زاہدان (سنی آن لائن) خطیب اہل سنت زاہدان ایران نے مغرب میں اسلامی مقدسات کی مسلسل توہین کی جانب اشارہ کرتے ہوئے آزادی اظہار رائے کے نام پر دوسروں کی توہین کو ’خلاف عقل و منطق‘ قرار دے دیا۔
ہزاروں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے تیئس جنوری دوہزار پندرہ (دو ربیع الثانی تیرہ سو چھتیس) کے خطبہ جمعہ کے ایک حصے میں کہا: پیرس میں حالیہ واقعات کے بعد برطانیا کے وزیر اعظم کے بیان پر مجھے بہت ہی حیرت ہوئی۔ کیمرون نے کہا ہے آزاد معاشروں میں کسی کو توہین کرنے نہیں روکا جاسکتا ۔ اس نے کہاہے میں عیسائی ہوں اور اگر کوئی شخص حضرت عیسی علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرے تو میں اس بات کو اپنی توہین سمجھتاہوں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: یہ کیسی جمہوریت اور آزادی ہے جو تمہیں دوسروں کی مقدسات کی توہین کی اجازت دیتی ہے؟ دوسروں کو آزادی اظہارِ رائے کے بہانے گالی دینا عقل اور منطق کے سراسر خلاف ہے؛ ایسی آزادی جڑ سے غلط ہے۔ مکمل اور بے مہار آزادی کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔
ممتاز ایرانی سنی عالم دین نے مغربی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ایک طرف سے تم دہشت گردی و انتہاپسندی کے خلاف لڑنے کا دعوی کرتے ہو اور دوسری جانب قرآن اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی اجازت دیتے ہو۔ گویا تمہیں کروڑوں مسلمانوں کی دل آزادی کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ لیکن ہمارے عقیدے میں حضرت عیسی، حضرت موسی، حضرت ابراہیم اور خاتم النبیین علیہم السلام کی شان میں گستاخی پوری امت مسلمہ کی توہین ہے۔
مقدسات کی توہین سے دہشت گردی کو فروغ مل جائے گا
ایرانی اہل سنت کے مایہ ناز عالم دین نے مذہبی مقدسات کی شان میں گستاخی کو دہشت گردی کے فروغ کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا: مغربی حکام ایک طرف سے سب کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شریک ہونے کی دعوت دے رہے ہیں اور پھر خود دہشت گردی کے فروغ کے لیے سرگرم ہیں۔ گستاخی کرنے والوں کو کھلی چھٹی دینا امن پسند لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز کرانا ہے اور بہت سارے لوگ تشدد کا راستہ اپنانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر اسلامی مقدسات کی شان میں گستاخی مسلمانوں کے لیے ان کے ذاتی ناموس سے بھی زیادہ بھاری اور ناقابل برداشت ہے۔
انہوں نے مزیدکہا: اگر کسی کو کچھ کہنا ہے، تو توہین اور گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے بجائے منطق اور استدلال کے دائرے میں رہ کر اپنا مدعا پیش کرے۔ تہذیب اور آزادی اظہارِرائے اسی کا نام ہے۔ یہ کیسی جمہوریت ہے جو گالی، جھوٹ اور ہرقسم کی توہین کو درست سمجھتی ہے؟!
قرآن اور پیغمبر اسلام کی توہین مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ ہے
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اسلامی شعائر کی توہین کو مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا: ہم بحیث مسلمان دوسروں کی عزت و احترام کرتے ہیں۔ قرآن پاک، اسلامی تہذیب اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں دوسروں کی توہین کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔ امت مسلمہ اللہ تعالی، قرآن پاک اور رسول اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کو اپنے خلاف اعلان جنگ سمجھتی ہے۔
انہوں نے مزیدکہا: مغربی طاقتوں اور پوری دنیا سے ہمارا مطالبہ ہے تمام مذاہب ومکاتب فکری کا احترام کریں اور باہمی پرامن زندگی کے لیے کوشش کریں۔ جب تک مقدسات کی شان میں گستاخی ہوتی رہے تو یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔
مولانا عبدالحمید نے دانشوروں اور لکھاریوں سمیت تمام طبقوں سے درخواست کی اپنی حدتک ناموس رسالت ﷺ کا دفاع کریں اور گستاخوں کو مزید توہین و گستاخی سے روکیں۔
اپنے خطاب کے آخر خطیب اہل سنت زاہدان نے حاضرین کو نمازجمعہ کے بعد احتجاجی ریلی میں شرکت اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرنے کی ترغیب دی ۔
یاد رہے تئیس جنوری کی نمازجمعہ کے بعد ہزاروں سنی شہریوں نے ریلی نکالنے کے بعد جامع مسجد مکی زاہدان کے سامنے اکٹھے ہوکر فرانسیسی گستاخ میگزین اور ان کے حامی حکام کے خلاف نعرے لگائے۔ اس ریلی کی قیادت دارالعلوم زاہدان کے اساتذہ اور جامع مسجد مکی کی انتظامیہ نے کیا۔

آپ کی رائے