آج : 1 September , 2018

معاشرے کا تحفظ شرعی احکام پر عمل کرنے میں ہے

معاشرے کا تحفظ شرعی احکام پر عمل کرنے میں ہے

پچھلے دو تین ماہ کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے متعدد شرمناک واقعات سامنے آئے ہیں، ان پر جگہ جگہ احتجاج بھی ہوا ہے اور مجرمان کے خلاف انتظامی مشنری کے علاوہ عدالتوں نے بھی مناسب قدم اٹھایا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اس طرح کے افسوسناک و شرمناک واقعات کیوں پیش آتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ اس کی اصل وجہ شرعی احکام اور دینی تعلیمات کو نظرانداز کرنا اور ماحول کو اخلاقی باختگی کی راہ پر ڈالنا ہے۔ نائب رئیس الجامعہ دارالعلوم کراچی حضرت مولانا مفتی محمدتقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے ایک خطاب میں بگاڑ کے محرکات کی طرف توجہ دلائی ہے، موجودہ حالات و واقعات کے تناظر میں یہ چشم کشا خطاب نذر قارئین ہے۔۔۔۔ (ادارہ)

تمہید
خطبۂ مسنونہ اور سورۃ المومنون کی ابتدائی آٹھ آیتوں کی تلاوت کے بعد فرمایا:
بزرگان محترم و برادران عزیز! اللہ تعالی نے ان آیات میں مؤمنون کی صفات بیان فرمائی ہیں اور یہ ارشاد فرمایا ہے کہ جو مؤمن ان صفات کے حامل ہوں گے ان کو دنیا و آخرت کی فلاح نصیب ہوگی۔ ان میں سے ایک صفت یہ بیان فرمائی کہ جو مؤمن اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، شرمگاہوں کی حفاظت سے مراد یہ ہے کہ وہ پاک دامنی اختیار کرتے ہیں اور عفت و عصمت اختیار کرتے ہیں اور اپنی نفسانی خواہشات اور جنسی خواہشات کو صرف جائز حد تک محدود رکھتے ہیں، جائز حد کا مطلب یہ ہے کہ نکاح کے ذریعہ میاں بیوی کے درمیان جو تعلقات قائم ہوتے ہیں، وہ اللہ تعالی نے حلال کردیئے ہیں۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ جو لوگ اس نکاح کے رشتے سے باہر اپنی جنسی خواہشات کی تسکین کرنا چاہتے ہیں، وہ حد سے گزرنے والے ہیں اور اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں، کیونکہ اس کا انجام دنیا میں بھی خراب ہے اور آخرت میں بھی خراب ہے۔

پہلا حکم: آنکھ کی حفاظت
یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ شریعت نے ہمیں جہاں پاکدامنی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے کہ اپنی جنسی خواہشات کو جائز حد کے اندر محدود رکھیں، اس سے باہر نہ نکلیں، اس مقصد کے لئے شریعت نے بہت سے ایسے احکام دیئے ہیں۔ جن کے ذریعہ ایک پاکدامن معاشرہ وجود میں آسکے، اس پاکدامن معاشرے کو وجود میں لانے کے لئے آنکھ کی حفاظت کی ضرورت ہے، اس کے لئے کان کی حفاظت کی ضرورت ہے، اور اس کے لئے ایسا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ جس میں یہ سفلی اور ناپاک جذبات یا تو پرورش ہی نہ پائیں یا اگر پرورش پائیں تو پھر ان کا ناجائز تسکین کا راستہ نہ ملے۔ ان میں سے ایک حکم ’’آنکھ کی حفاظت‘‘ ہے شریعت نے آنکھ پر یہ پابندی لگائی ہے کہ وہ کسی نامحرم کو لذت لینے کی غرض سے نہ دیکھے۔

دوسرا حکم: خواتین کا پردہ
پاکیزہ معاشرہ وجود میں لانے کے لئے اللہ تعالی نے دوسرا حکم خواتین کے پردے کا عطا فرمایا ہے، اولا تو خواتین کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ:
«وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ»(سورۃ الاحزاب، آیت ۳۳)
یہ خطاب ازواج مطہرات اور امہات المومنین کو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریکہائے زندگی کو ہو رہا ہے، ان سے یہ فرمایا جارہا ہے کہ تم اپنے گھر میں قرار سے رہو، اور اس طرح بناؤ سنگھار کر کے باہر نہ نکلو جس طرح زمانہ جاہلیت میں عورتوں کا طریقہ تھا۔ زمانہ جاہلیت میں پردہ کا کوئی تصور نہیں تھا، اور خواتین زیب و زینت کرکے گھر سے باہر نکلتیں اور لوگوں کو بدکاری پر آمادہ کرتیں، قرآن کریم ازواج مطہرات کو خطاب کرتے ہوئے فرما رہا ہے کہ آپ لوگ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

خواتین گھروں میں رہیں
لہذا خواتین کے لئے اصل حکم یہ ہے کہ وہ اپنے گھروں میں رہیں اور گھروں کو سنبھالیں، بلاضرورت عورت کا گھر سے باہر نکلنا پسندیدہ نہیں، کیونکہ حدیث شریف میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی عورت بلاضرورت گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اس کی تاک میں لگ جاتا ہے، اس لئے اصل حکم یہ ہے کہ خواتین حتی الامکان گھروں میں رہیں، اور اگر کسی ضرورت سے گھر سے نکلیں تو اس طرح بناؤ سنگھار کرکے نہ نکلیں جیسا کہ جاہلیت کی عورتوں کا طریقہ تھا۔

آج کل کا پروپیگنڈہ
یہاں دو باتیں ذرا سمجھنے کی ہیں اور آج کل کے ماحول میں خاص طور پر اس لئے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آج کل پروپیگنڈے کا ایک طوفان امڈ رہا ہے اور یہ پروپیگنڈہ غیرمسلموں کی طرف سے تھا، اب نام نہاد مسلمانوں کی طرف سے بھی ہے، وہ پروپیگنڈہ یہ ہے کہ اسلام نے اور ان مولویوں نے عورت کو گھر کی چاردیواری میں مقید کردیا ہے اور اس کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں۔

آج پروپیگنڈے کی دنیا ہے
آج کی دنیا پروپیگنڈے کی دنیا ہے۔ جس میں بد سے بدترین جھوٹ کو پروپیگنڈے کی طاقت سے لوگوں کے دلوں میں اس طرح بٹھادیا جاتا ہے جیسے کہ پکی اور سچی حقیقت ہے۔ جرمنی کا مشہور سیاست دان گزرا ہے جس کا نام تھا ’’گوئیرنگ‘‘ اس کا یہ مقولہ مشہور ہے کہ دنیا میں جھوٹ اتنی شدت کے ساتھ پھیلاؤ کہ لوگ اس کو سچ سمجھنے لگیں، یہی اس کا فلسفہ ہے۔ آج چاروں طرف اسی فلسفہ پر عمل ہو رہا ہے۔

یہ اصولی ہدایت ہے
چنانچہ آج یہ پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ یہ اکیسویں صدی ہے۔ اس میں عورتوں کو گھر کی چاردیواری میں مقید کردینا پر لے درجے کی دقیانوسیت اور رجعت پسندی ہے، اور زمانہ کی ترقی کے ساتھ قدم ملا کر چلنے والی بات نہیں ہے۔ غور سے یہ بات سن لیں کہ قرآن کریم عورتوں سے یہ جو کہہ رہا ہے کہ تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو، یہ ایک بڑی اصولی ہدایت ہے جو اللہ جل شانہ نے عطا فرمائی ہے۔

مرد اور عورت دو الگ الگ صنفیں
یہ اصولی ہدایت اس طرح ہے کہ اللہ تعالی نے دو صنفیں پیدا فرمائی ہیں ایک مرد اور ایک عورت، دونوں مختلف صنفیں ہیں، اور اللہ تعالی نے دونوں کی تخلیق مختلف طریقے سے کی ہے، مرد کی جسمانی ساخت کچھ اور ہے، عورت کی صلاحیتیں کچھ اور ہیں، مرد کے دل میں پیدا ہونے والے افکار کچھ اور ہیں، عورت کے دل میں پیدا ہونے والے افکار کچھ اور ہیں۔ اللہ تعالی نے دونوں کے اندر یہ اختلاف اس لئے رکھا ہے کہ دونوں کا وظیفہ زندگی الگ الگ ہے لیکن آج ’’مساوات مرد و زن‘‘ کا نعرہ لگایا جاتا ہے کہ جو کام مرد کرے، وہ کام عورت بھی کرے، یہ مساوات کا نعرہ در حقیقت فطرت سے بغاوت ہے، اللہ تعالی نے ان دونوں صنفوں میں اس لئے اختلاف رکھا ہے کہ دونوں کا وظیفۂ زندگی بھی مختلف ہے، دونوں کا دائرہ کار بھی مختلف ہے۔

ذمہ داریاں الگ الگ ہیں
دیکھئے انسان کو اپنی زندگی گزارنے کے لئے وہ چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے، ایک گھر کے باہر کی ذمہ داری کہ وہ گھر سے باہر اپنی روزی کمانے کا کام انجام دے، تجارت کرے، زراعت کرے، ملازمت کرے، مزدوری کرے، اور اس کے ذریعہ پیسے کمائے، اور اپنے لئے روزی کا سامان مہیا کرے۔ ایک ضرورت یہ ہے، دوسری گھر کے اندر کی ذمہ داری اس کے گھر کا نظام صحیح ہو، اور گھر کے نظام کے اندر اگر بچے ہیں تو ان کی تربیت درست ہو، گھر کی صفائی ستھرائی ٹھیک ہو، اور گھر کے اندر چین و سکون کی زندگی گزاریں، اور گھر کے اندر کھانے پینے کا بند و بست ہو۔ لہذا گھر کے باہر کی ذمہ داریاں بھی ہیں، اور گھر کے اندر کی بھی ذمہ داریاں ہیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم کار
اللہ تبارک و تعالی نے جو فطری نظام بنایا تھا اس پر ہزارہا سالوں سے عمل ہوتا چلا آرہا تھا، بلاقید مذہب و ملت، دنیا کی ہر قوم، ہر مذہب او رہر ملت میں یہی طریقہ کار رائج تھا کہ مرد گھر کے باہر کی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔ اور عورت گھر کے اندر کا انتظام کرے گی۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کیا تو ان کے درمیان بھی یہی تقسیم کار فرمائی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا کام کمانا ہے، جاؤ، باہر جا کر کماؤ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ تم گھر کے اندر رہ کر گھر کی ذمہ داریاں سنبھالو۔ یہ فطری تقسیم ان دونوں کے درمیان فرمائی جو ہزاروں سال سے چلی آرہی تھی۔

صنعتی انقلاب کے بعد دو مسئلے
سولہوی صدی عیسوی کے بعد جب یورپ میں صنعتی انقلاب آیا اور تجارت کا میدان وسیع ہوا تو ایک مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ مرد کو پیسے کمانے کے لئے لمبے لمبے عرصے تک اپنے گھروں سے باہر رہنا پڑتا تھا، سفروں پر رہنا پڑتا تھا، جس کی وجہ سے وہ اپنی بیوی سے دور رہتا۔ دوسرا مسئلہ یہ ہوا کہ صنعتی انقلاب کے نتیجے میں زندگی گراں ہوگئی۔ جس کی وجہ سے مرد کو یہ بات گراں معلوم ہوئی کہ میں اپنی بیوی کا خرچہ بھی اٹھاؤں۔ ان دو مسئلوں کا حل یورپ کے مرد نے یہ تلاش کیا کہ اس عورت سے کہا کہ تمہیں خوامخواہ ہزاروں سال سے گھر کے اندر قید رکھا ہوا ہے، لہذ اتم بھی گھر سے باہر نکلو اور مردوں کے شانہ بشانہ کام کرو، اور دنیا کی جتنی ترقیاں ہیں وہ سب تم حاصل کرو۔ اس کے ذریعہ یورپ کے مرد کا اصل مقصد یہ تھا کہ عورت کے اخراجات کی جو ذمہ داری مرد کے کندھے پر تھی، وہ ذمہ داری عورت ہی کے کندھے پر ڈال دے۔ دوسرا مقصد یہ تھا کہ جب عورت بازار میں اور سڑکوں پر آجائے گی تو پھر اس کو بہلا پھسلا کر اپنا مطلب پورا کرنے کی پوری گنجائش ہر جگہ میسر ہوگی۔

آج عورت قدم قدم پر موجود
لہذا اب یورپ میں یہ قصہ ختم ہوگیا کہ بیوی اکیلی گھر میں بیٹھی ہے اور مرد کو لمبے لمبے سفر پر جانا ہے، اور وہ اتنے لمبے عرصہ تک اس بیوی کے قرب سے لطف اندوز نہیں ہوسکے گا، یہ بات ختم ہوچکی، اب تو قدم قدم پر عورت موجود ہے، دفتروں میں عورت موجود، بازاروں میں عورت موجود، ریلوں میں عورت موجود، جہازوں میں عورت موجود اور ساتھ میں یہ قانون بھی بنادیا گیا کہ اگر دو مرد و عورت آپس میں رضامندی سے جنسی تسکین کرنا چاہیں تو ان پر کوئی رکاوٹ عائد نہیں ہے۔ نہ قانون کی رکاوٹ ہے نہ اخلاقی رکاوٹ ہے۔ اب عورت ہر جگہ موجود ہے، اور اس سے فائدہ اٹھانے کے راستے چوہٹ کھلے ہوئے ہیں، اور مرد کے سر پر عورت کی کوئی ذمہ داری بھی نہیں ہے، بلکہ عورت سے یہ کہدیا گیا کہ تم ہی کماؤ اور قدم قدم پر ہمارے لئے لذت حاصل کرنے کے اسباب بھی مہیا کرو۔

مغرب میں عورت کی آزادی کا نتیجہ
عورت کے ساتھ یہ فراڈ کھیلا گیا اور اس کو دھوکہ دیا گیا، اور اس کا نام ’’تحریک آزادی نسواں‘‘ رکھا گیا، یعنی عورتوں کی آزادی کی تحریک، اس فراڈ کے ذریعہ عورت کو گھر سے باہر نکال دیا، تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صبح اٹھ کر شوہر صاحب اپنے کام پر چلے گئے اور بیوی صاحبہ اپنے کام پر چلے گئیں اور گھر میں تالا ڈال دیا۔ اور اگر بچہ پیدا ہوا ہو تو اس کو کسی چائلڈکیر کے سپرد کردیا گیا، جہاں پر اس کو انائیں تربیت دیتی رہیں، باپ کی شفقت اور ماں کی مامتا سے محروم وہ بچہ چائلڈکیر میں پرورش پارہا ہے، جو بچہ ماں باپ کی شفقت اور محبت سے محروم ہو کر دوسروں کے ہاتھوں میں پلے گا، اس کے دل میں ماں، باپ کی کیا عظمت ہوگی اور کیا محبت ہوگی۔

بوڑھا باپ ’’اولڈ ایج ہوم‘‘ میں
اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب باپ بوڑھے ہوتے ہیں تو بیٹے صاحب ان کو لے جا کر ’’اولڈ ایج ہوم‘‘ میں داخل فرمادیتے ہیں کہ تم نے ہماری پیدائش کے بعد ہمیں ’’چائلڈکیر‘‘ کے حوالے کردیا تھا، اب ہم تمہیں تمہارے بڑھاپے میں ’’اولڈ ایج ہوم‘‘ کے حوالے کردیتے ہیں۔ ایک ’’اولڈ ایج ہوم‘‘ کے نگران نے مجھے بتایا کہ ایک بوڑھے صاحب ہمارے ’’اولڈ ایج ہوم‘‘ میں تھے، جب ان کا انتقال ہوگیا تو میں نے ان کے بیٹے کو ٹیلیفون کیا کہ آپ کے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے، آپ آکر ان کی تجہیز و تکفین کردیجئے۔ بیٹے نے جواب دیا کہ مجھے بڑا افسوس ہوا کہ میرے باپ کا انتقال ہوگیا، لیکن مشکل یہ ہے کہ آج مجھے بہت ضروری کام درپیش ہے، لہذا میں نہیں آسکتا، آپ براہ کرم ان کی تجہیز و تکفین کا انتظام کردیں، اور جو پیسے خرچ ہوں، اس کا بل میرے پاس بھیج دیجئے۔

مغربی عورت ایک بکاؤ مال
آج مغرب کا یہ حال ہے کہ وہاں خاندانی نظام تباہ ہوچکا ہے، ماں باپ کے رشتوں کی جو مٹھاس تھی وہ فنا ہوچکی، بھائی بہن کے تعلقات ملیامیٹ ہوچکے، ایک طرف تو خاندانی نظام تباہ ہوچکا اور دوسری طرف وہ عورت ایک کھلونا بن گئی، چاروں طرف اس کی تصویر دکھا کر اس کے ایک ایک عضو کو بر سر بازار برہنہ کرکے اس کے ذریعہ تجارت چمکائی جارہی ہے۔ اس کے ذریعہ پیسے کمانے کا انتظام کیا جارہا ہے۔

عورت کو دھوکہ دیا گیا
اس عورت سے یہ کہا گیا تھا کہ تمہیں گھروں کے اندر قید کردیا گیا ہے۔ تمہیں باہر اس لئے نکالا جارہا ہے تا کہ تم ترقی کرو، تم سربراہ مملکت بن جانا، تم وزیر بن جانا، تم فلاں فلاں بڑے عہدوں پر پہنچ جانا، آج امریکہ کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے کہ پوری تاریخ میں کتنی عورتیں امریکہ کی صدر بنیں؟ یا سربراہ بنیں، لیکن ان دو چار عورتوں کی خاطر لاکھوں عورتوں کو سڑکوں پر گھسیٹ لیا گیا۔ آج وہاں جا کر دیکھ لیجئے، دنیا کا ذلیل ترین کام عورت کے سپرد ہے۔ سڑکوں پر جھاڑو دے گی تو عورت دے گی، ہوٹلوں میں ویٹرس کا کام عورت کرے گی، بازاروں میں سیلز گرل کا کام عورت کرے گی، ہوٹلوں میں بستروں کی چادر عورت تبدیل کرے گی، اور جہازوں میں کھانا عورت سرو کرے گی۔ وہ عورت جو اپنے گھر میں اپنے شوہر کو اپنے بچوں کو اپنے ماں باپ کو کھانا سرو کر رہی تھی، وہ اس کے لئے وقیانوسیت تھی، وہ رجعت پسندی تھی، وہ عورت کے لئے قید تھی ، اور وہی عورت بازاروں کے اندر، ہوٹلوں کے اندر، ہوائی جہازوں کے اندر سینکڑوں انسانوں کو کھانا سرو کرتی ہے، اور ان کی ہوس ناک نگاہوں کا نشانہ بنتی ہے تو یہ عزت ہے اور یہ آزادی ہے۔
خرد کام نام جنوں رکھ دیا، جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے

عورت پر ظلم کیا گیا
ایک طرف تو عورت کا یہ حشر کیا، دوسری طرف وہ لوگ جو آزادئ نسواں کے علمبردار کہلاتے ہیں انہوں نے عورت پر جو ظلم کیا ہے تاریخ انسانیت میں اس سے بڑا ظلم نہیں ہوا، آج اس کے ایک ایک عضو کو بیچا جارہا ہے، اور اس کی عزت اور تکریم کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں، اور پھر بھی یہ کہتے ہیں کہ ہم عورت کے وفادار ہیں، اور عورت کی آزادی کے علمبردار ہیں۔ اور جس نے عورت کے سر پر عفت و عصمت کا تاج رکھا تھا اور اس کے گلے میں احترام کے ہار ڈالے تھے، اس کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ انہوں نے عورت کو قید کردیا۔ عورت کی ذات ایسی ہے کہ جو چاہے اس کو بہکا دے، اور اپنا اُلو سیدھا کرلے، چنانچہ آج ہماری مسلمان خواتین نے بھی ان ہی کی لے میں لے ملانی شروع کردی۔

ہمارے معاشرے کا حال
آپ کو یاد ہوگا کہ کچھ دن پہلے ہمارے ملک کے ایک معروف رہنما نے یہ کہدیا تھا کہ ’’مردوں کو چاہئے کہ وہ عورتوں کے خرچ کا انتظام کریں، عورتوں کو بلاوجہ گھر سے باہر نکل کر اپنے معاش کا انتظام کرنا ٹھیک نہیں ہے‘‘ اس کے جواب میں جو خواتین ماڈرن کہلاتی ہیں اور اپنے آپ کو خواتین کے حقوق کی علمبردار کہتی ہیں، انہوں نے ان صاحب کے خلاف ایک جلوس نکالا، اور یہ کہا کہ ان صاحب نے ہمارے خلاف یہ بات کہی ہے۔ اب دیکھئے کہ ایک آدمی یہ کہتا ہے کہ آپ کو اپنے معاش کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، دوسری لوگ آپ کے لئے یہ خدمت انجام دینے کو تیار ہیں۔ اس پر عورتوں کو خوش ہونا چاہئے، مگر جھوٹ کا یہ پروپیگنڈہ ساری دنیا میں عالمی طور پر پھیلایا گیا ہے، اس لئے خوش ہونے کے بجائے یہ کہا جارہا ہے کہ یہ صاحب خواتین کے حقوق تلف کرنا چاہتے ہیں، جلوس نکالنے والی وہ عورتیں ہیں جنہوں نے خواتین کے حقیقی مسائل سمجھنے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کی۔ ان خواتین نے ائیرکنڈیشنز محلات میں پرورش پائی ہے۔ دیہات میں جو عورت بستی ہے اس کے کیا مسائل ہیں، اس کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس سے کوئی تعرض نہیں کیا، کبھی ان کے مسائل کو جاننے کی کوشش نہیں کی۔ ان کے نزدیک صرف مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں یورپ اور امریکہ کے لوگ یہ کہہ دیں کہ ’’ہاں تم لوگ روشن خیال ہو‘‘ اور تم لوگ اکیسوی صدی کے ساتھ چلنے والے ہو، بس یہ مسئلہ ہے، ان کے نزدیک کوئی اور مسئلہ نہیں ہے۔

ایسی مساوات فطرت سے بغاوت ہے
بہرحال آج یہ پروپیگنڈہ ساری دنیا میں پھیلا دیا گیا ہے کہ یہ مسلمان، یہ مولوی ملا لوگ عورتوں کو گھروں میں بند کرنا چاہتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے زندگی کے دو مختلف دائرہ کار تجویز کئے ہیں، مرد کے لئے الگ، عورت کے لئے الگ، اس لئے مرد کی جسمانی ساخت اور ہے اور عورت کی جسمانی ساخت اور ہے۔ مرد کی صلاحیتیں اور ہیں، عورت کی صلاحیتیں اور ہیں۔ لہذا مساوات کا یہ نعرہ لگانا کہ عورت بھی وہی سب کام کرے جو کام مرد کرتا ہے تو یہ فطرت سے بغاوت ہے اور اس کے نتیجے میں خاندانی نظام تباہ ہوچکا ہے، اگر ہم اپنے معاشرے میں خاندانی نظام کو بچانا چاہتے ہیں تو اس کے لئے خواتین کو پردہ میں رکھنا ہوگا،اور مغرب کے پروپیگنڈہ کے اثرات کو اپنے معاشرے سے نکالنا ہوگا۔ اللہ تعالی ہمارے معاشرے کو مغربی آفات سے محفوظ فرمائے اور چین و سکون کی زندگی ہم سب کو عطا فرمائے۔ آمین۔

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں