مولانا عبدالحمید کو رابطہ عالم اسلامی کی کانفرنس میں شرکت سے روک دیاگیا

مولانا عبدالحمید کو رابطہ عالم اسلامی کی کانفرنس میں شرکت سے روک دیاگیا

زاہدان/مکہ مکرمہ (سنی آن لائن) ایرانی اہل سنت کی ممتاز دینی شخصیت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کو رابطہ عالم اسلامی کی ’اسلام اور دہشت گردی کا مقابلہ‘ نامی کانفرنس میں شرکت سے روک دیاگیا ہے۔
مذکورہ کانفرنس کا افتتاحی پروگرام اتوار بائیس فروری (3 جمادی الاولی 1436) کو مکہ مکرمہ میں چارسو سے زائد مسلم شخصیات اور دانشوروں کی موجودی میں منعقد ہوگیا۔
دریں اثنا جامعہ دارالعلوم زاہدان کے مہتمم و شیخ الحدیث نے رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر عبدالمحسن الترکی کو خط لکھتے ہوئے اپنے پیغام کانفرنس کے شرکا تک پہنچا دیاہے۔
سنی آن لائن کے نامہ نگار کے مطابق مولانا عبدالحمید نے اپنے خط کے آغاز میں مذکورہ کانفرنس میں شرکت کے لیے مدعو کرنے پر ڈاکٹر الترکی کا شکریہ ادا کیاہے اور افسوس کے اظہار کے ساتھ ’بعض رکاوٹوں‘ کو اپنی عدم شرکت کی وجہ ظاہر کی ہے۔
مولانا عبدالحمید ساتھیوں سمیت چند دنوں تک تہران میں قیام کے بعد مکہ مکرمہ جانے سے روک دینے کے بعد واپس زاہدان آئے۔
رابطہ عالم اسلامی کی سپریم کونسل کے رکن نے اپنے خط کے ایک حصے میں ایسی کانفرنسز کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے لکھاہے: پوری دنیا بطورعام اور عالم اسلام بطور خاص شدت پسندی اور دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ سامراجی طاقتوں نے ایسے ہی مسائل کو بہانہ بناکر بعض مسلم ممالک پر چڑھائی بھی کردی ہے۔ لہذا اس کانفرنس کا انعقاد بہت اہم اور وقت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مسلم معاشرے میں شدت پسندی اور دہشت گردی کی جڑ پکڑنے کے اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے ’ظلم، امتیازی رویے، آمریت، قوموں کے مسلمہ حقوق کی پامالی، صہیونی ریاست کی امریکا و دیگر مغربی ممالک کی طرف سے مکمل حمایت، بعض مسلم ممالک کی آمرانہ پالیسیاں، اور بعض مسلمانوں کی کتاب وسنت سے عدم واقفیت اور غلط تفسیر و فہم‘ کو اس حوالے سے توجہ طلب قرار دیاہے۔
خطیب اہل سنت نے مسلم حکومتوں کے باہمی تنازعات کو بھی اختلافات اور دہشت گردی کی ترقی کا سبب یاد کیاہے۔ انہوں نے مسلم ممالک کے تنازعات کی تصفیہ کے لیے ’مذاکرات اور باہمی گفت وشنید‘ پر زور دیتے ہوئے بحرانوں سے نجات کے لیے ’قومی حکومتوں کی تشکیل‘ کو ضروری قرار دیاہے۔
مولانا عبدالحمید نے ’اسلام اور دہشت گردی کا مقابلہ‘ کی کانفرنس کو اپنا پیغام پہنچاتے ہوئے لکھاہے: دہشت گردی کے مقابلے کے لیے عسکری حملے ’کارگر‘ ثابت نہیں ہوتے اور اس کے بجائے فلسطین کی مکمل آزادی اور مظلوم فلسطینی قوم کے حقوق پر توجہ دینے اور مسلم ممالک کے باہمی تنازعات حل کرنے سے دہشت گردی کا مقابلہ بہتر طور پر کیاجاسکتاہے۔
اپنے خط کے آخر میں شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مذکورہ بالا مقاصد کے لیے ’عالم اسلام کے ممتاز علما اور معتبر دانشوروں‘ کی ایک ٹیم بنانے اور مختلف ممالک کے دوروں اور سیاسی جماعتوں کو مذاکرات و ڈائیلاگ پر آمادہ کرنے کے لیے زور دیا ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی ہے مسلم ممالک میں متحدہ اور قومی حکومتیں بناکر تنازعات کو لگام لگایاجائے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین