آج : 3 September , 2018

موبائل فون کے مضر اثرات

موبائل فون کے مضر اثرات

یہ دنیا آج سے کچھ عرصہ قبل تک موبائل فونز کے بغیر اپنے سارے کام پوری طرح انجام دے رہی تھی۔مگر کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی حیرت انگیز ایجادات اور ان ایجادات کی برق رفتار ترقی نے موبائل فون کے جس آلے کو جنم دیا ،اس نے انسانی معاشرے کے پورے لائف اسٹائل کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔ اس آلے کے ذریعے وجود میں آنے والی اخلاقی خرابیوں سے اُس کو استعمال کرنے والا ہر شخص واقف ہے۔ مگر اکثر لوگ اس کے انسانی صحت پر پڑنے والے مضراثرات سے واقف نہیں ہیں۔

ایک تحقیق کے مطابق بچوں میں موبائل فون کے استعمال کی زیادتی اور اس سے پہنچنے والے نقصانات کی وجہ سے بڑے سرمایہ کاروں نے ٹیکنالوجی کمپنی ایپل سے مطالبہ کیاہے کہ وہ ایسا سافٹ ویئر تیار کرے، جو بچوں کے لیے موبائل فون استعمال کرنے کے اوقات کو محدود کر سکے، اس لیے کہ اسمارٹ فون کے زیادہ استعمال سے بچوں کی دماغی صحت متاثر ہو رہی ہے۔

دیکھا یہ گیا ہے کہ ہمارے گھروں میں بجلی اور گیس ہو نہ ہو ، لیکن وائے فائے (WIFI) کی سہولت کا ہونا لازمی ہے۔ وائے فائے ڈیوائس کی شعاعوں اور ان کے اثرات کے بارے میں ایک ماہر ایل لائڈمورگن کا جائزہ شائع ہوا تھا۔ ان کے مطابق ان وائے فائے ڈیوائسز سے نظر نہ آنے والی نقصان دہ شعاعیں نکلتی ہیں، جنہیں ”مائیکرو ویو ریڈی ایشن“(MWR) کہتے ہیں۔ یہ شعائیں بچوں اور خاص طور پر مادرشکم میں موجود بچوں کے لیے بہت نقصان دہ ہوتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق بچے بڑوں کے مقابلے میں مذکورہ شعاعیں زیادہ جذب کرتے ہیں۔ بچوں کے دماغی خلیات بڑوں کی نسبت ان شعاعوں کو دگنی مقدار میں جذب کرتے ہیں۔ بچوں کی ہڈیوں کا گودا 10 گنا زیادہ جذب کرتا ہے۔

بیلجیم، فرانس، بھارت اور دیگر ممالک میں بچوں کے فون استعمال کرنے کے حوالے سے قوانین پاس ہونے والے ہیں۔ اس کے علاوہ انتباہ بھی سامنے آرہے ہیں۔ اسمارٹ فون بنانے والے بھی اس بات کی نشان دہی کر رہے ہیں کہ ان موبائل فون کو جسم سے کم سے کم کتنے فاصلے پر رکھنا چاہیے، تاکہ شعاعوں کے اثرات کم سے کم مرتب ہوں، مثلاً لیپ ٹاپ اور کمپیوٹرکا آپ کے جسم سے کم سے کم فاصلہ 20 سینٹی میٹر، یعنی تقریباً7 یا8 انچ ہونا چاہیے۔

اکثر ہمارے گمان میں ہوتا ہے کہ جو چیز نظر آرہی ہو یا محسو س کی جارہی ہو، وہ زیادہ خطرناک ہوتی ہے، جیسے تیز دھوپ یا اسکرین۔ تحقیق یہ بتاتی ہے کہ غیر محسوس اثرات زیادہ عرصہ رہیں تو اس کے نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔ مورگن کا کہنا ہے کہ بچوں کو دیے جانے والے موبائل نقصان دہ ہیں اور ان سے سرطان جیسے امراض کا خطرہ بڑوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

موبائل کا استعمال عام ہے، لیکن انہیں محفوظ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔ اس ضمن میں مورگن اور ان کی ٹیم کے تجویز کردہ کچھ طریقے ذیل میں دیے جارہے ہیں۔

٭… فون کو اپنے کان سے 15 سینٹی میٹر، یعنی تقریبا 6 انچ کی دوری پر رکھیں۔

٭…فون اگر استعمال میں نہ ہو، تب بھی اس سے مضر صحت شعاعیں خارج ہو رہی ہوتی ہیں۔ اسے جسم کے ساتھ لگا کر نہ رکھیں، بلکہ بیگ وغیرہ میں رکھیں۔

٭…حاملہ عورتوں کے پیٹ سے موبائل فون قطعی مس (TOUCH) نہیں ہونا چاہیے اور دودھ پلاتے وقت بھی اسے بالکل قریب نہیں رکھنا چاہیے۔

٭… بچوں کو تو ان فونوں کو بہت احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے۔ بچوں کے کمروں میں رات کے وقت تو اس کے استعمال کی قطعی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق 10 سے14 سال کے 75 فی صد بچے رات کو اپنے تکیے کے نیچے موبائل فون رکھ کر سوتے ہیں۔

٭…کرتے میں اگر اوپر والی جیب میں یہ موبائل رکھے جائیں تو قلب متاثر ہوتا ہے اور کمر کے قریب رکھنے سے قریب البلوغ لڑکوں کی مردانہ صلاحیتوں پر شعاعیں برے اثرات مرتب کرسکتی ہیں۔

٭…اسی طرحعورتوں کو بھی احتیاط برتنی چاہیے۔ موبائل فون کو جسم سے چپکا کر رکھنے سے انہیں چھاتی کے سرطان کا خدشہ ہو سکتا ہے۔

موبائل فون کا ایک گھنٹے سے زیادہ استعمال آپ کی صحت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔اول تو بچوں کو موبائل دینا ہی نہیں چاہیے اور اگر آپ اپنے بچوں کے ہاتھ میں موبائل فون دیتے بھی ہیں تو اس کا دورانیہ محدود کر دیں اور اگر وہ لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر استعمال کررہے ہیں تو وائے فائے کے بجائے انہیں لینڈ لائن کی سہولت فراہم کریں تاکہ ان دیکھی شاعیں ان کی صحت کو متاثر نہ کریں۔ لینڈ لائن کی سہولت موجود نہ ہو تو وائے فائے ڈیوائسز کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں اور وہاں تو بالکل نہ رکھیں، جہاں بچے اپنا زیادہ تر وقت گزارتے ہیں۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ موبائل فون سے دماغی سرطان میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے او راگرچہ اس کے اعداد وشمار متنازع ہیں، لیکن کچھ نہ کچھ اثرات تو ہوتے ہی ہیں۔

حالیہ برسوں میں ڈنمارک اور امریکا میں دماغی رسولی ( برین ٹیومر) کی شرح بڑھ گئی ہے اور آسٹریلیا میں دماغی سرطان کے امراض بڑھ چکے ہیں۔

زمانے کی ترقی نے کمپیوٹر کا سائز چھوٹا کرتے ہوئے اسے موبائل فون میں سمو دیا ہے۔ اس پاکٹ سائز کمپیوٹر سے بچے سب کچھ کرتے ہیں۔ گیمز کھیلنے سے لے کر انٹرنیٹ بھی ان کی رسائی میں ہے۔

دماغی صحت پر اثرات
دی جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق موبائل فون کے استعمال سے بچوں کی دماغی صلاحیتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ بچے اگر موبائل فون استعمال کرتے ہیں تو اس سے ان کی سیکھنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ مزید یہ کہ ان کے رویوں پر خراب اثر پڑ سکتا ہے۔ کلاس روم میں بھی ان کا مزاج اور قابلیت متاثر ہوسکتی ہے، اگر وہ وقفے کے دوران فون استعمال کرتے ہیں۔

پڑھائی پر اثرات
بعض والدین بچو ں کو موبائل فون اسکول لے جانے کی اجازت دے دیتے ہیں، جس میں وہ گیم کھیلتے ہیں، سوشل میڈیا پر دوستوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارتے او رگفت گو کرتے ہیں، یہاں تک کہ پڑھائی کے دوران بھی وہ ایک دوسرے کو پیغام بھیج رہے ہوتے ہیں، جس سے ان کا اہم لیکچر ضائع ہو سکتا ہے اور وہ پڑھائی میں پیچھے رہ سکتے ہیں۔

خراب رویہّ
موبائل فون بچوں کے رویوں کو خراب کرتا ہے۔ وہ ایسی تصاویر معلومات یا پیغامات ایک دوسرے کو بھیج سکتے ہیں، ان کے لیے قانونی یا اخلاقی مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔ ایک دوسرے کی ذاتی تصاویر کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ خراب ویب سائٹ تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ جن سے ان پر برے اثرات مرتب ہوں گے۔

والدین کے لیے مشورے
٭… بحیثیت والدین اپنے بچوں کو اگر وہ 16 برس سے کم عمر کے ہیں تو موبائل نہ دیں، کیوں کہ اس عمر میں بچے موبائل فون سے نکلنے والی شاعوں سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

٭…اگر ناگزیر ہو تو بچوں کو ہینڈ فری کے ساتھ موبائل فون استعمال کرنے پر راغب کریں۔ براہ راست کان یا سر سے لگا کر فون استعمال نہ کرنے دیں، کیوں کہ جو سگنل دیواروں اور دھاتوں کی رکاوٹوں کو پار کرکے آرہے ہیں ، وہ آپ یا آپ کے بچوں کے لیے بھی خطرناک ہوسکتے ہیں۔

٭…سگنل کم زور ہوں تو بچوں کو موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں، کیوں کہ سگنل کو پکڑنے کے لیے موبائل فون زیادہ قوت لگاتا ہے اور جلدی گرم بھی ہو جاتا ہے۔

٭…کوشش کریں کہ بچے کم سے کم موبائل فون استعمال کریں۔

٭…اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے گھر یا بچوں کے اسکول کے قریب نیٹ ورک ٹاور نہ ہو۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں