آج : 9 October , 2016

انکارِ حدیث کیوں؟

انکارِ حدیث کیوں؟

مذہب اسلام کے لیے موجودہ دور میں جو سوالات خاص اہمیت کے حامل ہیں، ان میں حدیث نبوی (علی صاحبہا الف الف سلام) کے متعلق مندرجہ ذیل سوالات بالخصوص توجہ طلب ہیں:
!۔ حدیث کا مرتبہ اسلام میں کیا ہے؟
۲۔ حدیث سے شریعت اسلامیہ کو کیا فوائد حاصل ہوئے؟
۳۔ حدیث پر اعتماد نہ کیا جائے تو اس سے دین کو کیا نقصان ہوگا؟ دورِ حاضر میں انکارِ حدیث کی جو وباء پھوٹ پڑی ہے، یہ کن جراثیم کا نتیجہ ہے؟
سطور ذیل میں ہم ان سوالات پر غور کرنا چاہتے ہیں۔ واللہ الموفق و المعین
لیکن اصل سوالات پر بحث کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم چند اصولی امور ناظرین کی خدمت میں پیش کردیں، جن سے نظر و فکر کی مزید راہیں کھل سکیں۔

۱۔ نبی امت کی عدالت میں
’’انکارِ حدیث‘‘ کا فتنہ ظہور میں آچکا ہے۔ بحث کرنے والے پوری قوت کے ساتھ اس بحث میں مصروف ہیں کہ حدیث حجت ہے یا نہیں؟ جن لوگوں کی طرف سے یہ بحث اٹھائی گئی ہے ان کا حال تو انہی کو معلوم ہوگا، لیکن جہاں تک میرے ایمان کا احساس ہے، یہ سوال ہی غیرت ایمانی کے خلاف چیلنج ہے جس سے اہل ایمان کی گردن ندامت کی وجہ سے جھک جانی چاہیے۔
اس فتنہ کے اٹھانے والے ظالموں نے نہیں سوچا کہ وہ اس سوال کے ذریعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو اعتماد یا عدم اعتماد کا فیصلہ طلب کرنے کے لیے امت کی عدالت میں لے آئیں گے۔ امت اگر یہ فیصلہ کردے گی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات (حدیث) قابل اعتماد ہے، تو اس کے مرتبہ کا سوال ہوگا اور اگر نالائق امتی یہ فیصلہ صادر کردیں کہ ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات (حدیث) آپ کے زمانہ والوں کے لیے لائق اعتماد ہو تو ہو، لیکن موجودہ دور کے متمدن اور ترقی پسند افراد کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث پر ایمان لانے کے لیے مجبور کرنا ملائیت ہے‘‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف عدم اعتماد کا فیصلہ ہوجائے گا۔ (معاذ اللہ، استغفراللہ) اگر دل کے کسی گوشے میں ایمان کی کوئی رمق بھی موجود ہے تو کیا یہ سوال ہی موجبِ ندامت نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات لائق اعتماد ہے یا نہیں؟
تُف ہے! اس مہذب دنیا پر کہ جس ملک کی قومی اسمبلی میں صدر مملکت کی ذات کو تو زیر بحث نہیں لایا جاسکتا (پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر نے متعدد دفعہ یہ رولنگ دی ہے کہ معزز ارکانِ اسمبلی صدرِ مملکت کی ذات گرامی کو زیر بحث نہیں لاسکتے) لیکن اسی ملک میں چند ننگ امت‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو نہ صرف یہ کہ زیر بحث لاتے ہیں، بلکہ زبان و قلم کی تمام تر طاقت اس پر صرف کرتے ہیں کہ امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ دے ڈالے۔ اگر ایمان اسی کا نام ہے تو مجھے کہنا ہوگا: ’’بئسما یأمرکم بہ ایمانکم ان کنتم مومنین۔‘‘
بہر حال مریض دلوں کے لیے انکار حدیث کی خوراک لذیذ ہو تو ہو (غلبۂ صفراء کی وجہ سے ان مسکینوں کو اس کی تلخی کا احساس نہیں ہوتا) لیکن میرے جیسے گنہکار اور ناکارہ اُمتی کے لیے یہ موضوع خواشگوار نہیں، بلکہ یہ بحث ہی تلخ ہے، نہایت تلخ!!!۔ مجھے کل ان کے دربار میں جانا ہے اور ان کی شفاعت کی امید ہی سرمایۂ زندگی ہے۔ سوچتا ہوں اور خداکی قسم! کانپتا ہوں کہ اگر ان کی طرف سے دریافت کرلیا گیا کہ ’’او نالائق! کیا میری حدیث کا اعتماد بھی محل بحث ہوسکتا ہے؟ تو میرے پاس کیا جواب ہوگا؟ اسلام کے ان فرزندانِ ناخلف نے خود رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر جرح و تعدیل کا جو راستہ اختیار کیا ہے واللہ! اس میں کفر و نفاق کے کانٹوں کے سوا کچھ نہیں، ’’ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ‘‘ (اب جس کا جی چاہے نبی کی بات پر ایمان لائے اور جس کا جی چاہے کفر کا راستہ اختیار کرے۔)

۲۔ فتنہ کی شدت
فتنہ کی کجی ملاحظہ کیجئے! دین قیم کے وہ صاف، واضح، روشن اور قطعی مسائل جن میں کل تک شک و تردد کا ادنیٰ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا، کل تک ملت اسلامیہ جن کو یقینی مانتی چلی آئی تھی، شکی مزاج طبیعتیں آج ان ہی مسائل کو غلط اور ناقابل قبول ٹھہراتی ہیں۔
ایک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اب تک محفوظ تھی، تمام امت کا مرجع تھی، ہر امتی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے سامنے سرتسلیم خم کردیا کرتا تھا، امت میں کوئی اختلاف رونما ہو، اس کے فیصلہ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات آخری عدالت تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر فیصلہ حرفِ آخر کی حیثیت رکھتا تھا، لیکن افسوس! آج کس کے پاس یہ شکایت لے جائیں کہ فتنہ کے سیلاب کی موجیں علماء، صلحاء، صوفیاء، متکلمین، محدثین، مجتہدین، تابعین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان سب کو روندتی ہوئی دین و شریعت کی آخری فیصل ذات رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹکرا رہی ہیں اور چاہا جاتا ہے کہ انسانیت کی سب سے بڑی اور سب سے آخری عدالت کو بھی مجروح کردیا جائے، فإلی اللہ المشتکی۔
اُف! مبتلائے فتنہ امت میں یہ بحث موضوع سخن ہے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث حجت ہے یا نہیں؟ دینی حیثیت سے قابل قبول ہے یا نہیں؟ کیا یہ صاف اور موٹی بات بھی کسی کی عقل میں نہیں آسکتی کہ کسی ذات کو نبی اور رسول ماننا یا نہ ماننا تو ایک الگ بحث ہے، لیکن جس ذات کو رسول مان لیا جائے، ماننے والے کے ذمہ اس کی ہر بات کا مان لینا بھی ضروری ہے، جس کام کا وہ حکم کرے اس کی تعمیل بھی ماننے والے کے لیے لازم ہے اور جس فعل سے وہ منع کرے اس سے رُک جانا ضروری ہے۔
رسول کو رسول مان کر اس کے احکام میں تفتیش کرنا ’’کہ یہ حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طرف سے دے رہے ہیں یا خدا کی طرف سے؟ اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طرف سے کوئی ارشاد فرماتے ہیں تو اس کی تعمیل سے معاف رکھا جائے۔‘‘ نری حماقت نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ کتنی صاف اور سیدھی بات تھی، لیکن نہیں معلوم لوگ عقل کو کہاں استعمال کیا کرتے ہیں کہ ایسے بدیہی امور میں بھی شک اور تردد کا مرض ان کو ایمان و یقین سے محروم کیے رکھتا ہے۔ شرح تحریر میں ہے:
’’حجیة السنة سواء کانت مفیدة للفرض أو الواجب أو غیرهما (ضرورة دینیة) کل من له علق و تمییز حتی النساء و الصبیان یعرف أن من ثبت نبوته صادق فیما یخبر عن الله تعالی و یجب اتباعُه‘‘۔
(تیسیر التحریر، ج: ۳، ص: ۲۲)
ترجمہ: ۔۔۔ ’’سنت خواہ مفید فرض ہو یا واجب یا ان کے علاوہ کے لیے مفید ہو، اس کا حجت ہونا دین کا ایسا واضح مسئلہ ہے جس میں طلب دلیل کی ضرورت نہیں۔ جس کو ذرا بھی عقل و تمیز ہو، عورتوں اور بچوں تک بھی، وہ جانتا ہے کہ جس کی نبوت ثابت ہو وہ اللہ تعالی کی طرف سے جو کچھ بتکائے گا اس میں قطعاً سچا ہوگا اور اس کی بات کی پیروی واجب ہوگی۔‘‘
منکرین حدیث کی کور چشمی ملاحظہ کرو! اس پر اتفاق ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رسولِ برحق ہیں، اس پر بھی اتفاق ہے کہ علم و عرفان کے سرچشمہ ہوتے ہیں، الغرض آفتاب طلوع ہوچکنے کے بعد‘ بحث اس پر ہو رہی ہے کہ سورج نکلنے کے بعد دن ہوتا ہے، یا رات ہوتی ہے؟ زبان و قلم، عقل و فہم اور دل و دماغ کی قوتیں اس پر صرف کی جارہی ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول ماننے کے بعد اس کی کسی بات (حدیث) پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ میں پوچھتا ہوں کہ جو خیرہ چشم طلوعِ آفتاب کا اقرار کرنے کے باوجود ’’دن نہیں رات ہے‘‘ کی رٹ لگارہا ہو اور چاہتا ہو کہ تمام دنیا اسی طرح آنکھیں موندلے، بتلایا جائے کہ آپ ایسے سوفسطائی کو کس دلیل سے سمجھا سکتے ہیں؟!
اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زبانی اقرار کرنے والوں سے جب سنا جاتا ہے کہ جس ذات کو ہم رسول مانتے ہیں اسی کا کوئی قول اور فعل ہمارے لیے حجت نہیں تو بتلائیے! ایسے محرومانِ بصیرت کے لیے کونسا سامانِ ہدایت سودمند ہوسکتا ہے؟ کاش! ان کو چشم بصیرت ہوجاتی۔ ’’ فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ‘‘ (کیونکہ ان کی آنکھیں اندھی نہیں، بلکہ وہ دل اندھے ہوچکے ہیں جو ان کے سینوں میں ہیں۔)

۳۔ منکرین حدیث کی بے اصولی
حدیث کا جو ذخیرہ اس وقت امت کے پاس محفوظ ہے، اس کے دو جز ہیں: متن اور سند، یعنی ایک تو حدیث کے وہ جملے ہیں جو قولاً یا فعلاً یا تقریراً صاحب حدیث صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا یا آپ نے فلاں عمل کرکے دکھایا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں کام کی جو آپ کے سامنے کیا گیا‘ تصویب فرمائی۔ دوم اساتذۂ حدیث کا وہ سلسلہ ہے جو امت اور امت کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان واسطہ ہیں، مثلاً امام بخاری رحمہ اللہ جس حدیث کو روایت کریں گے وہ ساتھ ہی یہ بھی بتلاتے جائیں گے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث کن کن واسطوں سے ہم تک پہنچی۔
پوری امت کا اس پر اتفاق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث جن لوگوں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان فیض ترجمان سے سنی وہ سننے والوں کے حق میں اسی طرح قطعی تھی جس طرح قرآن کریم قطعی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے جو حکم بھی صادر ہوا بالمشافہ سننے والوں کے لیے اس کا درجہ وحی خداوندی کا ہے اگر آپ نے اس کو قرآن میں لکھنے کا حکم دیا تو وہ وحی جلی کہلائے گا، ورنہ وحی خفی۔
قسم اول (وحی جلی) کے الفاظ اور معنی دونوں اللہ تعالی کی جانب سے نازل شدہ تھے۔
قسم دوم (وحی خفی) کا مضمون منجانب اللہ ہوتا تھا، الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے تھے۔
بہرحال وحی کی یہ دونوں قسمیں چونکہ منجانب اللہ ہیں، اس لیے دونوں پر ایمان لانا اور دونوں کا قبول کرنا اہل ایمان کے ذمہ ضروری ہوا۔ البتہ روایت حدیث کے اعتبار سے حدیث کی مختلف قسمیں ہوجاتی ہیں جن کی تفصیل کو مع ان کے احکام کے اپنی جگہ بیان کیا گیا ہے۔
اب منکرین حدیث کی بے اصولی دیکھئے کہ وہ ان دونوں اجزاء (متن حدیث اور سند حدیث) کے متعلق مخلوط بحث کریں گے، حالانکہ بے اعتمادی کا زہر پھیلانے سے پہلے انصاف و دیانت کا تقاضا یہ تھا محل بحث کو طے کرلیا جاتا کہ کیا ان کو نفس حدیث ہی پر اعتماد نہیں خواہ وہ کتنی ہی صحیح کیوں نہ ہو؟ یا نفس حدیث پر ان کو اعتماد ہے اور وہ اُسے دینی سند بھی تسلیم کرتے ہیں، لیکن موجودہ ذخیرۂ حدیث کے متعلق ان کے بے اعتمادی کا سبب یہ ہے کہ پوری امت میں ان کو ایک شخص بھی ایسا نہیں ملا جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ امانت امت تک صحیح پہنچادی ہو، اس لیے اس کو موجودہ ذخیرۂ حدیث سے ضد ہے، مثلاً: امام مالک رحمہ اللہ کی وہ روایت جو مالک، عن نافع، عن بن عمر، عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم سند سے مروی ہیں، جو شخص ان روایات پر بے اعتمادی کا اظہار کرتا ہے، کیا اس کا فرض نہ ہوگا کہ وہ اپنی بداعتمادی کی وجہ بتلائے کہ آیا اسے حدیث کے ان تین ناقلین مالک، نافع، ابن عمر پر ہی اعتماد نہیں ۔معاذ اللہ۔ یا خود ذاتِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتماد نہیں!!! استغفراللہ۔
بہر حال جب تک موضوع کی تنقیح اور تعیین نہ کرلی جائے، اس وقت تک کسی بھی مسئلہ پر بحث لغو اور یایعنی مشغلہ ہے، لیکن آپ منکرین حدیث کو پائیں گے کہ وہ کبھی نفس حدیث پر بحث کریں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین میں حدیث کا کوئی مقام نہیں اور کبھی بے چارے ناقلین حدیث پر تبرا شروع کردیں گے کہ ان لوگوں نے امت کی یہ امانت بعد میں آنے والی امت تک کیوں پہنچائی، لیکن انکار حدیث کا منشأ متعین کرنے سے وہ گریز کریں گے۔ اس لیے میں کہوں گا کہ حدیث پر سے اعتماد اُٹھانے کا اصل حل تلاش کرو اور محل بحث تلاش کرنے کے بعد افہام و تفہیم کریں۔ یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ قصور وار ناقلین روایت ہوں اور فرد جرم خود حدیث پر عائد کردی جائے، یا اعتماد نفس حدیث پر نہ ہو اور اس کی سزا حدیث روایت کرنے والی پوری امت کو دی جانے لگے۔

۲۔ انکار حدیث کا عبرتناک انجام
حدیث پر اعتماد نہ کرنے والوں کو معاذاللہ ثم معاذ اللہ! ذات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم یا پوری امت میں سے ایک کو ناقابل اعتماد قرار دینا ہوگا ’’استغفراللہ‘‘ آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ زید کا کلام عمرو نقل کرے، سننے والے کو زید کے صدق کا یقین ہو اور عمرو پر اعتماد ہو کہ وہ نقل میں جھوٹا نہیں، لیکن اس کے باوجود کہے کہ یہ کلام جھوٹا ہے۔ بہر حال یہاں یہ سوال کسی خاص حدیث کا نہیں، بلکہ مطلق حدیث کا ہے، جب اس کا انکار کیا جائے گا اور اُسے ناقابل اعتماد قرار دیا جائے گا تو اس صورت میں یا خود صاحب حدیث صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے اعتماد اُٹھانا ہوگا یا پوری امت کو غلط کار اور دروغ گو کہنا ہوگا۔ انکارِ حدیث کی تیسری کوئی صورت نہیں اور ان دونوں کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ اگر معاذ اللہ خود صاحب حدیث صلی اللہ علیہ وسلم یا چودہ سو سالہ اُمت سے اعتماد اُٹھالیا جائے تو اس کے معنی اس کے سوا اور کیا ہیں کہ اسلام اورقرآن پر بھی ان کا اعتماد نہیں اور دین و ایمان کے ساتھ بھی ان کا کچھ واسطہ نہیں۔ ان حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بے اعتمادی کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کو ایک لمحہ کے لیے بھی یہ خیال دل میں نہ لانا چاہیے کہ اس تمام تر سعی مذموم کے باوجود وہ اسلام اور قرآن کو بے اعتمادی کے جھگڑے سے محفوظ رکھ سکیں گے۔

تحریر: حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ
بشکریہ ماہنامہ بینات۔جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن۔کراچی
ذوالحجۃ ۱۴۳۷ھ


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں