آج : 17 November , 2018

بنگلہ دیش سے روہنگیا مسلمانوں کی ’جبراً واپسی‘ روکنے کا مطالبہ

بنگلہ دیش سے روہنگیا مسلمانوں کی ’جبراً واپسی‘ روکنے کا مطالبہ

اقوام متحدہ نے بنگلہ دیش کی جانب سے پناہ گزین روہنگیا مسلمانوں کی جبراً بے دخلی کا عمل انسانی حقوق کے خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے میانمار واپسی کا عمل روکنے کا مطالبہ کردیا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ مائیکل بچیلیٹ نے کہا کہ ’بنگہ دیش میں پناہ گزینوں کو جبراً بے دخل اور واپسی کے لیے مجبور کرنا انسانی حقوق کی خلاف وزری ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میانمار، جہاں پناہ گزینوں کو زندگی کا خطرہ لاحق ہے، ایسے حالات میں ان کی واپسی ممکن نہیں ہوسکتی۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں بنگلہ دیش اور میانمار کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت روہنگیا مسلمانوں کو میانمار میں واپسی کی اجازت دی گئی تھی، لیکن اس کے ساتھ ہی وہاں ان کی شہریت کی ضمانت اور سیکیورٹی کے خدشات تاحال قائم ہیں۔
بنگہ دیش کے سرحدی علاقے میں متحرک امدادی تنظیموں کا کہنا تھا کہ روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش میں پناہ لینے کے بعد میانمار واپس جانے سے خوفزدہ ہیں۔
تاہم، دونوں حکومتوں نے تصدیق کی تھی کہ وہ نومبر کے وسط سے بڑے پیمانے پر روہنگیا کی واپسی کا عمل شروع کریں گی، جبکہ سماجی کارکنان کا کہنا تھا کہ درحقیقت رخائن پناہ گزینوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
42 امدادی ایجنسیوں اور سول سوسائٹی گروہوں نے ایک بیان میں اس اقدام کو ’خطرناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’روہنگیا خوفزدہ ہیں کہ اب وہ میانمار واپس جائیں گے تو ان کے ساتھ کیا ہوگا اور موصول ہونے والی اطلاعات کی کمی کی وجہ سے پریشان ہیں‘۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ ’انہوں نے محفوظ مقام کی تلاش میں بنگلہ دیش کا رخ کیا تھا اور پناہ دینے پر بنگلہ دیشی حکومت کے شکر گزار ہیں‘۔
اوکسفام، ورلڈ ویژن اور سیو دی چلڈرن نامی امدادی ادارے میانمار اور بنگلہ دیش میں کام کرنے والے گروہوں میں شامل تھے اور انہوں نے ہی اس بیان پر دستخط کیے تھے۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس میانمار کی شمالی ریاست رخائن میں مسلمانوں کے قتل عام کے بعد 7 لاکھ 20 ہزار سے زائد روہنگیا مسلمان ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔
اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی نے میانمار میں نسل کشی میں ملوث اعلیٰ فوجی حکام کے خلاف مقدمات قائم کرنے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم میانمار کی حکومت نے اس مطالبے کو مسترد کردیا تھا۔

میانمار میں سرحد عبور کرنے کی کوشش میں درجنوں روہنگیا مسلمان گرفتار
میانمار حکام نے سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے 106 کشتی سوار روہنگیا مہاجرین کو حراست میں لے لیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق میانمار کے امیگریشن حکام نے یانگون سے 30 کلومیٹر کی دوری پر سمندری راستے سے سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے 106 روہنگیا مہاجرین کو گرفتار کر لیا ہے۔
کشتی میں 50 مرد، 31 عورتیں اور 25 بچے سوار تھے، گرفتار مہاجرین کو قریبی پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا ہے جہاں تفتیشی عمل جاری ہے۔ تاہم اب تک واضح نہیں ہوسکا ہے کہ آیا مہاجرین کی کشتی بنگلہ دیش جا رہی تھی یا ملائیشیا مہاجرین کی منزل تھی۔
امیگریشن افسر کا کہنا ہے کہ گرفتار روہنگیا مسلمانوں کا تعلق میانمار کے سب سے متاثر صوبے راخائن سے ہے، تاہم اس حوالے سے تفتیشی عمل جارہی ہے جس کے بعد ہی حتمی طور پر کچھ کہا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ میانمار فوج اور شدت پسند بدھ مت کے مظالم کا شکار ہونے والے روہنگیا مسلمانوں میں سے زیادہ تر کا تعلق راخائن سے ہی ہے جہاں سے 7 لاکھ سے زئد مہاجرین بنگلہ دیش کے مہاجرین کیمپ میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں