آج : 23 February , 2019

ویلنٹائن ڈے کی حقیقت اور شرعی حیثیت

ویلنٹائن ڈے کی حقیقت اور شرعی حیثیت

زیرنظر تحریر میں اسلامی نقطۂ نظر کو بیان کیا گیا ہے تا ہم جان لیں کہ اس بارے میں ہمیں قرآن و حدیث اور صحیح روایات سے کیا رہنمائی ملتی ہے۔
اور خیال رہے کہ یہ مسلمان کے ایمان کا معاملہ اور اس حساس معاملہ کو ہم سرسری باتوں میں آکر پس پشت نہیں ڈال سکتے اور نہ ہی بے حیائی کسی مسلمان مرد و وعورت کا وطیرہ اور شیوہ ہوسکتا ہے۔
قارئیں کرام! ۱۴؍ فروری اس تاریخ کو خاص طور پر یورپ میں یوم محبت کے طور پر منایا جاتا ہے اس تاریخ کو منائے جانے والے ویلنٹائن ڈے کی تاریخ ہمیں روایات کے انبار میں ملتی ہے اور روایات کا یہ دفتر اسرائیلیات سے بھی بدتر ہے جس کا مطالعہ مغربی تہذیب میں بے حیائی و بے شرمی کی تاریخ کے آغاز کا اشارہ دیتا ہے اس بے ہودہ تہوار کے بارے میں کئی قسم کی روایات رومیوں اور ان کے وارث عیسائیوں کے وہاں معروف اور مشہور ہیں، جن میں سے کچھ یہ ہیں۔
شہنشاہ کلاڈیسس دوم کے دور میں سرزمین روم مسلسل جنگوں کی وجہ سے جنگوں کا مرکز بنی رہی اور یہ عالم ہوا کہ ایک وقت کلاڈیسس کی اپنی فوج کے لئے مردوں کی بہت کم تعداد آئی جس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ روم کے نوجوان اپنی بیویوں کو چھوڑ کر دور دراز لڑنے کے لئے جانا پسند نہیں کرتے تھے، اس کا حل بادشاہ نے یہ نکلا کہ ایک خاص عرصہ تک کے لئے شادیوں پر پابندی لگادی تا کہ نوجوانوں کو فوج میں جانے کے لئے آمادہ کیا جاسکے۔ اس موقع پر سینٹ ویلنٹائن نے سینٹ ماریوس کے ساتھ مل کر خفیہ طور پر نوجوان جوڑوں کی شادی کروانے کا اہتمام کیا؛ لیکن ان کا یہ عمل چھپ نہ سکا اور بادشاہ کلاڈیسس کے حکم پر سینٹ ویلنٹائن کو گرفتار کرلیا گیا اور تکلیفیں دے کر ۱۴؍ فروری ۲۷۰ء میں قتل کردیا گیا، اس طرح ۱۴؍ فروری سینٹ ویلنٹائن کی موت کے باعث اہل روم کے لئے معزز و محترم دن قرار پایا۔
اس سلسلہ میں ایک واقعہ یہ بھی ملتا ہے کہ ویلنٹائن نام کا ایک معتبر شخص برطانیہ میں بھی تھا، یہ بشپ آف ٹیرنی تھا جسے عیسائیت پر ایمان کی جرم میں ۱۴؍ فروری ۲۶۹ء کو پھانسی دی گئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ قید کے دوران بشپ کو جیلر کی بیٹی سے محبت ہوگئی اور وہ اسے محبت بھرے خطوط لکھا کرتا تھا، اس مذہبی شخصیت کے ان محبت ناموں کو ویلنٹائن کہا جاتا ہے۔
چوتھی صدی عیسوی تک اس دن کو تعزیتی انداز میں منایا جاتا تھا لیکن رفتہ رفتہ اس دن کو محبت کی یادگار کا رتبہ حاصل ہوگیا اور علاقہ میں اپنے منتخب محبوب اور محبوبہ کو اس دن محبت بھرے خطوط، پیغامات، کارڈز اور سرخ گلاب بھیجنے کا رواج پاگیا۔
اس کے بعد امریکہ اور جرمنی میں بھی منایا جانے لگا، برطانوی کاؤنٹی ویلز میں لکڑی کے چمچ ۱۴؍فروری کو تحفے کے طور پر دیئے جانے کیلئے تراشے جاتے تھے اور خوبصورتی کیلئے ان کے اوپر دل اور چابیاں بنائی جاتی تھیں جو تحفہ وصول کرنے والے کیلئے اس بات کا اشارہ ہوتا کہ تم میرے بند دل کو اپنی محبت کی چابی سے کھول سکتے ہو۔
ویلنٹائن ڈے کے بارے میں تاریخ دو مختلف موقف بیان کرتی ہے یہ دونوں موقف ایک ہی شخص سینٹ ویلنٹائن کے حوالے سے اکٹھے ہیں۔ اس دن کے حوالے سے یہ تمام خرافات تاریخ کے اوراق میں موجود ہیں، تاریخی شواہد کے مطابق ویلنٹائن کے آغاز کے آثار قدیم رومن تہذیب کے عروج کے زمانے سے چلے آرہے ہیں۔ ۱۴؍فروری کا دن وہاں رومن دیوی، دیوتاؤں کی ملکہ ’’جونو‘‘ کے اعزاز میں یوم تعطیل کے طور پر منایا جاتا تھا، رومی ’’جونو‘‘ ملکہ کو صنف نازک اور شادی کی دیوی کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ جبکہ ۱۵؍فروری ’’لیوپرکس‘‘ دیوتا کا دن مشہور تھا اور اس دن رومی جشن زرخیزی مناتے تھے اس دن وہ رنگارنگ میلوں کا اہتمام کرتے۔ جشن کی سب سے مشہور اور خاص چیز نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے نام نکالنے کی رسم تھی، اس کا طریقہ کچھ اس طرح تھا کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے نام لکھ کر ایک برتن میں ڈال دیتے اور نوجوان لڑکے باری باری اس برتن سے پرچی نکالتے اور پھر پرچی پر لکھا نام جشن ختم ہونے تک اس نوجوان کے ساتھ رہتا تھا پھر آخر میں دونوں شادی کے بندھن میں بندھ جاتے۔
قارئیں کرام! مندرجہ بالاسطور میں اس تاریخ کی ساری شرمناکیاں تاریخی حیثیت اور اس کا تاریخ میں اتار چڑھاؤ اختصار کے ساتھ مذکور ہوا، اب آتے ہیں اسلام کی جانب اور جانتے ہیں کہ اس کے بارے میں ہمیں قرآن و سنت اور نصوص صحیحہ ہماری کیا رہنمائی کرتی ہیں۔

ویلنٹائن ڈے کی شرعی حیثیت
یہ دن محبت کا تہوار منانے میں بت پرست رومیوں اور پھر اہل کتاب عیسائیوں کے ساتھ مشابہت ہے کیونکہ انہوں نے اس میں رومیوں کی تقلید اور پیروی کی ہے اور یہ دن عیسائیوں کے دین میں نہیں ہے، اور جب دین اسلام میں عیسائیوں سے کسی ایسی چیز میں مشابہت سے ممانعت ہے جو ہمارے دین میں نہیں ہے؛ بلکہ ان عیسائیوں کے حقیقی دین میں نہیں ہے، تو پھر ایسی چیز جو انہوں نے تقلیداً ایجاد کر لی ت وبطریق اولیٰ ممنوع ہے۔ ہمیں ایسے تمام تہواروں سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے جس کا تعلق کسی مشرکانہ یا کافرانہ رسم سے ہو، ہر قوم کا ایک الگ خوشی کا تہوار ہوتا ہے، اور اسلام میں مسلم قوم کے لئے واضح طور پر خوشی پر مبنی تہوار عیدین ہیں۔
ہادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ:
’’یَا أبابَکر ان لکل قوم عیدا و ھذا عیدنا‘‘ (صحیح بخاری، رقم: ۹۰۴)
اے ابوبکر ہر قوم کی اپنی ایک عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے۔
ویلنٹائن ڈے منانے کا مطلب مشرک رومی اور عیسائیوں کی مشابہت اختیار کرنا ہے۔ اور کسی قوم کی مشابہت اختیار کرنا اسی قوم میں سے ہونے کے مترادف اور برابر ہے۔
رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’من تشبه بقوم فھو منھم‘‘ (سنن ابی داؤد، رقم: ۳۵۱۲)
جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہیں میں سے ہے۔
ایک روایت ہے جس کے اندر بتایا گیا ہے کہ مسلم قوم یہود و نصاریٰ کی مکمل پیروی کریں گے، اور ہر کام میں ان کی نقل کریں گے، اور آج مسلم قوم غیروں کی نقل کررہی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑ رہی ہے۔ اس لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے بچنے کا حکم دیا۔ حدیث شریف ملاحظہ فرمائیں:
عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا شِبْرًا ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ تَبِعْتُمُوهُمْ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْيَهُودُ ، وَالنَّصَارَى ، قَالَ : فَمَنْ ۔ (صحیح بخاری، رقم: ۶۸۰۲)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں کی بالشت بر بالشت اور ہاتھ بر ہاتھ پیروی کرو گے، حتی کہ اگر وہ گوہ کے بل میں داخل ہوئے تو تم بھی ان کی پیروی میں اس میں داخل ہوگے، ہم نے کہا اے اللہ تعالی کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہودیوں اور عیسائیوں کی؟ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور کون؟
دور حاضر میں ایمان اور کفر کی تمیز کئے بغیر تمام لوگ ویلنٹائن ڈے جو مناتے ہیں اس کا مقصد بھی بغیر تفریق کے تمام لوگوں کے درمیان محبت قائم کرنا ہے اور اس میں شک نہیں کہ کفار سے دلی محبت قائم کرنا ممنوع اور غلط ہے۔ جیسا کہ سورۃ المجادلۃ کی آیت ۲۲ میں ہے کہ:
«لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ»
’’تم نہ پاؤگے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مخالفت کی اگر چہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان والے ہوں۔‘‘
اس موقع پر نکاح کے بندھن سے ہٹ کر ایک آزاد اور رومانوی قسم کی محبت کا اظہار کیا جاتا ہے جس میں لڑکے لڑکیوں کا آزادانہ ملاپ، تحفوں اور تمام چیزوں کا لین دین اور غیراخلاقی حرکات کا نتیجہ زنا اور بداخلاقی کی صورت میں نکلتا ہے جو اس بات کا اظہار ہے کہ: ہمیں مرد اور عورت کے درمیان آزادانہ تعلق پر کوئی اعتراض نہیں ہے!
اگر اہل مغرب کی طرح ہمیں اپنی بیٹیوں سے عفت مطلوب نہیں! اور اپنے نوجوانوں سے پاک دامنی درکار نہیں! تو قرآن کریم کی سورۃ النور کی آیت ۱۹ میں ایسے لوگوں کے لیے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب کی وعید وارد ہوئی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو معاشرہ قائم فرمایا تھا اس کی بنیاد حیا پر رکھی جس میں زنا کرنا یہ نہیں بلکہ اس کے اسباب پھیلانا بھی ایک جرم ہے مگر اب لگتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی حیا کے اس بھاری بوجھ کو زیادہ دیرتک اٹھانے کے لئے تیار نہیں بلکہ اب وہ حیا کے بجائے وہی کریں گے جو ان کا دل چاہے گا جو یقیناًمذموم ہے۔
ایسے حالات میں ہمیں عفت و پاکدامنی کو ہاتھ سے چھوٹنے نہ دینا چاہئے اور اپنی تہذیب و تمدن، ثقافت و روایات کو اپنانا چاہیے۔ غیروں کی اندھی تقلید سے باز رہنا چاہئے تا کہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرسکیں اور جان لینا چاہیے کہ یوم تجدید محبت منانے کے نام پر کھلم کھلا بے راہ روی کی ترغیب دی جارہی ہے اور اسلامی معاشرے میں ان غیرمسلموں کے تہواروں کو جان بوجھ کر ہوا دی جارہی ہے تا کہ مسلمان اپنے مبارک اور پاک تہوار چھوڑ کر غیراسلامی تہوار منا کر اسلام سے دور ہوجائیں۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ ویلنٹائن ڈے منانا اور غیرشرعی محبت اور اس کا اظہار ناجائز ہے۔
اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ مسلمانوں کی حالت درست کرے اور ہم سب کو صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ یقیناًاللہ تعالی سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔ آمین

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں