مولانا عبدالحمید:

اہل سنت کے مدارس اتحاد، بھائی چارہ اور میانہ روی پر یقین رکھتے ہیں

اہل سنت کے مدارس اتحاد، بھائی چارہ اور میانہ روی پر یقین رکھتے ہیں

زاہدان (سنی آن لائن) ایران کی سنی برادری کے اہم رہ نما نے متعدد صوبائی و قومی حکام اور شیعہ علما کی موجودی میں اہل سنت ایران کے دینی مدارس کا بیانیہ پیش کرتے ہوئے انتہاپسندانہ سوچ اور تعصبات کے خلاف سنی علمائے کرام کے متفقہ رویہ پر روشنی ڈالی۔
سنی آن لائن نے رپورٹ دی، شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے گورنر سیستان بلوچستان، مرشد اعلی کے صوبائی نمائندہ، جامعۃ المصطفی العالمیہ کے ٹرسٹ بورڈ کے سکریٹری اور صوبہ فارس کے ایم پیز بورڈ کے چیئرمین سمیت متعدد شیعہ علما اور حکام کی موجودی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: دارالعلوم زاہدان کا سنگِ بنیاد 1970ء میں حضرت مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دست مبارک پر رکھا گیا اوراس وقت سے اب تک ترقی کی منازل طے کرتا چلا آرہاہے۔ یہاں نو سالہ عام نصاب کے علاوہ، متعدد علوم میں تخصص کی کلاسیں بھی قائم ہیں۔
انہوں نے کہا: ہمارے مدارس اتحاد و اعتدال اور میانہ روی پر یقین رکھتے ہیں اور مسلم امہ کے اتحاد کے لیے کوشاں ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ مسلمان اپنی فقہ اور عقیدہ پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ، دوسروں کا احترام کریں۔ہمارے فضلا اندرون و بیرونِ ملک اسی سوچ اور بیانیہ پر عمل پیرا ہیں۔یہاں کسی انتہاپسند کو داخل نہیں ہونے دیاجاتاہے۔

غیرملکی طلبا کے لیے حصول تعلیم کا راستہ کھولاجائے
صدر شورائے مدارس اہل سنت سیستان بلوچستان نے غیرملکی طلبا کی آمد کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا: ہمارے یہاں پہلے افغانستان اور تاجکستان سے طلبا آتے تھے جو یہاں پڑھ کر واپس اپنے ملکوں میں جاچکے ہیں اور وہاں اچھی خدمات پیش کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا: دنیا میں مختلف ملکوں کی کوشش ہے کہ غیرملکی طلبا کو زیادہ سے زیادہ اپنے جامعات میں داخلہ دلوائیں تاکہ ان ہی کے واسطے اپنی ثقافت اور افکار کو دیگر ملکوں میں پہنچادیں۔ ایسے طلبا دراصل مفت کے سفیر ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: ہمیں بھی مناسب منصوبہ بندی کرنی چاہیے تاکہ غیرملکی طلبا ایران میں آسانی سے تعلیم حاصل کرسکیں۔ جامعۃ المصطفی میں غیرملکی طلبا دینی تعلیم حاصل کررہے ہیں، لیکن شاید بعض طلبا وہاں جانے کے بجائے اہل سنت کے مدارس کو ترجیح دیں۔ ان کے لیے راستہ کھولنا چاہیے۔ حکام یقین کریں ہمارے مدارس میں یہ طلبا آجائیں بہت بہتر ہے اس سے کہ وہ دیگر ملکوں میں چلیں۔

دنیا کے نئے حالات، نئی سوچ اور افکار کے متقاضی ہیں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنی گفتگو میں دارالعلوم زاہدان وزٹ کرنے والے مہمانوں سے مخاطب ہوکر کہا: آج کی دنیا پچاس یا سو سال پہلے سے کافی مختلف ہے۔ نئے حالات پیش آچکے ہیں جو نئی سوچ کے متقاضی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: موجودہ حالات میں مسلمانوں کی سب سے بڑی اور اہم ضرورت ’اتحاد و بھائی چارہ‘ ہے۔ دشمنوں کی کوشش ہے کہ مسلمانوں میں پھوٹ ڈالیں اور انہیں ایک دوسرے سے بدگمان کریں۔ شیعہ و سنی برادریوں کے دوطرفہ تعلقات سے غلط تصورات اور تعصبات کم ہونے میں مدد ملے گی۔
مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے آخر میں صوبہ سیستان بلوچستان میں سرکاری ٹی وی اور ریڈیو سے اہل سنت کی اذان نشر کرنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا اس سے اتحاد کو تقویت ملے گی اور اتحاد دشمن عناصر کی حوصلہ شکنی ہوگی جو ہمیں مایوس کرنا چاہتے ہیں۔
یادرہے اس وقت صوبہ کردستان میں مرشد اعلی کے حکم پر سرکاری ٹی وی سے سنی برادری کی اذان نشر ہوتی ہے جبکہ دیگر صوبوں میں جہاں سنیوں کی بڑی تعداد آباد ہے، ایسا انتظام نہیں ہے۔ صوبہ سیستان بلوچستان کی اکثریت سنی برادری کی ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں