بھارت: مسلمانوں کے قتل عام کی ہدایت کرنے پر ہندوتوا اجتماع کی تحقیقات

بھارت: مسلمانوں کے قتل عام کی ہدایت کرنے پر ہندوتوا اجتماع کی تحقیقات

بھارتی پولیس نے سخت گیر ہندوتوا رہنماؤں کے اس اجتماع کی تحقیقات شروع کردی ہے جہاں مسلمان اقلیت کے قتل عام کی ہدایت کی گئی تھی۔
خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق رواں ماہ کے اوائل میں ایک اجتماع میں ایک مقرر نے عوام کو بتایا تھا کہ مسلمانوں کا قتل کرنے کے لیے جیل جانے سے مت ڈریں اور اس ویڈیو کی تصدیق کی گئی ہے۔
خاتون نے کہا تھا کہ ‘اگر ہم میں سے 100 افراد سپاہی بن جائیں اور ان کے 20 لاکھ افراد کو مار دیں تو ہم فاتح ہوں گے، اگر آپ اس اعتماد کے ساتھ کھڑے ہوں تو پھر آپ سناتنا دھرما کا تحفظ کرسکتےہیں’۔
شمالی شہر ہریدوار میں منعقدہ اجلاس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا ایک رکن بھی شریک تھا۔
بی جے پی پر بھی الزام ہے کہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف سخت گیر ہندو قوم پرستوں میں 2014 میں اقتدار میں آنے کےبعد سے اشتعال دلایا گیا لیکن ان کی جانب سے تردید کی جاتی ہے۔
مشہور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے ٹوئٹر پر کہا کہ ویڈیو میں دیا گیا بیان واضح طور پر نسل کشی کے اکسانے کا کیس ہے۔
نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
ویڈیو میں تقریر کرتے نظر آنے والی خاتون کہتی ہیں کہ بھارتیوں کو نتھورام گوڈسے کے لیے دعا کرنا چاہیے، جنہوںنے 1948 میں بھارت کے آزادی کے ہیرو مہاتما گاندھی کو قتل کیا تھا۔

‘قتل عام’
سخت گیر ہندو رہنماؤں کے تین روزہ اجلاس میں شریک ایک اور گروہ کے سربراہ پرابودھانندگری نے قتل عام کی ہدایت کی تھی اور شرکا کو مرنے یا مارنے کے لیے تیار رہنے کا کہا تھا اور بی جےپی رہنما کے ساتھ ان کی تصویر بھی دکھائی جارہی ہے۔
انہوں نےکہا تھا کہ ‘میانمار کی طرح، ہماری پولیس، ہمارے سیاست دانوں، ہماری فوج اور ہر ہندو کو اسلحہ اٹھانا چاہیے اور صفائی ابھیان کرنا چاہیے، اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں رہ گیا ہے’۔
میانمار میں فوجی کارروائیوں کے دوران روہنگیا مسلمان اقلیت کے خلاف ظلم کیا گیا تھا اور ہزاروں افراد کو قتل جبکہ بڑی تعداد میں مسلمان وہاں سے ہجرت کر گئے تھے۔
ایک اور رہنما کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ کاش مودی کے پیش رو کو قتل کیا ہوتا، جو بھارت کی مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما اور سابق وزیراعظم ہیں، انہیں بھارت کے پہلے سکھ وزیراعظم کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
ایک اور رہنما نے کہا کہ انہوں نے اپنی ریاست میں ہوٹلوں سے عیسائیوں کی تقریبات کی اجازت نہ دینے کا کہا تھا اور اس بیان پر تالیاں بجا کر داد دی جارہی تھی۔
بی جے پی نے ریاست کو سیکولر شناخت سے ہٹا کر مکمل طور پر ہندو ریاست بنانے کے ایجنڈے کے الزامات کی تردید کی۔
بھارت میں موجود مسلمان اقلیت سے تعلق رکھنے والے کئی افراد کا خیال ہے کہ مودی کے حکومت میں آنے کے بعد ان پر حملوں اور دھمکیوں میں اضافہ ہورہا ہے، مودی انتہاپسند ہندوجماعت کے تاحیات رکن ہیں اور 2014 میں وزیراعظم منتخب ہوگئے تھے۔
بھارت میں عیسائی اقلیت پر بھی حملوں ہوتے رہے ہیں اور جنوبی ریاست کرناٹکا میں رواں ہفتے بی جے پی حکومت نے جبری مذہب تبدیلی کو غیرقانونی قرار دینے کے لیے قانون سازی متعارف کروائی تھی۔
متنازع اجتماع ریاست اترکھنڈ میں منعقد ہوا تھا جہاں پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں اور مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
ولسن سینٹر کے مائیکل کوگلمین نے بھارتی حکومت کو اس معاملے پر خاموش رہنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
ٹوئٹر پر انہوں نے کہا کہ ‘حکومت کی جانب سے مذمت سے بہت کم ایک آواز تک نہیں آئی، خوف ناک حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی مجرمانہ خاموشی معمولی بھی حیرانی کی بات نہیں ہے’۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں