ایرانی بلوچستان کے ممتاز عالم دین نے سات اپریل دوہزار تئیس کے بیان میں ایران کے جاری بحرانوں اور مادی، روحانی اور اخلاقی میدانوں میں…
مولانا عبدالحمید نے اپنے اکتیس مارچ دوہزار تئیس کے بیان میں یکم اپریل یوم اسلامی جمہوریہ ایران کی سالگرہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ملک میں مسلکی نگاہ کے نفاذ کو بہت سارے مواقع ختم ہونے اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ کا باعث قرار دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے چوبیس مارچ دوہزار تئیس کے بیان میں نئے ہجری شمسی سال کے پہلے جمعے میں گزشتہ سال کے اہم واقعات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے احتجاج کرنے والوں کو گولی مارکر شہید کرنے کو حکومت کی بڑی غلطی قرار دی۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے سترہ مارچ دوہزار تئیس کے خطبہ جمعہ میں ایران کی داخلہ و خارجہ پالیسیوں میں ڈیڈلاک کو ملک پر نافذ مذہبی و مسلکی نگاہوں کا نتیجہ…
مولانا عبدالحمید نے دس مارچ دوہزار تئیس کے بیان میں ایک بار پھر سب ایرانیوں کے قومی مفادات کو ہر مسئلے سے زیادہ اہم یاد کرتے ہوئے ملک کی موجودہ صورتحال اور سیاسی و معاشی ڈیڈلاک کو کمزور افسران اور حکام سے کام لینے کا نتیجہ قرار دیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے تین مارچ دوہزار تئیس کو سکول اور بعض کالجوں کی طالبات پر گیس حملے کے سلسلہ وار واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کو عوامی احتجاجوں کو دبانے کی سازش قرار دی۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے چوبیس فروری دوہزار تئیس کے بیان میں ‘سیاسی اسلام’ اور ‘اسلامی سیاست’ میں فرق رکھنے پر زور دیا۔
ایران کے ممتاز عالم دین نے سترہ فروری دوہزار تئیس کو زاہدان میں خطاب کرتے ہوئے عوام اور ریاست کے درمیان پیش آنے والے اختلاف کے حل کے لیے اپنا حل پیش کردیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اعلی سیاسی عہدوں پر ‘فوجیوں اور عسکری شخصیات’ کی موجودی پر تنقید کرتے ہوئے کہاہے ملک کی اعلی قیادت اور اہم عہدوں پر ماہر سیاستدان کا فائز ہونا ضروری ہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے ایک بار پھر ایرانی قیدخانوں میں قیدیوں پر تشدد اور ان سے جبری اعتراف لینے کے حوالے سے وارننگ دیتے ہوئے قیدیوں کے انسانی حقوق پر زور دیا۔