جارحیت پسند مودی سرکار نے الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق جنونی ہندوؤں کے ہاتھوں مسجد کو نذر آتش کرنے کے واقعے کی خبر دینے والی دو خاتون صحافیوں کو ہی نظر بند کردیا۔
فیس بک کی کچھ لیک ہونے والی دستاویزات میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ سوشل میڈیا کی معروف ویب سائٹ بھارت میں نفرت انگیز تقاریر، غلط معلومات اور اشتعال انگیز پوسٹس، خاص طور پر مسلم مخالف مواد کو شفافیت سے نہیں روکتی۔
انڈیا کے دارالحکومت دہلی سے ملحقہ علاقے گڑگاؤں میں جمعے کی نماز پر تنازع تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔
معروف ٹکنالوجی کمپنی ایپل نے تصدیق کی ہے کہ اس نے حکام کے کہنے پر چین میں قرآن کی سب سے مقبول ایپ کو بند کر دیا ہے۔ قرآن مجید نامی ایپ دنیا بھر میں ایپ سٹور پر دستیاب ہے اور اس کے ریویوز کی تعداد 150,000 کے قریب ہے۔
بھارتی فوج نے مقبوضہ وادی میں ظلم و بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزید 5 نوجوانوں کو شہید کردیا۔
امریکی ریاست نیوجرسی میں ایک نسل پرست اسکول ٹیچر نے مسلم طالبہ کا نقاب اتار دیا جس سے بچی خوف زدہ ہوگئی۔
‘موجودہ ماحول میں انڈیا کے مسلمانوں کی اکثریت غیر محفوظ محسوس کر رہی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اکثریتی برادری کا ایک طبقہ مذہبی انتہا پسندی کی طرف مائل ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ کتنا بڑا طبقہ مذہبی طور پر سخت گیر ہوا ہے لیکن اکثریتی برادری کے رویے میں شدت پسندی کسی بھی ملک میں بہت خطرناک ہوتی ہے۔’
آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں مسلمان خاتون کو ایک خاتون نے حجاب کی وجہ سے نہ صرف دہشت گرد کہہ کر پکارا بلکہ انھیں زدوکوب بھی کیا۔
سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ سیکیورٹی اور کورونا وبا کے بہانے مقبوضہ کشمیر کی بند کی گئی بڑی مساجد کو نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے فوری طور پر کھولا جائے۔
بھارت میں انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے دور حکومت میں ایک اور تاریخی مسجد کو ریاستی غنڈوں نے شہید کردیا۔