آج : 28 February , 2018
مولانا عبدالحمید نے پہلی بار چونکا دینے والی تجویز پیش کی؛

موجودہ پالیسیوں پر نظرثانی کے لیے ارباب حل وعقد کا شورا بنائیں

موجودہ پالیسیوں پر نظرثانی کے لیے ارباب حل وعقد کا شورا بنائیں

ایران کے ممتاز سنی عالم دین شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ملک کے نامساعد حالات اور مختلف اکائیوں کے مسائل کے پیش نظر تمام برادریوں کی شخصیات سے ’اہل حل وعقد‘ کے ایک شورا بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔
سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، خطیب اہل سنت زاہدان کی آفیشل ویب سائٹ نے ان کے ایک تفصیلی انٹرویو شائع کیا ہے جس میں سنی برادری کے مسائل اور مشکلات پر بطور خاص گفتگو ہوئی ہے۔ اس انٹرویو میں پہلی بار موجودہ اداروں کی ناکامی اور آئین کی بعض شقوں کی معطلی کی وجہ بتائی گئی ہے۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے ارباب حل و عقد کے شورا کی تشکیل کو لسانی و مذہبی اقلیتوں کے حقوق، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور غیرعادلانہ پالیسیوں کی اصلاح، نیز حالیہ مظاہروں میں شرکت کرنے والے شہریوں کے مطالبات کے لیے موثر یاد کیاہے۔
انہوں نے موجودہ غلط پالیسیوں کو ’قابل اصلاح‘ قرار دیتے ہوئے کہا: امتیازی سلوک ایک باقاعدہ پالیسی اور غیرمکتوب معاہدہ کے تحت سنی برادری کے خلاف جاری ہے۔ ہماری اطلاعات کے مطابق ایرانی اہل سنت سے متعلق پالیسیاں مخصوص مذہبی حلقوں میں بنتی اور نافذ ہوتی ہیں۔ امتیازی سلوک کے قانون کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
مولانا عبدالحمید نے عراق میں صدام حسین کے بعد آنے والی حکومتوں کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا: عراق کے سابق وزیراعظم نے امتیازی سلوک کی پالیسی ایران سے لیا۔ انہوں نے سنی برادری کو نظرانداز کرکے انہیں حکومت سے دور رکھا۔ ان کو اندازہ نہیں تھا ایران اور عراق کے حالات مختلف ہیں۔ نتیجے میں انتہاپسندی کو فروغ ملا اور یہ ملک تباہ ہوکر رہ گیا۔ امتیازی رویوں کی پالیسی کا نتیجہ تباہی ہی ہے۔
مذہبی پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا: مذہبی حوالے سے لوگوں کو محدود رکھنا اسلامی تعلیمات اور آئین کے خلاف ہے۔ ایسی پابندیاں بھی مخصوص مذہبی حلقے بناتے ہیں اور نافذ کرتے ہیں تاکہ سنی برادری کے مذہبی امور کو اپنے ہی کنٹرول میں رکھیں۔
خطیب اہل سنت نے مزید کہا: چند سال قبل ’شورائے ادارت و منصوبہ بندی برائے مدارس اہل سنت‘ کا وجود میں آنا جو اہل سنت کے مذہبی امور کے حوالے سے اصل فیصلہ ساز ادارہ ہے اور اس کے اکثر ارکان شیعہ علما ہیں، آئین اور انصاف کے سراسر خلاف تھا۔
انہوں نے کہا: مذہبی امور میں مداخلت کے منفی نتائج نکلتے ہیں، چانچہ کردستان میں غیرسرکاری مدارس کو کمزور کیا گیا اور مساجد کے امور میں مداخلت کی گئی، اب نوجوان مساجد سے دور رہتے ہیں اور بہت سارے شدت پسندی کی طرف مائل ہوگئے۔ بعض سنی علاقوں میں سیکیورٹی ادارے خود کو ہر فن مولا سمجھتے ہیں اور ان کی کوشش ہے مذہبی امور میں مداخلت کرکے علمائے کرام پر دباؤ ڈالنے کے ذریعے سے مذہبی امور کا کنٹرول اپنے ہی ہاتھوں میں لیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے سوال اٹھایا: کیوں شیعہ کے مذہبی مکانات کا زمام محکمہ اوقاف کے ہاتھ میں ہے، لیکن سنی برادری کو ولی فقیہ کے نمائندہ دفاتر کا راستہ دکھایا جاتاہے؟! اہل سنت مسجد و دیگر مذہبی مراکز کی تعمیر کے لیے قانونی طریقہ کار کے بجائے ولی فقیہ کے نمائندوں کے دفتر جاتے ہیں، وہاں انہیں تنگ نظری کا سامنا کرنا پڑتاہے۔
انہوں نے مزید کہا: جن ملکوں میں شدت پسندانہ افکار موجود ہیں، وہاں بھی شیعوں پر اتنی سختی نہیں ہوتی۔ اگر سنی علمائے کرام اور شخصیات ایک دوسرے سے ملیں اور آزادی کے ساتھ سفر کریں، اس سے کیا نقصان پہنچے گا؟ اگر ہم خاموش رہتے ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں ہم حالات سے خوش ہیں۔ ہم صرف اتحاد کی خاطر خاموشی اختیار کرتے ہیں اور تناؤ پیدا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے آزادی اظہار رائے کو ملک کے لیے مفید یاد کرتے ہوئے کہا: اگر عوام کو بات کرنے نہیں دی گئی، حالات مزید گمبیر ہوجائیں گے۔ دنیا میں بعض ملکوں کے علاوہ ہرجگہ آزادی پائی جاتی ہے۔
انہوں نے موجودہ داخلی و خارجی پالیسیوں پر نظرثانی کو اتحاد و امن کے فروغ کے لیے موثر یاد کرتے ہوئے کہا: ایسی نظرثانی اور اصلاح اس وقت ممکن ہے جب اہل حل و عقد کا ایک شورا اس پر اتفاق کرے اور مرشد اعلی اپنے پرزور حکم سے اسے نافذ کرے۔ قوم کی رضامندی اسی صورت میں حاصل ہوسکتی ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں