آج : 22 February , 2018

مولانا رشید احمد لدھیانوی کا وصال

مولانا رشید احمد لدھیانوی کا وصال

حضرت مولانا رشیداحمد لدھیانوی رحیم یارخان میں ۱۷ فروری ۲۰۱۸ء بعد از مغرب وصال فرمائے آخرت ہوگئے۔ اناللہ و انا الیہ راجعون
مولانا رشیداحمد لدھیانوی ۱۹۴۳ء کو علم و فضل کے حامل آرائیں خاندان لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ تحریک آزادی ہند کے صف اول کے رہنما رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کے رشتہ میں آپ حقیقی بھتیجے تھے۔ تقسیم کے بعد مولانا رشید احمد کا خاندان رحیم یارخان میں منتقل ہوا۔ مولانا رشیداحمد لدھیانوی نے دینی علوم کی تکمیل ملک کے نامور دینی جامعہ خیرالمدارس ملتان سے کی، آپ حضرت مولانا خیرمحمد جالندھری، مولانا محمدشریف کشمیری ایسے محدث علماء کے شاگرد رشید تھے۔ فراغت کے بعد آپ نے ریلوے اسٹیشن رحیم یارخان کی مسجد ریلوے کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا اور زندگی کے آخری سانس تک اس کی مرکزیت کو قائم رکھا۔ آپ جامعہ اسلامیہ ختم نبوت رحیم یارخان، مدرسہ عباسیہ اور مسجد ختم نبوت رحیم یارخان کے بانی مہتمم و متولی تھے۔
مولانا رشید احمد لدھیانوی کا خاندان تحریک آزادی میں پیش پیش رہا۔ آپ کے اجداد نے مرزا قادیانی کو ابتدا میں لدھیانیہ میں زچ کیا تھا اور اس کے خلاف فتوی تکفیر جاری کیا تھا۔ آپ نے سیاست میں جمعیۃ علماء اسلام کے پلیٹ فارم سے زندگی بھر وہ خدمات سرانجام دیں جو تاریخ کا سنہری باب ہیں۔ تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء تحریک نظام مصطفی ۱۹۷۷ء۔ ایم آرڈی کی تحریک، تحریک تحفظ ناموس رسالت میں اپنے بزرگوں کے زیرسایہ انمٹ یادوں کی ان کی خدمات کا زمانہ معترف ہے۔
مولانا رشید احمد لدھیانوی اپنے مخدوم حضرت مولانا غلام ربانی، اپنے ساتھی قاری حماداللہ شفیق، احرار رہنما حافظ محمداکبر کے ہمراہ رحیم یارخان میں دینی اقدار کی پاسبانی کے لیے ہمیشہ صف اول میں رہے۔ مولانا کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ مفکر اسلام مولانا مفتی محمود، شیخ الاسلام مولانا محمد عبداللہ درخواستی ایسے اکابر کے نہ صرف شانہ بشانہ رہے بلکہ اپنے خاندانی پس منظر کے حوالہ سے ان اکابر کے منظور نظر رہے اور ان کی توقعات پر پورا اترے۔ آپ اپنی قربانیوں کے تسلسل کے باعث چاربار جمعیۃ علماء اسلام پنجاب کے ناظم اعلیٰ رہے، تب جمعیۃ علماء اسلام پنجاب کے امیر یادگار اسلاف حضرت مولانا محمد عبداللہ بھکروالے اور قاضی حمیداللہ خان تھے۔ ایک بار جمعیۃ علماء اسلام پنجاب کے امیر بھی رہے، مرکزی مجلس شوریٰ کے عرصہ سے رکن چلے آرہے تھے۔
تحریک ختم نبوت کے ہر مرحلے پر پیش پیش رہے، قید و بند کے مراحل کو بڑی جرأت و بہادری کے ساتھ سرکیا۔ ختم نبوت کے سلسلے میں ایک بار ملتان، ڈیرہ غازی خان ڈویژن کی مشترکہ کانفرنس تحفظ ناموس رسالت قلعہ کہنہ قاسم باغ میں رکھی۔ کانفرنس کے تین اجلاس تھے رات کو کانفرنس، اگلے دن قبل از جمعہ قلعہ پر اجلاس اور بعد از جمعہ کا جلوس قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمن نے اس جلوس کی قیادت فرمائی۔ اس تمام پروگرام کا اہتمام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے کیا تھا۔ جمعیۃ علماء اسلام نے معاونت و سرپرستی سے نوازا۔ تب ان اضلاع کے تبلیغی دورے میں مولانا رشیداحمد لدھیانوی مرحوم ہمراہ تھے۔ ایک دن میں علماء کنونشن، میٹینگ، ملاقاتیں، رات کو اجلاس عام ہوتے۔ یوں یومیہ کئی شہروں کے تحصیل یا ضلع کے پروگرام ہوتے۔ موصوف چاک و چوبند دستہ کے جرنیل کی طرح شب و روز مصروف رہے۔ تب آپ کی بے پناہ ہمت اور صلاحیت کار کا اندازہ ہوا کہ وہ کتنے متحرک انسان تھے۔ اس طرح غالباً دسمبر ۲۰۱۰ء کو تحفظ ناموس رسالت کانفرنس اسلام آباد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمن کی صدارت میں رکھی گئی۔ اس کے لیے تمام مسالک کے قائدین اور دینی و سیاسی جماعتوں کی قیادت کو دعوت دینے کے لیے ایک طوفانی سفر طے کرنا ہوا۔ حضرت مولانا مرحوم جس مستعدی کے ساتھ رواں دواں رہے اس پر آپ کو خراج تحسین پیش نہ کرنا تاریخ کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ اس سلسلہ کا آخری جلسہ لاہور میں ہوا مولانا مرحوم اس کے استقبالیہ کے ذمہ دار حضرات میں سے تھے۔
مولانا ایک زیرک، بیدار مغز عالم دین مستعد قومی رہنما اور معاملہ فہم اور نظریاتی سیاسی شخصیت تھے۔ آپ نے جمعیۃ علماء اسلام کے لیے جس بے جگری کے ساتھ شب و روز ایک کیے وہ قابل ستائش آپ کا کارنامہ ہے۔ آپ کی ان خدمات کے لیے جماعتی رفقاء میں آپ کو ہر دلعزیز بنادیا تھا۔ مولانا ایک عالم دین، اچھے خطیب اور شاعر بھی تھے۔ لکھنے کی نسبت پڑھنے کے خوگر زیادہ تھے۔ وفات کے وقت آپ کی عمر شمسی اعتبار سے پچھتر برس اور قمری اعتبار سے ستتر برس تھی۔ تقریباً پندرہ برس قبل اہلیہ کا وصال ہوا، تو عقد ثانی کیا۔ اللہ رب العزت نے دوسرے گھر سے بھی ایک بیٹی عنایت فرمائی۔ صحت اچھی تھی، معمولات بھی جاری رہے۔ وفات سے قبل بخار ہوا، ہسپتال لے جائے گئے، وقت موعود آن پہنچا تو سب کو چھوڑ کر موت کو گلے لگالیا۔ حق تعالی مغفرت فرمائیں بہت ہی قابل قدر انسان تھے اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ وہ کیا گئے کہ تاریخ کا ایک باب مکمل ہوا۔
حق مغفرت کرے عجیب مرد آزاد تھا


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں