حضرت عبدالله بن مبارکؒ

حضرت عبدالله بن مبارکؒ

رقّہ میں خبر پہنچتی ہے کہ عبدالله بن مبارک تشریف لارہے ہیں، تو ارادت مند ہزاروں کی تعداد میں ان کا استقبال کرنے کے لیے امڈ پڑتے ہیں۔ ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ابنِ مبارک کو آج تک نہیں دیکھا۔ لیکن ان کی علمی عظمت، تفقہ، حق گوئی اور حق پرستی کا شہرہ بلادِ اسلامیہ میں اس طرح پھیلا ہوا ہے کہ ایک دنیا ان کی اَن دیکھے گرویدہ اور عقیدت مند ہے۔ شہر سے باہر ان کا زبرست استقبال ہوتا ہے۔ ہجوم کی کثرت سے فضا میں گردوغبار چھا جاتا ہے۔ لوگ ان سے مصافحہ کے لیے ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ آج کل خلیفہ ہارون الرشید بھی رقّہ میں فروکش ہے۔ اس کی ایک باندی محل کے برج سے یہ منظر دیکھ رہی ہے۔ خدام سے پوچھتی ہے: ”یہ کیا معاملہ ہے؟“

”خراسان کے ایک عالم عبدالله بن مبارک رقّہ آرہے ہیں۔“ خدام جواب دیتے ہیں۔

وہ بے ساختہ بول اٹھتی ہے : ” بخدا بادشاہ تو یہ ہیں، بھلا ہارون کیا بادشاہ ہے۔ جو پولیس اور سپاہیوں کے بغیر لوگوں کو جمع کر ہی نہیں سکتا۔“

ہارون الرشید، عبدالله بن مبارک سے ملاقات کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔ باڈی گارڈ کا افسر ابراہیم بن نوح موصلی دست بستہ عرض کرتا ہے: ” امیر المؤمنین، ابن مبارک خراسان کے رہنے والے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہیں وہ آپ سے ایسی باتیں نہ کریں جو ناگوار خاطر ہوں اور آپ انہیں قتل کرادیں۔ خدانخواستہ ایسا ہوا تو میں اپنی ہلاکت بھی مول لوں گا اور عبدالله بن مبارک اور امیر المؤمنین کی ہلاکت کا باعث بھی بنوں گا۔“

ہارون خاموش ہو جاتا ہے۔ چند روز بعد یہ خواہش پھر اس کے دل میں کلبلاتی ہے۔

”امیر المؤمنین! ابن مبارک بڑے تند مزاج اور بے پروا آدمی ہیں۔“ ابراہیم دوبارہ ٹالنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہارون پھر خاموش ہو رہتا ہے۔

تین دن کے بعد عبدالله بن مبارک خود تشریف لے آتے ہیں۔ جو لوگ ابن مبارک کی بے نیازی اور حکم رانوں سے اجتناب سے واقف ہیں، وہ انگشت بدنداں ہیں۔ آخر ایک درباری پوچھ ہی لیتا ہے: ”آپ پہلے تو ہارون کی ملاقات سے گریز کرتے تھے۔ اب کیسے آگئے ہیں؟“

”میں اپنے دل کو موت پر راضی کرنا چاہتا تھا، مگر وہ مانتا نہیں تھا۔ اب وہ مرنے پر رضا مندہو گیا ہے، چناں چہ میں ہارون کے پاس چلا آیا ہوں۔“

عبدالله بن مبارک نسباً غلام ہیں۔ ان کے والد مبارک غلام تھے۔ بڑے ہی دیانت دار او رحق شناس… آقا ان کی دیانت داری سے بے حد متاثر تھا اور بہت احترام کرتا تھا۔اس کی ایک جوان لڑکی تھی، جس کی شادی کے ہر طرف سے پیغام آرہیتھے، لیکن وہ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ کس کا پیغام قبول کرے۔ ایک روز اس نے مبارک سے مشورہ کیا:

” مبارک میں اس لڑکی کی شادی کہاں اور کس سے کروں؟“

انہوں نے کہا:” عہد جاہلیت میں لوگ حسب نسب تلاش کرتے تھے، لیکن امتِ محمدیہ کے نزدیک تو معیار بس دین اور تقویٰ ہے۔ آپ جس چیز کو چاہیں ترجیح دیں“۔

مبارک کا یہ ایمان افروز اور دانش مندانہ مشورہ آقا کے دل میں گھرکر گیا۔اس نے فوراً فیصلہ کر لیا۔ بیوی کے پاس آیا او رکہا:” ہم لڑکی کا بَر تلاش کر رہے ہیں، میرے نزدیک تو مبارک سے بہتر کوئی دوسرا شخص نہیں ہے، دین دار، متقی اور دیانت دار…“۔

وہ نیک بخت خاتون بھی مبارک کے اخلاق وکردار سے بہت متاثر تھی، چناں چہ اسے یہ رائے بہت پسند آئی۔ مبارک کی شادی آقا کی لڑکی سے ہوگئی۔

عبدالله انہی مبارک اور اس باسعادت لڑکی کے صاحب زادے ہیں۔ بوقلموں شخصیت کے مالک ہیں، محدث اور فقیہ، ورع وتقویٰ کے پیکر، علم وفضل کے امام، سجادے پر راہب نظر آتے ہیں اور جنگ کا موقع آتا ہے تو شہسوار ثابت ہوتے ہیں، ان کی زندگی کا ہر پہلو دل ونگاہ کا دامن کھینچے لیتا ہے۔

ایک مرتبہ اپنے وطن مروسے شام جاتے ہیں۔ وہاں کسی شخص سے قلم مستعار لیتے ہیں، لیکن واپس کرنا بھول جاتے ہیں۔ مرو پہنچ کر قلم پر نظر پڑتی ہے۔ فوراً اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ دوبارہ شام پہنچتے ہیں، صاحبِ قلم سے معذرت کرتے ہیں اور واپس کرکے مرو تشریف لاتے ہیں۔

شاید آج کسی کو اس واقعہ میں کوئی نُدرت نظر نہ آئے، لیکن عبدالله بن مبارک کی اخلاقی عظمت کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ مرو شام سے سینکڑوں میل دور ہے، زمانہ اونٹوں، گھوڑوں اور خچروں کی سواری کا ہے اور کالے کوسوں کی منزلیں، بڑی صعوبتوں کا سامنا کرتے ہوئے، مہینوں اور سالوں میں طے ہو پاتی ہیں۔

عبدالله بن مبارک تجارت کرتے ہیں۔ ان کا تجارتی کاروبار بہت وسیع ہے، لیکن حصولِ زریا دنیا طلبی کے لیے نہیں، بلکہ الله کے بندوں کی مدد اور ان کے حقوق ادا کرنے کے لیے، ایک لاکھ درہم سالانہ فقراء پر اور اس سے کہیں زیادہ رقم وہ علماء اور طلباء پر صرف کرتے ہیں۔

ان کی سخاوت اور دریا دلی اہل علم ہی تک محدود نہیں، بلکہ ہر خاص وعام فائدہ اٹھاتا ہے۔ لوگوں کو ان کی طلب اور توقع سے زیادہ دیتے ہیں۔ایک مرتبہ خبر ملتی ہے کہ ایک شخص سات سو درہم کا مقروض ہے۔ اپنے منشی کو لکھتے ہیں فلاں شخص کو سات ہزار درہم دے دیے جائیں۔ مقروض تحریر لے کر منشی کے پاس پہنچتا ہے، وہ خط پڑھ کر اُس سے پوچھتا ہے، تمہیں کتنی رقم چاہیے؟ وہ کہتا ہے میں سات سو درہم کا مقروض ہوں اور اس رقم کے لیے لوگوں نے عبدالله ابن مبارک سے سفارش کی ہے۔ منشی کہتا ہے: ٹھہرو! تحریر میں کچھ غلطی معلوم ہوتی ہے، ابن مبارک سے پتہ کر لوں۔ چناں چہ وہ ابن مبارک کو واقعہ لکھتا ہے کہ خط لانے والا تو سات سو درہم کا طالب ہے اور آپ نے سات ہزار دینے کی ہدایت کی ہے، کہیں قلم کی چوک تو نہیں ہو گئی؟

ابن مبارک جواب میں لکھتے ہیں ”میرا خط ملتے ہی اس شخص کو چودہ ہزار درہم دے دو۔“

منشی پھر لکھتا ہے : ” آپ اپنی دولت لٹاتے رہے، تو جلد ہی سارا سرمایہ ختم ہو جائے گا۔“

ابن مبارک ڈانٹ کر لکھتے ہیں:”اگر تم میرے ماتحت اور مامور ہو تو میرا حکم بجالاؤ اور مجھے اپنا مامور سمجھتے ہوتو پھر میری جگہ پر آکر بیٹھ جاؤ۔ پھر مجھے جو حکم دو گے میں اس پر عمل کروں گا۔ میرے سامنے دولت وثروت سے زیادہ قیمت سرمایہ آخرت کا ثواب اور نبی صلی الله علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کو اچانک اور غیر متوقع طور پر خوش کر دے گا۔الله تعالیٰ اسے بخش دے گا۔ اس نے مجھ سے سات سو درہم طلب کیے تھے، میں نے سوچا اسے سات ہزار ملیں گے تو غیر متوقع طور پر اتنی رقم پاکر بہت خوش ہو گا اور فرمان نبوی کے مطابق مجھے اس کا اجروثواب ملے گا۔ اب چوں کہ اسے پتہ چل گیا ہے کہ اسے سات ہزار درہم ملیں گے ، اس لیے کوئی غیر متوقع بات نہیں رہی، جس سے یہ خوش ہو، لہٰذا اسے چودہ ہزار درہم دیے جائیں۔“

عبدالله بن مبارک ان علماء اور صلحائے امت میں سے ہیں جو سلاطین او رامر اسے خود بھی کوئی واسطہ نہیں رکھتے اور دوسروں کو بھی اس سے منع کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک علماء وصلحاء کا مقام ہی نہیں کہ وہ قصر سلطانی کا طواف کرتے ہوئے زندگی گزار دیں۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ دین کو سلاطین اور بادشاہوں کا آلہٴ کار بنا دیں اور ان کے دباؤ سے یا تملق پیشگی کے طو رپر گناہ کو ثواب ،حرام کو حلال اور باطل کو حق قرار دیں، چناں چہ خدا ترس علمائے حق کی بھاری اکثریت ارباب اقتدار سے ہمیشہ دامن کش اور گریزاں رہی ہے۔ ابن مبارک کا طرزِ عمل بھی یہی ہے ۔ وہ سلاطین وامراء کے ساتھ ربط ضبط اور مصاحبت کو دین فروشی سے تعبیر کرتے ہیں اور دنیا پر ست علماء اور فقہاء پر سخت تنقید کرتے ہیں۔

ایک روز خبر ملتی ہے کہ ان کے دوست او رساتھی ابن علیہ ، سلاطین وامراء کے ہاں حاضری دینے لگے ہیں اور صدقات وصول کرنے کے انچارج بنا دیے گئے ہیں۔ابن علیہ اپنے وقت کے ممتاز محدث اور امام ہیں، عبدا لله بن مبارک کو سخت صدمہ ہوتا ہے۔

خاصے دنوں بعد وہ ان کی مجلس میں حاضر ہوتے ہیں توان سے کلام تک نہیں کرتے، ابن علیہ بہت پریشان ہوتے ہیں، مگر مجلس میں کچھ کہنے کی جرات نہیں ہوتی۔ گھر پہنچ کر بڑے اضطراب کے عالم میں خط لکھتے ہیں۔

اے میرے سردار ، میری آنکھوں کے نور، میرے استاد! میں آپ کا عرصہٴ داز سے احسان مند ہوں، آپ کے جو احسانات مجھ پر ہیں،انہیں اپنے او راپنے متعلقین کے حق میں برکت شمار کرتا ہوں، لیکن نہ جانے آپ کیوں مجھ سے ناراض ہو گئے ہیں میں آپ کے درِ دولت پر حاضر ہوا، لیکن آپ نے میری طرف نگاہ التفات تک نہ کی۔ مجھے اب تک پتہ نہیں چل سکا کہ مجھ سے کون سی غلطی ایسی سر زد ہو گئی جس کی پاداش میں آپ نے مجھے اپنی کرم نوازیوں سے محروم کر دیا ہے؟!“

خط کا ایک ایک فقرہ بڑا پر اثر ہے، مگر عبدالله ابن مبارک ذرا متاثر نہیں ہوتے۔ چند اشعار جواب میں لکھ بھیجتے ہیں:
اے علم کو ایسا باز بنانے والے
جوغریبوں کا مال سمیٹ کر لے جاتا ہے
تونے دنیا اور اس کی لذتوں کی خاطر
دین کو مٹا دینے والی تدبیر کی ہے۔
تم خود مجنون ہو گئے
حالاں کہ سودائیوں کا علاج کیا کرتے تھے
وہ حدیثیں کیا ہوئیں
جن کی روایت ابن عون او رابن سیرین آپ سے کیا کرتے تھے؟
وہ احادیث کہاں گئیں
جن میں سلاطین سے ربط ضبط رکھنے کی وعید آتی ہے؟ تم کہو گے مجھے مجبور کر دیا گیا تھا۔ مگر کیوں؟
ہاں کتابوں سے لدا ہوا چار پایہ ایسی ہی ذلت سے ہم کنار ہوتا ہے۔
ابن علیہ اشعار پڑھتے ہیں، تو ان کی چیخیں نکل جاتی ہیں او راسی وقت اپنے عہد سے استعفا لکھ دیتے ہیں۔

عبدالله بن مبارک زہد وورع کے پیکر ہیں راتیں عبادت میں کٹتی ہیں اور دن خلق خدا کی خدمت اور درس وتدریس میں آخرت کی باز پرس کے خوف سے ہر وقت لرزاں وترساں رہتے ہیں۔ انہوں نے زہد وورع پر ایک کتاب لکھی ہے۔ طلبہ کے سامنے جب اسے پڑھتے ہیں تو اس طرح رقت طاری ہو جاتی ہے کہ بول نہیں سکتے۔ ایک بار شام جار ہے تھے، رات ایک سرائے میں قیام ہوا سب لوگ کھانا کھا رہے تھے کہ اچانک چراغ بجھ گیا۔ ایک آدمی چراغ جلانے کے لیے اٹھا۔ روشنی پھیلی تو لوگوں نے دیکھا۔ عبدالله ابن مبارک کی داڑھی آنسوؤں سے تر تھی۔ قاسم بن محمد، جو اس سفر میں ان کے ساتھ تھے کہتے ہیں: میں اکثر سوچا کرتاتھا کہ ابن مبارک کو اتنا فضل وشرف اور قبولِ عام کس بنا پر حاصل ہوا؟! ہم بھی انہیں کی طرح نماز پڑھتے ہیں، روزے بھی ہم ان سے کم نہیں رکھتے ، وہ حج کرتے ہیں تو ہم بھی حج کرتے ہیں، جہاد میں شرکت کے شرف میں بھی ہم ان سے پیچھے نہیں۔ اس روز مجھے معلوم ہواکہ ابن مبارک کے فضل وشرف اور مقبولیت کا راز ان کی خشیت الہی میں پنہاں ہے۔ چراغ گل ہونے پر اندھیرا ہو گیا۔ ہم سب لوگوں پر گھبراہٹ طاری ہو گئی، وہ بھی گھبرائے، مگر معاً خیال آگیا، ہم دنیا کے اندھیرے سے کتنا خوف کھاتے اور کس قدر مضطرب ہو جاتے ہیں، پھر قبر میں اور قیامت کے روزہمارا کیا حال ہو گا، جب انسان کو تہہ در تہہ تاریکیاں آلیں گی؟؟ یہاں تو ہم چراغ جلا کر روشنی کر لیتے ہیں، لیکن وہاں صرف حسن عمل کا چراغ کام دے گا اور وہ کسی خوش بخت انسان ہی کے پاس ہو گا، بس اس خیال سے ان پررقت طاری ہو گئی۔

ابن مبارک کے زہد وتقویٰ کا اندازہ اُن کے اس معیار سے کیا جاسکتا ہے جو تقویٰ کے سلسلے میں پیش کیا کرتے ہیں۔ ان کا ارشاد ہے : ”آدمی سو باتوں میں تقویٰ اور خوف خدا اختیا رکرتا ہے او رایک بات میں نہیں، تو اسے متقی نہیں کہا جاسکتا ۔“ ابن مبارک ادب او رحسنِ معاشرت کا نمونہ ہیں فرماتے ہیں: ”ادب اور حسنِ معاشرت دین کے دوحصے ہیں۔“

طبیعت میں حددرجہ انکسار اور خاک ساری ہے، رفتار، گفتار، نشست وبرخاست اور لباس، کسی چیز سے اپنی امتیازی حیثیت کو ظاہر نہیں ہونے دیتے، مرو میں ان کا اچھا خاصا کشادہ مکان تھا، جہاں عقید ت مندوں کاہجوم رہا کرتا تھا، مگر آپ کو یہ ہجوم خلائق او راظہارِ عقیدت مندی پسند نہ تھا، چناں چہ مرو چھوڑ کر کوفہ چلے آئے اورایک تنگ وتاریک مکان میں رہنے لگے، لوگوں نے دریافت کیا اتنا کشادہ مکان چھوڑ کر اس تنگ سے مکان میں رہنے سے آپ کو وحشت نہیں ہوتی؟ فرمایا: ”جس بات کو تم پسند کرتے ہو ( یعنی عقیدت مندوں کا ہجوم) میں اسے ناپسند کرتا ہوں۔اسی ہجوم سے بچنے کے لیے میں نے مرو چھوڑ دیا۔ اب تم چاہتے ہو یہاں بھی میں اس ہجوم میں گھر کررہ جاؤں۔تمہیں گم نامی کی زندگی ناپسند ہے، مگر مجھے تو یہی زندگی محبوب ہے۔“

انہوں نے سال کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، ایک حصے میں تجارت کرتے ہیں، دوسرے میں درس وتدریس کا کام انجام دیتے اور تیسرا حصہ جہاد اور سفرِ حج کے لیے وقف کر رکھا ہے۔

ابن مبارک کی مجلس علمی جمی ہوئی ہے۔ آئیے ہم بھی اس گلستان سے کچھ لالہ ویاسمین اپنے دامن میں بھر لیں:
گم نامی کو پسند کر واور شہرت سے دور رہو، مگر یہ ظاہر نہکرو کہ تم گم نامی پسند کرتے ہو کہ اس سے بھی نفس میں غرور پیدا ہو گا۔
کوئی شخص عالم نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کے دل میں خوف خدا اور دنیا سے بے رغبتی نہ ہو۔
تواضع یہ ہے کہ آدمی اغنیا کے مقابلے میں خود دار رہے۔
بہت سے چھوٹے اعمال ہیں جو حسن نیت کی وجہ سے بڑے ہو جاتے ہیں او ربہت سے بڑے اعمال ہیں جو سوئے نیت کی بدولت بے مایہ بن کر رہ جاتے ہیں، علم کے لیے سب سے پہلے نیت اورارادہ، پھر فہم، پھر حفظ اور پھر اس کی ترویج واشاعت کی ضرورت ہے۔

خواص کے بگاڑ سے عام بگاڑ پیدا ہوتاہے، امت محمدیہ کے پانچ طبقے ہیں جب ان میں فساد اورخرابی پیدا ہو جاتی ہے ، تو سارا معاشرہ بگڑ جاتا ہے۔
1..علماء… یہ انبیاء کے وارث ہیں، مگر جب یہ دنیا کی حرص وطمع میں پڑ جائیں، تو پھر کسے کوئی راہ نما بنائے؟
2..تجار… یہ الله کے امین ہیں، لیکن اگر یہ خیانت پر اتر آئیں، تو پھر کسے امین سمجھاجائے؟
3..مجاہدین… یہ الله کے مہمان ہیں، جب یہی مال غنیمت کی چوری شروع کر دیں تو پھر دشمن پر فتح کس کے ذریعے حاصل کی جائے؟
4..زہاد… یہ زمین کے اصل بادشاہ ہیں، یہ لوگ بُرے ہو جائیں تو پھر کس کی پیروی کی جائے؟
5..حکام… یہ مخلوق کے نگراں ہیں، جب یہ گلہ بان ہی بھیڑئیے بن جائیں، تو گلہ کس طرح محفوظ رہے؟


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں