ایرانی اہل سنت کی ’اسلامی فقہ اکیڈمی‘ کا 18واں اجلاس دارالعلوم زاہدان میں ہفتہ اور اتوار 27-28 اپریل کو منعقد ہوگیا۔
ایرانی صوبہ سیستان بلوچستان کے دینی مدارس سے تعلق رکھنے والے درجنوں طلباء نے ‘عین العلوم گُشت’ (سراوان) کے احاطے میں پندرھواں مقابلہ تقریر، مضمون نگاری، مشاعرہ اور داخلی مجلے میں شرکت کی۔ مذکورہ تقریب کا آغاز بدھ 24 اپریل 3201ء میں ہوا جو اگلے دن تک جاری رہی۔
ممتاز عالم دین شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ایرانی وپاکستانی بلوچستان میں رونما ہونے والے شدید اور غیرمعمول زلزلے کے حوالے سے عوام کے نام ایک پیغام میں کہاہے اللہ تعالی کی وارننگ کو سنجیدگی سے لیکر توبہ واستغفار کرنا چاہیے۔
ممتازسنی عالم دین شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید اسماعیلزہی نے زاہدان شہر کے سنی عوام کے مسئلہ عیدگاہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اس حوالے سے صوبائی حکام کی غفلت اور رکاوٹ ڈالنے پرانہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
ممتازسنی عالم دین شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ایران میں ’’یوم اسلامی جمہوریہ‘‘ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سوال پیش کیا: کیا چونتیس برس کے بعد بھی پوری قوم ’اسلامی جمہوریہ‘ کے ساتھ کھڑی ہے؟ کتنے لوگوں نے اپنی راہیں جدا کردی اورکتنے ساتھ رہ گئے؟
ممتاز سنی عالم دین شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مسلمانوں کے حالات پر نظر ڈالتے ہوئے کہا: متعد فرازونشیب کے بعد مسلمانوں کو سمجھ آگیا کہ اسلامی تہذیب کی جانب واپس آنے کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہیں۔ مشرق و مغرب کے بیہودہ وعدوں سے انہیں کچھ ہاتھ نہیں آیا، الٹا ان کی […]
ایرانی کردستان میں پی ایچ ڈی لیول کی ایک سنی طالبہ کی تعلیم پرسکیورٹی حکام کی جانب سے پابندی عائد کردی گئی ہے۔
ایران کی مختلف یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں سنی طلبا اپنے علمائے کرام اور دانشوروں سے ملاقات کیلیے جمعرات سات مارچ میں دارالعلوم زاہدان پہنچ گئے جہاں سالانہ اجتماع منعقد ہوگیا۔
ممتاز سنی عالم دین مولانا عبدالحمید نے ایرانی صوبہ ’سیستان بلوچستان‘ کی تقسیم کی افواہوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ’بلوچستان‘ کے نام مٹانے کی کوشش پر اعلی حکام کو خبردار کیا۔
مرکزی بلوچستان میں ایک بڑے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز سنی عالم دین شیخ الاسلام مولانا عبدالحمیدنے ایران کی سنی برادری کو روادار اور اتحادکے متمنی قرار دیتے ہوئے اہل سنت کے جائز مطالبات اور آئینی حقوق کی تکمیل پر زور دیا۔