’’والعصر، ان الانسان لفی خسر،الاالذین آمنواوعملوالصالحات، وتواصوابالحق وتواصوابالصبر۔‘‘(سورۃ العصر)ترجمہ:قسم ہے عصر کی،مقرر انسان ٹوٹے میں ہے،مگرجولوگ کہ یقین لائے اورکئے بھلے کام اورآپس میں تاکیدکرتے رہے سچے دین کی اورآپس میں تاکید کرتے ر ہے تحمل کی۔(ترجمہ شیخ الہند)
اذان کی روح پرور گونج صرف نماز کیلئے بلاوا یا ہمارے دل اور روح کے سرور کا باعث ہی نہیں ہے بلکہ یہ اسلام کی عظمت کا نشان ہے۔
والدین کی عظمت و تقدس کا اعتراف ایمان کا ایک اہم حصہ ہے،اس شخص کو جنت کی خوشخبری دی گئی ہے جو ماں کی خدمت کے لئے خود کو وقف رکھتاہو، حضور کی یہ حدیث چشم کشا ہے، کہ ماں کی قدموں کے نیچے جنت ہے (نسائی ج: ص )
اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:(اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوْرِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْراً فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالاَرْضَ مِنْہَا اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ)۔اللہ کے نزدیک مہینے گنتی میں بارہ ہیں، اس روز سے کہ اس نے آسمانوں او رزمین کو پیدا کیا۔ اللہ کی کتاب میں سال کے بارہ مہینے لکھے ہوئے ہیں، ان میں […]
انسان دارالامتحان میں ہے، دنیاوی زندگی میں انسان کے ہر عمل سے یا تو اس کی اخروی زندگی سنوررہی ہوتی ہے، یا خراب ہو رہی ہوتی ہے ، انسان کے ہر عمل پر اخروی کام یابی وناکامی مرتب ہو رہی ہوتی ہے۔
حضرت ابرہیم خلیل ﷲ کی یادگار سنت ابراہیمی،خواہشات نفسانی کی قربانی اور رضائے الٰہی کا عظیم ذریعہ اسلامی سال کے آخری مہینے کے مخصوص ایام میں رضائے الٰہی کے لئے مخصوص جانوروں کی قربانی قرب خداوندی حاصل کرنے کا ایک موثر ترین ذریعہ اور سبب ہے ۔ساتھ ہی سنت ابراہیمی اور سرکارمدینہ ﷺ کی بھی […]
“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مفہوم: ان دس دنوں میں کیے ہوے اعمال اللہ کو سب سے محبوب ہیں. پوچھا گیا کہ جہاد سے بھی نہیں؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مفہوم:اور جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں مگر وہ جو اپنا مال اور جان لے کر جاۓ اور […]
ہم مسلمانوں کواس بات پرفخر اورشرف حاصل ہے کہ ہم اس اللہ واحدوصمد کے بندے وغلام ہیں جس سے نہ کوئی پیدا ہوا اورنہ وہ کسی سے پیدا ہوا ، اورنہ کوئی اس کا ہمسر ہے ،
ہم مسلمانوں کواس بات پرفخر اورشرف حاصل ہے کہ ہم اس اللہ واحدوصمد کے بندے وغلام ہیں جس سے نہ کوئی پیدا ہوا اورنہ وہ کسی سے پیدا ہوا ، اورنہ کوئی اس کا ہمسر ہے ، اوروہ ہمارا رب وپروردگار ہے ،
مسلم خواتین کے لیے پردہ (اس پورے معنی میں کہ چہرہ بھی چھپاہو) ضروری ہو یا نہ ہو، اسلامی نقطہ نظر سے اس کے بہتر ہونے میں کلام کی گنجائش نہیں نظر آتی۔