فرانس کے دارالحکومت پیرس میں 13 نومبر کو ہونے والے خونریز حملوں کے بعد دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت میں اضافہ تو ہوا ہی ہے لیکن برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ اور نسلی حملوں میں 300 فیصد سے زائد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
فلسطین میں اسرائیلی فوج کی منظم ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں مزید تین فلسطینی نوجوانوں کو شہید کردیا گیا جس کے بعد اکتوبر کے اوائل سے اب تک شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 97 ہوچکی ہیں جب کہ ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔
پیرس حملوں کے بعد کینیڈا نے بھی شامی پناہ گزینوں سے متعلق پالیسی سخت کرلی ہے۔ شام سے تنہا آنے والے مردوں کو پناہ نہ دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
شورش اور خانہ جنگی کے شکار شام میں روسی مداخلت کے بعد اب تک 400 سے زائد عام شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں جن میں کم ازکم 97 بچے بھی شامل ہیں۔
پیرس میں اسلام کے نام پر دہشت گردی کے حملوں نے نہ صرف فرانس بلکہ دیگریورپی ممالک اور امریکا میں مسلمانوں کی زندگی کو اذیت ناک بنا دیا ہے اور انہیں ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ وہ ان ممالک کے شہری نہیں بلکہ کوئی اجنبی ہیں اور اسی لیے ہر کوئی انہیں عجیب و […]
فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس مں حوارہ کیمپ کے قریب اسرائیلی فوجیوں نے ایک فلسطینی لڑکی کو گاڑی تلے روندنے کے بعد وحشیانہ انداز میں گولیاں مار کر شہید کردیا۔
اکستانی صوبہ پنجاب کے شہر جہلم میں مبینہ طور پر قرآن پاک کے مقدس اوراق نذر آتش کرنے پر ایک فیکٹری کو آگ لگا دی گئی۔
ہر تنظیمی وتحریکی کام کو عادلانہ ذہن و مزاج سے صحیح رخ پرگامزن رکھنے کے لئے مجلس شوریٰ کا قیام بڑی اہمیت کا حامل رہا ہے
فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے، غزہ کی پٹی اور بیت المقدس میں جمعہ کے روز “یوم الغضب ” کے مظاہروں کے دوران اسرائیل فوج نے مظاہرین پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم 160 شہری زخمی ہوگئے ہیں
امریکی ڈرون آپریٹرز نے ڈرون حملوں میں90 فیصد بے گناہ شہریوں کے مارے جانے کا راز افشا کرتے ہوئے صدر اوباما کو ڈرون پروگرام پر نظر ثانی کی اپیل کردی ہے۔