احادیث میں سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امت کو ہدایت اور رہنمائی دی ہے کہ شادیاں ہلکی پھلکی اور کم خرچ ہوا کریں، اور بشارت سنائی گئی ہے کہ اگر ایسا کریں گے تو اللہ تعالی کی طرف سے شادیوں میں اور اُن کے نتیجوں میں بڑی برکتیں ہوں گی،
قرآن پاک خدا تعالیٰ کی آخری کتاب ہے، جیسا کہ پیارے آقا محمد صلی الله علیہ و سلم اللہ کے آخری رسول اور خاتم النبیین ہیں،
اللہ تعالی نے قران مجید میں اپنے حبیب r کا متعدد مقامات پر صفت رحمت سے ذکر فرمایا ہے رحمۃ کا لفظ اپنے اندر اہم ترین صفات و معانی کوشامل ہے، چناچہ عربی زبان کے اس لفظ کے مفہوم کو بیان کرے کے لئے ہمیں اردو میں شفقت نرمی حنان رافت وغیرہ الفاظ کا سہارا […]
دوسری صدی ہجری میں سنن و آثار اور احکام کے ائمہ اور امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ دوسری صدی ہجری میں سنن و آثار اور احکام کا علم تین ائمہ فن میں دائر و سائر سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے:
الله تعالی نے اپنے پاک کلام قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:﴿لِلَّہِ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ یَخْلُقُ مَا یَشَاء ُ یَہَبُ لِمَنْ یَشَاء ُ إِنَاثاً وَیَہَبُ لِمَن یَشَاء ُ الذُّکُورَ،أَوْ یُزَوِّجُہُمْ ذُکْرَاناً وَإِنَاثاً وَیَجْعَلُ مَن یَشَاء ُ عَقِیْماً﴾․(سورہ الشوریٰ، آیت:50-49)
یہ ہجرت نبی سے چند سال بعد کا واقعہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں کسی جگہ تشریف فرما تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقہ بنائے بیٹھے تھے اور حسب توفیق فیضانِ نبوت سے فیض پارہے تھے۔
کون نہیں جانتا کہ ’’وطن‘‘ اپنی ذات میں کوئی مقدس چیز نہیں، اس کی عزت و حرمت محض اس وجہ سے ہے کہ اسلام کی شان و شوکت اور اس کی سربلندی کا ذریعہ ہے۔
حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اللہ تعالی کے مقرب، برگزیدہ اور مستجاب الدعوات بندے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی ان کی دعائیں سنتے اور قبول کرتے ہیں۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا ائمہ فن سے حدیث و آثار کا سماع امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے حدیث و آثار کا سماع ائمہ فن سے کیا ہے اور اس کے لیے سفر کیے، چنانچہ مورخ شمس الدین الذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
مذہب اسلام کے لیے موجودہ دور میں جو سوالات خاص اہمیت کے حامل ہیں، ان میں حدیث نبوی (علی صاحبہا الف الف سلام) کے متعلق مندرجہ ذیل سوالات بالخصوص توجہ طلب ہیں: