ماہِ رمضان کا آغاز ہوچکا ہے اور دنیا بھر کے مسلمان روزہ رکھ رہے ہیں۔ ناروے اور آئس لینڈ کے یخ بستہ قصبوں سے لے کر انڈونیشیا اور ملائیشیا کے گرم علاقوں تک
آج کل مختلف حلقوں کی جانب سے ’’مقاصد شریعت‘‘ کا موضوع اُبھر رہا ہے، اصول فقہ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے ناکارہ کا بھی اس موضوع کے ساتھ کچھ نہ کچھ ربط و تعلق رہا ہے اور رہتا ہے،
پچھلے دنوں وزیراعظم عمران خان نے اپنے کئی ساتھیوں کو فارغ کردیا۔
۱۴ رجب الخیر ۱۴۴۰ھ، ۲۲ مارچ ۲۰۱۹ء بروز جمعۃ المبارک نماز جمعہ سے کچھ پہلے کراچی میں عالِم اسلام، عرب و عجم کی عظیم علمی و روحانی شخصیت، ہزاروں علماء و مشایخ حدیث کے استاذ اور روئے زمین پر بلامبالغہ لاکھوں انسانوں کی محبوب ترین اور آئیڈیل ہستی شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی (اطال اللہ بقاۂ) پر سفاکانہ قاتلانہ حملے نے پورے عالم اسلام کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔
محمد علوی کے یہ اشعار بحرالکاہل کے جزیرہ نما ملک نیوزی لینڈ کے تیسرے بڑے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد مسجد النور اور لین روڈ میں ہونے والے سب سے بڑے دہشت گردانہ حملوں کے باعث یاد آئے، جس میں یہ سطور لکھتے وقت ۵۰ سے زاید افراد شہید اور اتنی ہی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔
اللہ تعالی نے حضرت انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور تمام مخلوقات میں اس کو برتری تفوق اور فضیلت سے نوازا۔
دارالعلوم کراچی کا طالب علم تھا۔ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ کی تصنیفات و مقالات سے شدید دلچسپی، عشق و محبت اور والہانہ تعلق پیدا ہوگیاتھا۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کے مخالفوں میں سے ایک کا نام احیاہ تھا، سفر ملوک میں اسی کو نبی بتایا گیا ہے۔
زیرنظر تحریر میں اسلامی نقطۂ نظر کو بیان کیا گیا ہے تا ہم جان لیں کہ اس بارے میں ہمیں قرآن و حدیث اور صحیح روایات سے کیا رہنمائی ملتی ہے۔
ایک روح فرسا خبر یہ ابھی سنی کہ ہمارے کراچی میں ایک درندے نے جو اتفاق سے قاری بھی تھا، ایک ۹ سالہ بچے کو وحشیانہ تشدد کر کے شہید کردیا۔۔۔ ہائے ایک معصوم شہید قرآن!