی صلاحیتوں سے استفادہ”، “ہر محلے کے باصلاحیت طلبہ، جامعاتی طلبہ اور نوجوانوں کی نشاندہی”، “نمایاں علما پر مشتمل قرآنی مکاتب کی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے کونسل کا قیام” اور “اصلاحی و سماجی سرگرمیوں کو مؤثر اور منظم انداز میں انجام دینے کے لیے علما اور ائمہ مساجد کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا” ایسی تجاویز اور سفارشات تھیں جو اجلاس میں علما، ائمہ مساجد اور دینی و قرآنی کارکنان کی جانب سے پیش کی گئیں۔
مشاورتی اجلاس کے اختتام پر شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے خطاب کیا۔
مولانا عبدالحمید نے ’’علما کی اپنی ذمہ داری اور رسالت کی ادائیگی میں کوتاہی‘‘ کو مسائل، گناہوں اور سماجی برائیوں میں اضافے کا سبب قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر علما احساسِ ذمہ داری کے ساتھ مشاورت اور منصوبہ بندی کے ذریعے معاشرے کی اصلاح کے لیے کوشش کرتے تو آج ہم اس قدر غفلت، مسائل اور مفاسد کا سامنا نہ کرتے۔
انہوں نے ’’دعوت الی اللہ‘‘، ’’تعلیم‘‘ اور ’’عمل‘‘ کو علما کی سب سے اہم ذمہ داریاں قرار دیا اور علما و داعیان دین سے درخواست کی کہ وہ دوسروں کے بارے میں فیصلے صادر کرنے اور لوگوں کو مختلف خانوں میں تقسیم کرنے کے بجائے اپنے کردار اور عمل سے نوجوانوں اور معاشرے کے مختلف طبقات میں دین پر عمل کرنے کا جذبہ پیدا کریں۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے اپنے خطاب کے تسلسل میں ’’انبیائے کرام اور مصلحین کی سیرت کی پیروی‘‘، ’’حکمت کا لحاظ‘‘، ’’حالات کی رعایت‘‘، ’’دین کے صحیح تعارف کے لیے دلیل اور سند کا استعمال‘‘ اور ’’اخلاص و للہیت‘‘ کو دعوتِ دین کے میدان میں علما اور داعیان کی کامیابی کا راز قرار دیا۔
مولانا عبدالحمید نے آخر میں اس بات پر زور دیا کہ ’’قرآن و حدیث کی تعلیم علما کے پروگراموں میں اولین ترجیح ہونی چاہیے‘‘ اور ’’ماہر اور متخصص قرآنی اساتذہ کی تربیت‘‘ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے اہلِ سنت کے دینی مدارس کے ذمہ داران سے اپیل کی کہ موسمِ گرما کی تعطیلات کے دوران طلبہ کو قرآن اور دینی مسائل کی تعلیم دینے کے لیے مناسب منصوبہ بندی اور سرگرمیوں کا اہتمام کریں۔

آپ کی رائے