آج : 15 August , 2017

امیرالمؤمنین فی الحدیث حضرت مولانا محمدیونس جونپوری رحمہ اللہ کی رحلت

امیرالمؤمنین فی الحدیث حضرت مولانا محمدیونس جونپوری رحمہ اللہ کی رحلت

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا نوراللہ مرقدہٗ کے خلیفہ مجاز، تلمیذ رشید و علمی جانشین، جامعہ مظاہر علوم سہارن پور کے فاضل و شیخ الحدیث، علمائے کرام و شیوخ عظام کے مرجع، کثیر المطالعہ محدث، نابغہ روزگار شخصیت، قلندرانہ صفت کے حامل پندرہویں صدی کے امیرالمومنین فی الحدیث حضرت مولانا محمدیونس جونپوری رحمہ اللہ اسی برس اس عالم دنیا میں رہ کر عالم عقبیٰ کے سفر پر روانہ ہوگئے، اناللہ و انا الیہ راجعون، ان للہ ما أخذ و لہٗ ما أعطی و کل شیء عندہٗ بأجل مسمّٰی۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’’ما تزول قدما عبد حتی یسئل عن أربع: عن عمرہٖ فیما أفناہ، عن شبابہٖ فیما أبلاہ، عن مالہٖ من أین اکتسبہٗ و فیما أنفقہٗ، عن علمہٖ ماذا عمل فیہ۔‘‘
(شعب الایمان للبیہقی، رقم الحدیث: ۱۶۴۷)
ترجمہ: ’’بندے کے قدم اپنی جگہ پر ہی رہیں گے یہاں تک کہ اس سے چار چیزوں کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے، اس کی عمر کے بارے میں کہ کس مشغلہ میں گزاری؟ اس کی جوانی کے بارے میں کہ کس کام میں صرف کی؟ اس کے مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایا اور کس چیز میں خرچ کیا؟ اور علم کے بارے کہ اس پر عمل کتنا کیا؟۔‘‘
اس حدیث کی روشنی میں جہاں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عام لوگوں کے لیے آخرت میں ان چار سوالوں کا جواب نہایت ہی مشکل ہوگا، وہاں یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ علمائے کرام، قراء کرام، حفاظِ کرام، تبلیغی حضرات، مجاہدین، عقیدۂ ختم نبوت کے محافظین، غرض یہ کہ اعلائے کلمۃ اللہ، دینی تعلیم و تعلم اور تبلیغ و اشاعت میں مصروف اور کوشاں افراد اور جماعتوں کے لیے حساب دینا نہایت ہی آسان ہوگا۔
اس لیے کہ ان حضرات سے جب یہ سوال کیا جائے گا کہ تم نے اپنی عمر کس مصرف میں خرچ کی ہے؟ تو ان کے لیے یہ جواب دینا کتنا آسان ہوگا کہ سن شعور سے لے کر موت تک بغیر کسی لالچ و طمع اور بغیر کسی دکھاوے اور شہرت کی نیت کے ہم اللہ تعالی کے دین، اللہ تعالی کے قرآن اور اللہ تعالی کے رسول کی تعلیم و تبلیغ میں مصروف کار رہے۔
انہیں میں سے ایک حضرت مولانا محمدیونس جونپوری رحمہ اللہ ہیں، تقریباً پچاس سال تک حدیث نبوی کا درس دیتے رہے، داخل تو ہوئے تھے علم دین کے حصول کے لیے، لیکن اللہ تعالی نے ایسا فضل فرمایا کہ وہ نہ صرف یہ کہ اس ادارہ کے استاذ مقرر ہوئے، بلکہ پچاس سال تک شیخ الحدیث کے منصب جلیلہ پر فائز و متمکن رہ کر اسی ادارہ ہی سے سفر آخرت پر روانہ ہوئے:
ایں سعادت بزورِ نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
حضرت شیخ ایک ایسی شخصیت تھے جن کے نزدیک ان کی کتابیں ہی ان کا سب کچھ تھیں۔ دنیا کسے کہتے ہیں؟ وہ جاننا ہی نہیں چاہتے تھے۔ ان کے شاگر اور مرید شیخ یعقوب دہلوی سابق امام مسجد قباء و مشرف قاضیان مدینہ نے یہ واقعہ اپنے ساتھی ایک عالم دین کو سنایا کہ: ’’مدینہ منورہ تشریف لانے پر عرب علماء حضرت موصوف رحمہ اللہ کے جوتے سیدھے کرنا اپنا شرف سمجھتے تھے۔ ایک سفر میں ان عرب شاگردوں نے اتنے ہدایا دیئے کہ ریالوں سے دو تھیلے بھر گئے۔ مدینہ سے واپسی پر شیخ نے مجھے حکم دیا کے سارے پیسے مدینہ منورہ میں ہی غرباء میں تقسیم کردوں۔ میں نے با اصرار کہا کہ حضرت! اپنی ضرورت کے بقدر رکھ لیں، لیکن وہ تیار نہیں ہوئے اور ایک ایک ریال صدقہ کروایا۔ جب ایئرپورٹ پہنچے تو مجھ سے کہا کہ: ’’مجھے سو ریال اس شرط پر قرض دو کہ بعد میں واپس لوگے۔‘‘ جس شخص کے یہاں دنیا کی حیثیت ہو اس سے یہ سوال کیسے ہوگا کہ مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟
برصغیر میں خدمت حدیث کا سلسلہ جو حضرت شاہ ولی اللہ نور اللہ مرقدہٗ سے آپ کی اولاد و احفاد اور ان کے شاگردوں کے مساعی جلیلہ کی بدولت عام ہوا، اور آگے چل کر ان کے صحیح جانشین دارالعلوم دیوبند و مظاہر علوم سہارن پور کے ذریعہ اتنا عام ہوا کہ شہر شہر ہی نہیں بلکہ قریہ قریہ تک پہنچ گیا، آخری دور میں حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن قدس سرہٗ اور حضرت مولانا خلیل احمد سہارن پوری رحمہ اللہ، نیز ان حضرات کے فیض یافتگان نے تو بعض اعتبار سے ماضی بعید کے علماء کی یادیں تازہ کردیں، مثلاً: حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ، محدث العصر حضرت علامہ سید محمدیوسف بنوری رحمہ اللہ اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی نور اللہ مراقدہم کے رشحاتِ قلم و لسان نے پوری علمی دنیا کو اپنی گراں قدر خدماتِ حدیث سے حیرت زدہ کردیا۔ مولانا موصوف انہیں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی قدس سرہٗ کے شاگرد رشید ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے خدمت خواہ کسی نوعیت کی ہو‘ بڑے شرف و کمال اور عز و افتخار کی بات ہے، کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسے سعادت مند اور خوش نصیب افراد کے لیے خوش خبری ہے کہ:
’’نضر اللہ عبداً سمع مقالتی فحفظھا و وعاھا و أداھا۔‘‘
(مشکوۃ، ص: ۳۵، ط: قدیمی)
’’اللہ تبارک و تعالی ایسے شخص کو خوش و خرم اور تر و تازہ رکھے جس نے میری کسی بات کو سنا، اسے یاد کیا اور جوں کا توں اس کو دوسروں تک پہنچایا۔‘‘
اس حدیث میں احادیث پڑھنے پڑھانے اور احادیث کی خدمت کرنے والوں کی اہمیت اور فضیلت معلوم ہوتی ہے۔
حضرت مولانا محمد زید مظاہری ندوی جو حضرت مولانا محمد یونس جونپوری قدس سرہٗ کی کتاب ’’نوادر الحدیث‘‘ کے مرتب ہیں، اس کتاب کے عرضِ مرتب میں لکھتے ہیں:
’’استاذی و مخدومی شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یونس صاحب جونپوری دامت برکاتہم (شیخ الحدیث مظاہر علوم سہارنپور) اللہ تعالی کے ان خوش نصیب بندوں میں ہیں جن کی پوری زندگی اشتغال بالحدیث اور فن حدیث شریف کی خدمت میں گزری، آپ کے علمی تبحر اور فن حدیث سے حقیقی مناسبت اور گہری واقفیت پر کبار علماء و مشائخ اور اساتذۂ حدیث کو پورا اعتماد تھا، چنانچہ کسی حدیث کے متن یا سند اور راوی کے متعلق کوئی اشکال پیش آتا، یا کسی حدیث کی تحقیق پیش نظر ہوتی یا اصولِ حدیث کے کسی مسئلہ میں کوئی پیچیدگی سامنے آتی تو کبار علماء مفکر اسلام حضرت مولانا سیدابوالحسن علی ندوی صاحب، مولانا عبیداللہ صاحب مرکز نظام الدین، مولانا عمر صاحب پالن پوری، مولانا عبدالجبار صاحب اعظمی رحمہم اللہ جیسی اہم شخصیات بھی آپ کی طرف رجوع فرماتیں (جیسا کہ پیش نظر مکاتیب سے معلوم ہوتا ہے) آپ کے استاذ و شیخ حضرت مولانا محمدزکردیا صاحب رحمہ اللہ کو تو آپ کی فن حدیث شریف سے گہری مناسبت اور واقفیت کا اس درجہ اعتما دتھا کہ بکثرت روایات اور سند کی بابت تحقیق و جستجو کا امر فرماتے تھے اور خود آپ کے پاس فن حدیث کے سلسلہ کے جو خطوط آتے، انہیں حضرت شیخ مدظلہ کے حوالہ فرمادیتے تھے چنانچہ ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں:
’’یہ ناکارہ اپنی آنکھوں کی وجہ سے اب مراجعت کتب سے معذور ہے، اس لیے تمہارا خط اپنے یہاں مدرس مولانا محمدیونس صاحب کو جو میرے بعد سے بخاری پڑھا رہے ہیں، ان کو دے رہا ہوں کہ جواب لکھ کر بھیج دیں، آئندہ بھی حدیث پاک سے متعلق جو استفار ہو‘ وہ مولانا محمدیونس صاحب مدرس مظاہر علوم سہارنپور سے براہ راست پوچھ لیں۔‘‘ (محمد زکریا)
اللہ تعالی کا بڑا فضل و کرم اور اس کا احسان ہے کہ اس نوع کے علمی خطوط حضرت اقدس مدظلہ کی زیر نگرانی نقل بھی ہوتے تھے، بلکہ حضرت خود بھی نقل فرماتے تھے، تقریباً چالیس پچاس سال کے عرصہ میں اس نوع کے سوالوں کے جوابات کا بہت کافی ذخیرہ جمع ہوگیا تھا، جو متعدد کاپیوں اور مختلف فائلوں میں پھیلا ہوا تھا، اس علمی ذخیرہ کی اطلاع جن اصحاب علم و فن کو ہوتی گئی وہ اس کی طباعت اور منظر عام پر لانے کے شدت سے خواہش مند رہنے لگے۔‘‘
(نوادر الحدیث مع اللآلی المنثورۃ، ص: ۲۹، ۳۰)
جب اس کتاب کی طباعت اور اشاعت سے پہلے حضرت سے تقریظ کے طور پر چند کلمات لکھنے کے لیے عرض کیا گیا تو آپ نے غایت تواضع اور عاجزی سے صرف اتنا لکھا کہ:
’’یہ چند علمی خطوط کے جوابات ہیں، ان کے لکھنے میں نہ تحریرِ الفاظ پیش نظر ہے، نہ خوشنمائی مقصود ہے، نہ یہ خوشنمائی کا ذریعہ ہیں، اس لیے شائع کیے جارہے ہیں شاید طلبہ کو نفع ہوجائے۔ اگر اللہ تعالی قبول فرمالیں ان کا کرم ہے۔ علماء کرام سے گزارش ہے کہ اس کو دیکھیں۔ اگر کسی مقام پر سقم معلوم ہو مجھے اطلاع کردیں، تا کہ بعد وضوحِ حق اس کی اصلاح کی جاسکے۔‘‘
(نوادر الحدیث مع اللآلی المنثورۃ، ص: ۳۲)
اسی کتاب میں ’’فارغ ہونے والے طلبہ کے لیے حضرت اقدس شیخ مدظلہٗ کی چند نصیحتیں‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے:
بخدمت گرامی مرتبت حضرت مولانا محمدیونس صاحب۔۔۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
امید ہے کہ مزاج سامی بعافیت ہوں گے، بندہ رضوان محمد رافع ساکن آسٹریلیا متعلم دارالعلوم اسلامیہ عربیہ ماٹلی والا بھروچ گجرات اس سال دورہ حدیث کی تکمیل کرکے آئندہ مہینہ سند فراغت اور دستار فراغت پارہا ہے، الحمدللہ علی ذلک۔
بعدہٗ وطن کے لیے عازم ہے، لہذا آنحضرت مدظلہٗ سے عرض ہے کہ مجھے ادعیہٗ صالحہ اور نصائح غالیہ سے نوازیں، شکریہ
والسلام مع الاحترام

عزیز سلمہ۔۔۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
عزیز من! آپ نے دین کا علم پڑھا ہے، اس لیے آپ اپنے لیے اسی کو منتخب کریں، اسی کے تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کریں، چند باتیں لکھتا ہوں جو اپنے اور اپنے دوستوں کے لیے پسند کرتا ہوں:
۱: تصحیح نیت اور اخلاص کا اہتمام
۲: اتباع سنت پر مداومت
۳: معاصی سے کلی اجتناب اور مواقع معاصی سے حتی الوسع دوری
۴: تعلیم دین سے اشتغال اور اشاعت دین کی مکمل فکر
۵: تبلیغ سے حتی الوسع ربط
۶: تزکیہ و اصلاح کی غرض سے اہل اللہ سے تعلق اور ان کی ہدایات پر عمل
۷: اصلاح فیما بین المسلمین کا اہتمام اور منازعت سے کلی گریز
۸: قدرے نوافل کا اہتمام
۹: اپنے اندر اللہ پاک کی محبت پیدا کرنے کی فکر
محمد یونس مظاہر علوم سہارنپور۔۔۔ ۱۲؍۷؍۱۴۱۱ھ
(نوادرالحدیث مع اللآلی المنثورۃ، ص: ۱۹۵۔۱۹۶)

ایک اور اہم نصیحت: تعلیم و تدریس کے ساتھ حسب استطاعت تبلیغ میں بھی حصہ لینا چاہیے
عزیزم سلمہ۔۔۔۔۔۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
دین سیکھنا اور اس پر عمل کرنا اور دوسروں کو سکھانا سبھی ضروری ہے، تدریس و تعلیم میں بھی مشغول رہنا چاہیے اور حسب استطاعت تبلیغ میں بھی حصہ لینا چاہیے، حدیث پاک میں ہے: ’’ان اللہ تعالی لم یبعثنی معنتا و لا متعنتا و لکن بعثنی معلما میسرا‘‘۔ رواہ احمد (۳؍۳۲۸) و مسلم (۱؍۴۸۰) عن جابر رضی اللہ عنہ، مسند دارمی سنن ابن ماجہ، ص: ۲۱ میں عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ’’انما بعثنی معلما‘‘ ہے، دیکھو: (مشکوۃ، ص: ۳۶) مسند احمد میں ۴؍۱۰۱ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: ’’انما أنا مبلغ و اللہ یھدی‘‘۔ مسلم: ۱؍۴۸۲، ترمذی: ۴؍۲۰۵ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے: ’’ان اللہ أرسلنی مبلغا و لم یرسلنی متعنتا‘‘ ہے، یہ مسلم کے الفاظ ہیں، ترمذی کے الفاظ: ’’انما بعثنی اللہ مبلغا و لم یبعثنی متعنتا‘‘ ہیں، و فی اسنادی انقطاع۔‘‘
العبد محمد یونس عفا اللہ عنہ (شیخ الحدیث جامعہ مظاہر علوم سہارنپور)

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی قدس سرہٗ نے اپنے اس ہونہار طالب علم کو (جب کہ وہ حدیث کا سبق پڑھانا شروع ہوئے تھے) دعا دیتے ہوئے ایک پرچہ پر لکھا:
’’ابھی کمسن ہیں وہ کیا عشق کی باتیں جانیں
عرض حالِ دلِ بے تاب کو شکوہ سمجھے
ابھی تدریس دورہ کا پہلا سال ہے اور اس یہ کار تو تدریس دورہ کا اکتالیسواں سال ہے اور تدریس حدیث کا سینتالیسواں سال ہے۔ اللہ تعالی تمہاری عمر میں برکت دے اور مبارک مشغلوں میں تا دیر رکھے، جب سینتالیس پر پہنچ جاؤگے تو ان شاء اللہ! مجھ سے آگے ہوگے۔ فقط (اس پرچے کو نہایت احتیاط سے کسی کتاب میں رکھیں اور چالیس سال بعد پڑھیں)۔
زکریا
۲۷؍رجب ۱۳۸۷ھُُ
شاگرد نے بھی تعمیل حکم میں اس پرچے کو سنبھال کر رکھا اور اب اس کو ظاہر کیا، یہ ہوتی ہے شاگرد کی استاذ سے محبت۔
مولانا ابن الحسن عباسی صاحب لکھتے ہیں: جب دارالتصنیف میں میرا تقرر ہوا تو شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب نوراللہ مرقدہٗ اپنے گھر کے مہمان خانے میں دارالتصنیف کی طرف میرے ساتھ ریگ میں پڑی کا پیاں منتقل کرنے لگے، معلوم ہوا کہ یہ حضرت مولانا یونس صاحب مظاہری کے درس بخاری کی تقریر ہے جو کیسٹوں میں تھی اور حضرت شیخ نے اپنی نگرانی میں اسے کاپیوں میں منتقل کیا۔ دوسری تقریر حضرت شیخ کی اپنی تھی، وہ فائلوں میں کیسٹوں سے منتقل کی گئی تھی۔ انہیں دونوں تقریروں کو بنیاد بنا کر ’’کشف الباری، کتاب المغازی‘‘ کا آغاز کیا گیا۔ دورانِ مراجعت اندازہ ہوا کہ حضرت مولانا یونس صاحب انتہائی کثیر المطالعہ محدث ہیں، بعض اوقات وہ عام مراجع سے ہٹ کر کوئی بات کہہ دیتے، وہ نہ ملتی تو میں کبھی کبھار اسے چھوڑ دیتا، لیکن بعد میں وہ قول کہیں نہ کہیں مل جاتا، اس لیے پھر معمول یہ رہا کہ حضرت مولانا محمدیونس رحمہ اللہ کا قول اگر کہیں نہیں ملتا تو انہی کے حوالے سے نقل کرکے لکھ دیتا: ’’ما وجدت فی ما بین یدی من المصادر۔‘‘ وہ شبلی نعمانی کی ’’سیرۃ النبی‘‘ کے مداح تھے، فرماتے تھے: بعض تفردات کے باوجود واقعاتِ سیرت کی جو منظر کشی اس میں کی گئی ہے‘ وہ بے مثال ہے۔ مولانا یونس صاحب رحمہ اللہ کے علمی مقام کا عالم یہ ہے کہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ نے ’’الأبواب و التراجم‘‘ میں کئی جگہ ان کا نام لے کر ان کے رائے نقل کی ہے۔ یہ بر صغیر کے جلیل القدر شیخ الحدیث کا اپنے شاگرد کے لیے خراج عقیدت ہے اور اس سے بہتر ہدیۂ محبت کیا ہوسکتا ہے۔‘‘
آپ کے خودنوشت حالات سے چند اقتباس کسی قدر حک و اضافہ کے بعد نقل کیے جاتے ہیں:
آپ کی ولادت: ۲۵؍ رجب ۱۳۵۵ھ مطابق ۲؍اکتوبر ۱۹۳۷ء کو ہوئی، پانچ سال دس ماہ میں تعلیم شروع ہوئی، کچھ دنوں ایک اسکول میں بھی گئے، وہاں کچھ درجات پڑھے، اسی دوران ایک واقعہ پیش آیا کہ آپ ہندی کی کتاب پڑھ رہے تھے، اس میں لکھا ہوا تھا کہ: ’’طوطا رام رام کرتا ہے‘‘ والد صاحب نے جب یہ سنا تو فرمایا: ’’کتاب رکھ دو، بہت پڑھ لیا۔‘‘
ابتدائی اور وسطانی درجات کی کتب پڑھ لینے کے بعد شوال ۱۳۷۷ھ میں مدرسہ مظاہر علوم میں بھیج دیا گیا، یہاں آکر پہلے سال جلالین، ہدایہ اولین، میبذی اور اگلے سال بیضاوی، سلّم، ہدایہ ثالث، مشکوۃ شریف اور تیسرے سال یعنی شوال ۱۳۷۹ھ تا شعبان ۱۳۸۰ھ دورۂ حدیث شریف کی تکمیل کی، اور اس سے اگلے سال کچھ مزید کتابیں ہدایہ رابع، صدرا، شمس بازغہ، اقلیدس، خلاصۃ الحساب، در مختار پڑھیں۔
شوال ۱۳۸۱ھ میں معین المدرس کے عہدہ پر تقرر ہوا، شرح وقایہ اور قطبی زیر تعلیم و تدریس تھیں، اگلے سال بھی یہی کتابیں رہیں اور اس سے اگلے سال مقامات و قطبی سپرد ہوئیں، اور اس سے اگلے سال یعنی چوتھے سال شوال ۱۳۸۴ھ سے ہدایہ اولین، قطبی و اصول الشاشی زیر تدریس تھیں۔
اسی سال ذوالحجہ ۱۳۸۴ھ میں حضرت استاذی مولانا امیراحمد صاحب نوراللہ مرقدہٗ کا انتقال ہوجانے کی وجہ سے مشکوۃ شریف استاذی مفتی مظفرحسین صاحب کے یہاں سے منتقل ہوکر آئی، جو بات الکبائر سے پڑھائی، پھر آئندہ سال شوال ۸۵ھ میں مختصر المعانی، قطبی، شرح وقایہ، مشکوۃ شریف مکمل پڑھائی، اور شوال ۸۶ھ میں ابوداؤد شریف، نسائی شریف اور نور الانوار زیر تعلیم رہیں، اور شوال ۸۷ھ سے مسلم شریف، نسائی، ابن ماجہ اور موطئین زیر درس رہیں۔
اس کے بعد شوال ۱۳۸۸ھ میں بخاری شریف و مسلم شریف و ہدایہ ثالث پڑھائی، وللہ الحمد حمداً کثیراً طیباً مبارکاً فیہ و مبارکاً علیہ، اس کے بعد سے بحمد اللہ سبحانہ و تعالی بخاری شریف اور کوئی دوسری کتاب ہوتی رہتی ہے۔
(حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی نور اللہ مرقدہ اور ان کے خلفائے کرام، الجزء الثانی، ص: ۱۲۰ و ما بعدہ)
انتقال پر ملال: ۱۶؍ شوال ۱۴۳۸ھ مطابق ۱۱؍ جولائی ۲۰۱۷ء بعد نمازِ فجر طبیعت میں اچانک بہت سستی پیدا ہوئی، ارباب مدرسہ‘ سہارنپور کے مشہور اسپتال میڈی گرام لے کر گئے اور ساڑھے نو بجے کے قریب ڈاکٹروں نے انتقال کی تصدیق کردی۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں