مقاصد شریعت کی اہمیت اور اس کے حدود و ضوابط

مقاصد شریعت کی اہمیت اور اس کے حدود و ضوابط

آج کل مختلف حلقوں کی جانب سے ’’مقاصد شریعت‘‘ کا موضوع اُبھر رہا ہے، اصول فقہ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے ناکارہ کا بھی اس موضوع کے ساتھ کچھ نہ کچھ ربط و تعلق رہا ہے اور رہتا ہے، پھر امام غزالی، امام عزالدین اور امام شاطبی رحمہم اللہ تعالی کے خوشہ چین ہونے کے ناطے اِس موضوع کی اہمیت اور اس کی ضرورت و افادیت کا ایک عرصہ سے احساس بھی تھا، لیکن موجودہ وقت میں اس نازک موضوع کو بعض حلقوں کی طرف سے جس انداز سے اور جس قدر زور و شور کے ساتھ اُبھارا جارہا ہے، اِس میں توسط و اعتدال کا پہلو عموماً برقرار نہیں رہ پاتا، جس کی وجہ سے فقہ اسلامی کے بہت سے مسائل میں بے اطمینانی اور پیچیدگی کی سی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اور ’’مقاصد شریعت‘‘ کے عنوان سے بہت سے مسلمہ مسائل کو قلم زد کرکے ناقابل اعتبار گردانا جاتا ہے، اسی کا بھیانک نتیجہ ہے کہ بہت سے منصوص مسائل کو بھی یہ کہہ کر بڑے آسانی اور بے دردی کے ساتھ رد کردیا جاتا ہے کہ یہ موجودہ زمانہ کے ’’مقاصد شریعت‘‘ کیخلاف ہے جس کی وجہ سے عالم اسلام کے بعض حلقوں میں قدیم فقہی ذخیرہ سے اعتماد کا رجحان مفقود ہونے لگا ہے۔
اس لیے اہل علم کی خدمت میں اس حوالہ سے چند گزارشات و تجاویز پیش کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی، امید ہے کہ اگر سنجیدگی کے ساتھ ان امور پر غور کیا جائے تو اس عنوان سے جتنی غلط فہمیاں اور بے اعتدالیاں جنم لے رہی ہیں، وہ ختم ہوجائیں گی اور اس کے ساتھ ساتھ دین و شریعت کے اصول و مبادی، احکام و مسائل اور منصوص و مسلمہ مسائل کی قدر و اہمیت کا پہلو واضح ہوجائے ، یہی وہ بنیادی اہداف تھے جس کے حصول کے لیے اہل علم نے اس موضوع کو ایک مستقل فن کی حیثیت میں متعارف کروایا تھا، وہ گزارشات و تجاویز یہ ہیں:
الف۔ کسی چیز کے ’’مقصودِ شرعی‘‘ ہونے کا مطلب عموماً یہ لیا جاتا ہے کہ شریعت مطہرہ نے تمام احکام یا چند مخصوص احکام دیتے ہوئے اس چیز کو ملحوظ رکھا تھا اور اسی بات کے تحقیق کے لیے شریعت نے یہ حکم جاری فرمایا تھا یعنی شرعی حکم کی بنیاد یہی بات تھی، اس تشریح کے مطابق مقاصد شریعت مدارِ حکم ٹھہرا، اَب اگر یہ موجود ہو تو حکم بھی متوجہ ہوگا اور یہ معدوم تو حکم بھی معدوم ہوگا، اَب ظاہر ہے کہ اس معنی میں کسی چیز کو مقصود شرعی ٹھہرانا اصول فقہ کی اصطلاح میں استنباط و تعلیل کے مترادف ہے جو کہ اجتہاد کے بنیادی اور اہم وظائف میں سے ہے، بلکہ اجتہاد کا اصل مقصود اور لبِ لباب یہی ہے کہ منصوص مسائل میں غور و خوض کرکے اس حکم کی علت و اساس دریافت کی جائے پھر اس جیسے کسی غیرمنصوص مسئلہ میں وہی علت تلاش کرکے اس میں بھی وہی حکم جاری کی جائے۔
لہذا اجتہاد و استنباط کے لیے جو کچھ شرائط و وسائل درکار ہیں اور اس کے لیے جس قدر پختہ علم و استعداد کی ضرورت پڑتی ہے وہی وسائل و استعداد یہاں بھی لازم ہے اور جس طرح ہر لکھنے پڑھنے والے انسان کے لیے شرعی احکام میں اجتہاد و استنباط کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے یوں ہی ’’مقاصد شریعت‘‘ کے تعین کرنے کا بھی اختیار نہیں ، اس خدمت کے انجام دینے کے لیے محض عربی زبان و بیان سے واقفیت کسی بھی طرح کافی نہیں ہے بلکہ یہ کام اتنی نزاکت و اہمیت اور دور رَس نتائج و اثرات کا حامل ہے کہ علومِ عربیت کے علاوہ باقی ضروری دینی علوم و فنون میں مہارت کا ہونا اس کام کا فطری اور ضروری تقاضا ہے جس کے بغیر یہ کام کماحقہ سرانجام نہیں دیا جاسکتا، خود علامہ شاطبی رحمہ اللہ تعالی نے باوجودیکہ وہ اس موضوع کے گویا مدوّن ہیں، لیکن انہوں نے بھی اپنی کتاب ’’المواقفات‘‘ کے آخر میں ’’کتاب الاجتہاد‘‘ ذکر کیا اور اس میں ہر عربی دان کے لیے اجتہاد کا حق تسلیم نہیں کیا بلکہ تنقیح مناط اور تخریج مناط کے لیے کئی شرائط کا لحاظ رکھا خصوصاً ’’مقاصد شریعت‘‘کے استنباط کے لیے ان شرائط کی رعایت رکھنے پر خوب زور دیا۔
امام عزالدین، امام شاطبی و غیرہ جن اہل علم نے اپنی پوری پوری زندگیاں مقاصد و مصالح کے اس فن کی آبیاری میں صرف فرمائی، انہوں نے کبھی بھی محض اس فن جاننے کو کلید اجتہاد نہیں سمجھا، بلکہ مقام اجتہاد و استنباط حاصل کرنے کے لیے دیگر شرائط کے ساتھ ساتھ ایک اس فن میں مہارت پیدا کرنے کی شرط کو بھی ضروری ٹھہرایا اور پھر اس پر نظریاتی اور تطبیقی نوعیت سے مفصل کلام فرمایا کہ ائمہ مجتہدین نے کہاں تک اس کا لحاظ رکھا اور اس فن میں مہارت پیدا کیے بغیر کس طرح انسان غلطی کا شکار ہوجاتا ہے، اب اگر دیگر تمام شرائط کی رعایت رکھے بغیر محض مقاصدجاننے کو مقام اجتہاد پر فائز ہونے کی کنجی ٹھہرایا جائے اور اسی کے بنیاد پر کسی کو دینی مسائل میں اجتہاد و استنباط کرنے کا حق تسلیم کیا جائے تو یقیناً یہ ایک بڑی گمراہی کا مقدمہ ہوگا خصوصا جب کوئی اجتہاد کرنے کا دائرہ کار اور طریقہ کار سے بھی ناواقف ہو۔
ب۔ کسی شرعی مستند دلیل کا سہارا لیے بغیر یہ فیصلہ کرنا جائز نہیں کہ فلاں بات ’’مقاصد شریعت‘‘ میں سے ہے یا فلاں کام ’’مقصود شرعی‘‘ ہے، کیونکہ جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا کہ کسی چیز کے مقصود شرعی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ شارع نے احکام دیتے وقت اس بات کی رعایت رکھی تھی، لہذا کسی تسلی بخش دلیل کے بغیر کسی چیز کو مقصود شرعی ٹھہرانا گویا اللہ تعالی پر افتراء اور جھوٹ باندھنا ہے کہ اس نے میری مزعومہ بات کا لحاظ رکھا تھا اور اس کے ظلم اور سنگینی میں شبہ نہیں۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
ولا تقولا لما تصف السنتکم۔۔۔۔ عذاب الیم [النحل: ۱۱۶۔۱۱۷]
’’اور اپنی زبانوں سے جھوٹ بنا کر نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے تا کہ اللہ پر بہتان باندھو بیشک جو اللہ پر بہتان باندھتے ہیں انکا بھلا نہ ہوگا۔ تھوڑا سا فائدہ اٹھالیں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ [ترجمہ شیخ التفسیر مولانا احمدعلی لاہوری رحمہ اللہ]
ج۔ اصولیین اور مجتہدین کرام کے نزدیک شرعی احکام کی علت معلوم کرنے کے مختلف اصول و اسالیب مقرر ہیں جس میں بعض اسالیب اور بعض تفصیلات کے متعلق اصولیین کا اختلاف بھی رہا ہے، امام رازی رحمہ اللہ نے علت معلوم کرنے کے لیے اپنی کتاب ’’المحصول‘‘ میں دس طرق تحریر فرمائے ہیں: نص۔ ایماء۔ اجماع۔ مناسبت۔ تاثیر۔ شبہ۔ دوران۔ سبر و تقسیم۔ طرد۔ تنقیحِ مناط۔ [نفائس الأصول فی شرح المحصول:۴؍۱۴۷] پھر ان میں سے ہر ایک کے متعلق کچھ ضروری شرائط و تفصیلات ہیں جن کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔
اب اگر ان اصول کی پابندی کرتے ہوئے کسی بات کو مقصود شرعی ٹھہرایا جائے اور یہ فیصلہ کرنے والا بھی اجتہاد و استنباط کے لیے درکار صلاحیت و استعداد سے بہرہ ور ہوں، تو بہت اچھا، اس کو مقصود شرعی ٹھہرانا بھی درست ہے اور اس پر غیرمنصوص احکام مرتب کرنا بھی جائز ہے، اور اگر ان اصول و اسالیب کی رعایت رکھے بغیر کسی بھی خودساختہ طریقہ سے کسی چیز کو مقصود شرعی قرار دیا جائے تو اس پر شرعی احکام کا مدار رکھنا ہرگز درست نہیں۔
چنانچہ مقاصد شریعت کے موضوع پر بحث و مناقشہ کرنیوالے بعض حلقوں کا رویہ یہ ہے کہ وہ کسی بھی مناسبت کی وجہ سے ایک بات کو مقصود شرعی ٹھہرا دیتے ہیں اور پھر اس کی ضد میں دسیوں ثابت شدہ مسائل و احکام میں ترمیم کی مہم شروع کردیتے ہیں، مثلاً قرآن و سنت میں کسی بات کا حکم دیا گیا یا کسی کام سے ممانعت کی گئی، اور اس میں اتفاق سے کوئی فائدہ یا نقصان کا پہلو بھی موجود ہے تو اس فائدہ کے حصول اور اس نقصان سے تحفظ کو مقصود شرعی ٹھہرایا اور اس کی بنیاد پر حل و ترمیم کا کام شروع کیا۔ حالانکہ اصولیین کے نزدیک محض اتنی تھوڑی بہت مناسبت سے کسی چیز کو بطورِ علت متعین نہیں کیا جاسکتا جبکہ تخریج مناط و غیرہ مختلف مراحل سے خوب احتیاط و چھان بین کے ساتھ اس کو گزارا نہ جائے۔
د۔ یہاں دو چیزوں کو الگ الگ سمجھنا اور ان کی جداگانہ حیثیت و مقام کا خیال رکھنا ضروری ہے، ایک چیز ہے علت یعنی شرعی احکام کی اصل بنیاد و اساس، اور دوسری چیز ہے اسرار و حکم، یعنی شریعت نے انسانیت کو جو کچھ احکام دیئے ہیں، ان میں کیا کچھ اسرار و رموز اور فوائد و مصالح پنہاں ہیں؟ پہلی چیز پر وجوداً و عدماً حکم شرعی کا مدار ہوتا ہے کہ اگر علت موجود ہو تو حکم بھی برقرار رہے گا اور علت نہیں تو متعلقہ حکم بھی معدوم، جبکہ اسرار و حِکم پر شرعی احکام کا مدار نہیں رکھا جاتا، فوائد اور حکمتوں کی تو ایک پوری کائنات ہے اور بیچاری عقل انسانی اس پوری کائنات کا عملی احاطہ تو کیا کرے، اس کا سیر کرنا اور تمام حکمتوں تک رسائی حاصل کرنا بھی اس کے لیے مشکل اور نہایت مشکل ہے، لہذا اگر کسی حکم شرعی میں بظاہر کوئی و مصلحت محسوس نہ بھی ہو تو بھی محض اس کی وجہ سے حکم ٹالنا درست نہیں۔
اب اگر کوئی شخص مقاصد شریعت پر احکام کا مدار رکھنا چاہتا ہے اور اس کسوٹی پر حلال و حرام کے فیصلہ کرنے کا خواہاں ہے تو گویا وہ مقاصد کو علت کے مترادف سمجھتا ہے، لہذا ضروری ہے کہ تعلیق احکام کے اصول و ضوابط کو مکمل طور پر مدنظر رکھ کر رہی کسی چیز کے مقصود شرعی ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرے ورنہ تو اس کی حیثیت زیادہ سے زیادہ حکم و اسرار کی ہوگی جس پر احکام شریعت کا مدار رکھنا بالاتفاق غلط ہے۔
مقاصد شریعت کے موضوع کے ساتھ اعتناء رکھنے والے مختلف اہل علم حضرات کے طرز عمل اور ان کے علمی زندگی سے بڑی حد تک جادۂ اعتدال معلوم کیا جاسکتا ہے، چنانچہ علامہ خطابی، امام غزالی، امام عزّالدین اور علامہ شاطبی رحمہم اللہ، یہ ان حضرات کے اسماء گرامی ہیں جنہوں نے حیات زندگانی کا بڑا حصہ مقاصدِ شریعت کے استخراج و استنباط اور اس کی خدمت کی نذر کیا، اور اپنی ان ہی خدمات کے بدولت اس جیسے غیرمخدوم موضوع کو گویا ایک مستقل فن کی حیثیت دی، بالخصوص امام عزالدین کی ’’القواعد الکبری‘‘ اور علامہ شاطبی رحمہ اللہ کی ’’الموافقات‘‘ نے تو اس کو بامِ عروج تک پہنچایا، اس کے ساتھ ساتھ اگر دیکھا جائے تو ان تمام حضرات کو اللہ تعالی نے مضبوط علمی و عملی استعداد و لیاقت سے بھی نوازا تھا جس کی وجہ سے بہت سے معاصرین اور بیشتر متاخرین نے ان کو مجتہد تک بھی قرار دیا، لیکن غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ان تمام باتوں کے باوجود ان کا طرز عمل اور فتویٰ و قضاء اپنے ہم مذہب علماء کے موافق رہا اور اپنے اس وسیع علمی تجربہ اور مقاصد شریعت سے اچھی طرح واقفیت و مہارت کے باوجود انہوں نے جدید اجتہاد کی کوئی خاص ضرورت محسوس نہیں فرمائی، نہ ہی ’’مقاصد شریعت‘‘ کو بنیاد پر منصوص مسائل میں ترمیم و حذف کی راہ اپنائی۔
حضرت علامہ شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ نے اپنی نفیس کتاب ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ میں شرعی احکام کے جو کچھ توجیہات و مصالح لکھے ہیں، وہ بھی زیادہ تر اسرار و حِکم کے قبیل سے ہے جس پر شرعی احکام کا مدار نہیں رکھا جاسکتا، چنانچہ آپ کے ہم عصر علماء اور آپ کے بعد آنے والے مستند اہلِ علم نے ہمیشہ اس کتاب کو اسی حیثیت کے ساتھ قبول فرمایا بلکہ آپ کے گرانقدر اولاد و احفاد اور احباب و تلامذہ کا بھی یہی رویہ رہا ہے کہ شرعی احکام کے اسرار و رموز اور اس میں پنہاں مصالح و فوائد کو بیان کرنے کے لیے ان کے پاس ذخائر کے ذخائر تھے لیکن عمل، فتویٰ او رقضاء میں وہ اصولیین اور فقہاء کرام کے اصول و ضوابط کے پابند رہتے تھے اور مقاصد شریعت کے عنوان سے منصوص اور متفق علیہ مسائل میں کبھی حک یا ترمیم کے درپے ہونے کی جسارت نہیں فرمائی، خصوصاً آپ کے فرزند ارجمند سراج الہند حضرت علامہ شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ، جن کو اللہ تعالی نے گوناگوں صفات و امتیازات سے نوازا تھا، ان کا یہی دستوررہا جو ان کے فتاویٰ اور تحریرات سے بآسانی معلوم کیا جاسکتا ہے۔
اس کے بالمقابل جب آٹھویں صدی ہجری میں علامہ نجم الدین طوفی مرحوم نے مصلحت کی رعایت رکھنے پر حد سے کچھ زیادہ ہی زور دینا شروع کیا، اور ’’مصالح‘‘ پر شرعی احکام کا مدار رکھنے کا موقف اختیار کیا بلکہ اس کے مقابلے میں نص کو چھوڑنے تک پر آمادگی ظاہر کی، تو جمہور اہل علم نے اس وقت سے لیکر آج تک ان کے موقف کی واضح طور پر تردید و تنقید کی، اور مصلحت کے باب میں اس قدر وسعت دینے کو مسترد کردیا۔
س۔ کسی چیز کو مقاصد شریعت میں ٹھہرانے کے بعد اس کے حوالہ سے ہمارا طرز عمل اور عملی برتاؤ کیا ہونا چاہئے؟ اس کا مقاصد شریعت میں سے ہونا قطعی ہے یا ظنی؟ کس حد تک اس کا پاس و لحاظ رکھنا ضروری ہے؟ اور کیا اس کی وجہ سے دیگر مسائل و احکام میں کچھ ترمیم و تبدیلی کی جاسکتی ہے یا نہیں؟ اگر ہاں تو کس نوعیت کے مسائل میں؟ صرف ظنیات میں یا منصوص و قطعی مسائل میں بھی کچھ حک یا اضافہ ہوسکتا ہے؟ اس مزعومہ مقاصد کا منصوص یا مستنبط مسائل کے ساتھ تعارض کے وقت کیا ضابطہ اختیار کیا جائے گا؟
یہ اور اس قسم کے تمام حدود و قیود کو واضح کرنا ضروری ہے، یہاں عموماً دیکھا یہ جاتا ہے کہ مقاصد شریعت کے عنوان کے تحت صرف غیرمنصوص مسائل ہی میں حکم جاری کرنے پر اکتفاء نہیں کیا جاتا بلکہ ساتھ بہت سے منصوصی مسائل کو بھی اس بنیاد پر تختہ مشق بنایا جاتا ہے اور جہاں کہیں کوئی مسئلہ ان مزعومہ مقاصد شریعت کے خلاف نظر آیا تو اس مسئلہ میں ترمیم کا دروازہ کھولا، چاہے وہ مسئلہ منصوصی یا متفق علیہ کیوں نہ ہو۔
مثلاً کچھ نصوص کو دیکھ کر یہ اخذ کرلیا گیا کہ امن و امان اور انسانیت کے درمیان حریت و مساوات کو برقرار رکھنا مقصود شرعی ہے، اب قتل مرتد، شرعی حجاب، اسلامی ممالک میں کفار کا ذمی ہو کر رہنا، کفار کے ساتھ دلی مودت و محبت کا ممنوع ہونا، مرد کے مقابلہ میں عورت کی گواہی، دیت اور حصہ میراث کم ہونا، و غیرہ کئی مسائل چونکہ اس مزعومہ مقاصد کے معیار پر پورے نہیں اترتے، اس لیے اب ان مقاصد کے حدود و قیود طے کرنے اور اس پر نظر ثانی کرنے کے بجائے ان منصوص مسائل میں ہی تبدیلی کا عمل شروع ہوجاتا ہے اور اس کے لیے تاویل و تحریف کے نت نئے راستے نکالے جاتے ہیں تا کہ کسی طرح یہ مسائل ان مزعومہ مقاصدِ شریعت کے خلاف نہ رہیں۔
اسی طرح مالی معاملات اور خرید و فروخت کے بارے میں شرعی نصوص کو دیکھ کر انسانی ضروریات پوری کرنا، مالی استحصال کا سدّ باب کرنا، مالی معاملات کے متعلق تنازعات ختم کرنے اور ’’ناحق‘‘ کسی کے مال کھانے کی ممانعت و غیرہ کچھ باتوں کو ان تمام نصوص و احکام کا ’’مقصود‘‘ ٹھہرایا گیا پھر اس کی بنیاد پر بیوعِ باطلہ، بیوعِ فاسدہ اور بیوع مکروہہ و غیرہ کے تقریباً سینکڑوں مسائل کو ان مزعومہ مقاصد کے بل بوتے تختۂ مشق بنایا گیا اور چند ایک صورتوں کو چھوڑ کر تمام مسائل کی گنجائش دی جانے لگی، حالانکہ ان میں سے بہت سے مسائل ایسے بھی ہیں جن کی ممانعت صرف فقہاء کرام کی مستنبط کردہ نہیں بلکہ خود نصوص میں اس کی صاف ممانعت کی گئی۔
حالانکہ اولاً تو کسی چیز کو مقاصد شریعت میں سے ٹھہرانے سے پہلے حد درجہ احتیاط و تامل کی ضرورت ہے اور پھر جب کسی بات کو یہ مقام دیا ہی جائے تو بھی ساتھ ساتھ یہ طے کرنا بھی لازم ہے کہ اس کی مقصودیت کس حد تک ہے؟ کیا شریعت کی نظر میں اس بات کی مقصودیت اس قدر اہم ہے کہ اس کہ وجہ سے دیگر مسائل میں تبدیلی کی جائے یا نہیں؟ پہلی صورت میں پھر کس نوعیت کے مسائل میں اس کے بل بوتے تبدیلی کی جاسکتی ہے؟ ان تمام حدود و قیود کو متعین کرنے کے بعد ہی اس راہ میں کوئی قدم اٹھایا جانا چاہئے، ورنہ تو اگر اِن اصول و ضوابط کا لحاظ نہ رکھا جائے اور ہر کس و ناکس کو مقاصد شریعت مقرر کرنے پھر اس کے تنفیذ و تطبیق کرنے میں آزادی دی جائے جیسا کہ بعض جوانب سے اس کی صدائیں بلند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو خطرہ اور قوی خطرہ ہے کہ اس معصوم سے عنوان کے تحت پوری شریعت اور احکام شریعت کا مبارک ذخیرہ نت نئی تحریفات و تاویلات کے ایک گلدستہ کی شکل اختیار کرے گا، پھر بہت جلد شریعت قانونِ الہی رہنے کے بجائے بازیچہ اطفال بن جائے گی اور آئندہ آنے والے نسل کے لیے اس میں حق و باطل کی تمییز کرنا ممکن نہ رہے گا۔
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمہ اللہ نے بھی شرعی احکام کے اسرار و رموز پر ایک کتاب تحریر فرمائی تھی، اس کے مقدمہ میں آپ بڑی مناسب بات ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
’’اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اصل مدارِ ثبوت شرعیہ کا نصوص شرعیہ ہیں جن کے بعد ان کے امتثال اور قبول کرنے میں ان میں کسی مصلحت و حکمت کے معلوم ہونے کا انتظام کرنا بالیقین حضرت سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ بغاوت ہے جس طرح دنیوی سلطنتوں کے قوانین کی وجوہ و اسباب اگر کسی کو معلوم نہ ہوں او وہ اس معلوم نہ ہونے کے سبب ان قوانین کہ نہ مانے اور یہ عذر کردے کہ بدون وجہ معلوم کیے ہوئے میں اس کو نہیں مان سکتا تو کیا اس کے باغی ہونے میں کوئی عاقل شبہ کرسکتا ہے؟ تو کیا احکامِ شرعیہ کا مالک ان سلاطین دنیا سے بھی کم ہوگیا؟غرض اس میں کوئی شک نہ رہا کہ اصل مدار ثبوت احکام شرعیہ فرعیہ کا نصوص شرعیہ ہیں لیکن اسی طرح اس میں بھی شبہ نہیں کہ باوجود اس کے پھر بھی ان احکام میں بہت سے مصالح و اسرار بھی ہیں اور گو مدار ثبوت احکام کا ان پر نہ ہو جیسا کہ اوپر مذکور ہوا لیکن ان میں یہ خاصیت ضرور ہے کہ بعض طبائع کے لیے ان کا معلوم ہوجانا احکام شرعیہ میں مزید اطمینان پیدا ہونے کے لیے ایک درجہ میں معین ضرور ہے گو اہل یقین راسخ کو اس کی ضرورت نہیں لیکن بعض ضعفاء کے لیے تسلی بخش و قوت بخش بھی ہے، اسی راز کے سبب بہت سے اکابر و علماء مثل امام غزالی و خطابی و ابن عبدالسلام و غیرہم رحمہم اللہ تعالی کے کلام میں اس قسم کے لطائف و معانی مذکور بھی پائے جاتے ہیں۔‘‘ [احکام اسلام عقل کی نظر میں: ۱۳]
مصالح و مقاصد کا کہاں، کیسے اور کس حد تک اعتبار کیا جاتا ہے؟ اس کے متعلق عالم عرب کے مشہور عالم شیخ عبدالوہاب خلاف رحمہ اللہ نے اپنی تحقیق کا جو کچھ خلاصہ ذکر فرمایا ہے وہ بڑی حد تک مناسب اور معتدل ہے، آپ اپنی ایک کتاب ’’مصادر التشریع الاسلامی فیما لانص فیہ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:
’’مصلحت اور اس میں اختلاف کرنیوالے مختلف اہل علم کے کلام میں غور و خوض کرنے کے بعد تین باتیں بطور خلاصہ سامنے آتی ہیں:
۱۔ معاملات کے باب میں جب کوئی حکم قطعی نص یا صریح اجماع سے ثابت ہوجائے تو اس سے دوسری طرف عدول کرنا درست نہیں اِلّا یہ کہ کوئی ضرورت داعی ہو، کیونکہ ضرورت کے مواقع نص کی وجہ سے مستثنی ہیں، لہذا ضرورت کے وقت اس خاص نص سے عدول کرنا ایسا ہی ہے جیسے کہ ایک نص سے دوسری نص کی طرف عدول کیا جائے۔
۲۔ جن مسائل کا حکم قطعی نص یا صریح اجماع سے ثابت نہ ہو تو اگر وہاں کسی منصوص یا اجماعی مسئلہ پر قیاس ہوسکے تو اسی قیاس پر عمل کیا جائے گا اور اگر قیاس سے کام نہ لیا جاسکے تو وہاں لوگوں کی مصالح کا اعتبار ہوگا، لوگوں کی مصالح سے جلبِ منعفت یا دفعِ مضرت مراد ہے۔
۳۔ جس ضرورت یا مصلحت کا شرعی احکام میں لحاظ رکھا جاتا ہے، ضروری ہے کہ اس کے تحقیق کا فیصلہ ایسی جماعت کرے جو عادل ہو، شرعی احکام اور دنیا کے مصالح جاننے میں پوری بصیرت کی حامل ہو، اس بات کا فیصلہ کسی ایک فرد یا چند افراد کے حوالہ کرنا درست نہیں۔ اسی لیے بعض اہلِ علم نے سدِ ذریعہ کے طور پر مصلحت کے باب کا ہی انکار فرمایا ہے۔‘‘ [مصادر التشریع الاسلامی فیما لانص فیہ: ۱۰۱]
مولانا شاہ اسماعیل دہلوی رحمہ اللہ اصول فقہ پر اپنے متنِ متین میں تحریر فرماتے ہیں:
’’القیاس بمجرد رعایۃ المصالح و الفاسد فاسد، الحکم بکون الوصف علۃ نظرا الی مجرد اشتمال علی المصالح و المفاسد باطل۔‘‘ محض مصالح و مفاسد کی رعایت رکھ کر قیاس کرنا فاسد ہے، ایک وصف کے محض کسی مصلحت یا مفسدہ پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اس کو علت قرار دینا غلط ہے۔‘‘ [الرسالہ فی اصول الفقہ: ۱۵]
مقاصدِ شریعت اور طرق استنباط کے حوالہ سے آج کل مختلف حلقوں کی جانب سے بہت کچھ بے احتیاطی کا رویہ سامنے آرہا ہے اور چونکہ اس کی حیثیت بھی اصول و بنیاد کی ہے، اس لیے اس بے احتیاطی یا بدفہمی کی وجہ سے پھر موجودہ فقہی ذخیرہ کے حوالہ سے بھی شکوک و شبہات اور بے اعتمادی کی فضاء پیدا کی جارہی ہے جو سنگین گمراہی کا ذریعہ بن سکتا ہے، اس لیے اس موضوع پر بہت کچھ کلام کرنے کی ضرورت ہے، اللہ تعالی فہم سلیم اور استقامت نصیب فرمائیں۔ عبیدالرحمن۔۔۔ ۲۹؍جمادی الاخریٰ ۱۴۴۰ھ



آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں