[مارچ ۲۰۱۴ء میں دبئی میں شیخ عبداللہ بن بیہ حفظہ اللہ اور امیرعبداللہ بن زاید کے زیراہتمام قیام امن کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس میں کیے گئے خطاب کے اہم نکات]
یہ ۱۹۹۹ء کی بات ہے جب راقم نے باجی ریحانہ تبسم فاضلی کی تصنیف ’’مجاہد تم کہاں ہو؟‘‘ کے پہلے ایڈیشن کا ٹائٹل ایک کتب فروش کے شوکیس پر سجا دیکھا۔
اس میں شبہ نہیں کہ انسان ایک دوسرے کا اثر لیتا اور جن لوگوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے ان کے اخلاق اور عادات واطورا سے متاثر ہوتا ہے،
استاذ محترم حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب، دام اللہ ظلھم علینا، کے سفر نامے اس وقت تک تین مختلف کتابوں کی صورت میں شائع ہوچکے ہیں۔
دینی مدارس کی سالانہ تعطیلات کے اختتام کے ساتھ ہی نئے تعلیمی سال کی سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں اور عید الفطر کے بعد سے ملک کے مختلف حصوں میں ایک درجن سے زائد دینی اداروں میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کی تقریبات میں شرکت کی سعادت حاصل کر چکا ہوں۔
جس کا دھڑکا تھا، آخر وہ گھڑی آہی گئی، دو تین روز زندگی اور موت کی کشمکش میںگزار کے ۲۶؍رجب المرجب کی دوپہر حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحبؒ اپنے مالک حقیقی سے جاملے اور برصغیر میںعلمی روایت کے ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا ۔
مکتب مکتب: بچوں کا وہ ابتدائی ادارہ جہاں قاعدہ (نورانی ہو یا بغدادی یا اس معیار کا کوئی اور قاعدہ) نماز اور ضروری اذکار اور ناظرہ قرآن کریم یا حفظ قرآنِ کریم کی تعلیم دی جاتی ہو؛ بعض مکاتب میں ابتدائی نوشت و خواند کا کام بھی کرایا جاتا ہے۔
ترکی ایک صدی کے بعد پھر سے پوری دنیا کی نگاہوں اور عالم اسلام کی امیدوں کا مرکز بن گیا ہے۔
حمد و ستائش اس ذات کے لیے ہے جس نے اس کارخانۂ عالم کو وجود بخشا اور درود و سلام اس کے آخری پیغمبر پر جنھوں نے دنیا میں حق کا بول بالا کیا
جس طرح رزق حلال کا اثر نسلوں تک باقی رہتا ہے، اسی طرح حرام لقمے کا اثر بھی کئی نسلوں تک جاتا ہے۔ دعا کی قبولیت میں بھی رزق حلال کا بہت اہم دخل ہے۔