آج : 27 March , 2017

دس دن یادوں کی پاک سرزمین میں (چوتھی/آخری قسط )

دس دن یادوں کی پاک سرزمین میں (چوتھی/آخری قسط )

روشنیوں کے شہر کی گلی کوچوں میں
تین دنوں تک فضلائے جامعة الرشید کے سالانہ اجتماع میں شرکت کے بعد ہمیں شہر کراچی کے بعض دیگر مقامات میں گھومنے پھرنے اور بعض اساتذہ سمیت مختلف طبقات کے لوگوں سے ملاقات کا موقع ملا۔ فضلا کے اجتماع کی اختتامی نشست میں فیڈبیک فارمز تقسیم ہوئے اور فضلائے کرام نے اس عظیم الشان اور کامیاب اجتماع کے حوالے سے اپنے اپنے تاثرات اساتذہ اور جامعہ کے منتظمین تک پہنچادیا۔ جامعہ کے معزز منتظمین شرکائے اجتماع کے فیڈبیکس کو کافی اہمیت دیتے تھے، یہاں تک مولانا مفتی محمد صاحب آخری نشست میں سٹیج پر بیٹھ کر ہمارا انتظار کرتے رہے اور فیڈبیک فارم سمیت تعارفی فارم کے پر ہونے تک وہیں بیٹھے رہے۔

مادرِ علمی جامعہ دارالعلوم کراچی کے آغوش میں
اجتماع کے اختتام کے بعد سب سے پہلے ہم نے طے کیا مادرِ علمی جامعہ دارالعلوم کراچی اور وہاں اپنے انتہائی مشفق اور مہرباں اساتذہ سے ملیں۔ اتوار کا دن تھا اور ہمیں امید تھی استاذ محترم حضرت شیخ الاسلام مولانا مفتی محمدتقی عثمانی دامت برکاتہم کی ہفتہ وار مجلس میں حاضری اور استفادے کی سعادت بھی نصیب ہوگی۔ ٹیکسی شارع فیصل سے براستہ شاہ فیصل کالونی دارالعلوم کی طرف چل رہی تھی اور ہمارے ذہنوں میں جامعہ فاروقیہ اور دارالعلوم کے درمیان کا راستہ دسیوں خوبصورت یادوں کو یاد دلارہا تھاجو زمانہ طالب علمی میں یہاں سے گزر کر ہم اپنے دوستوں سے ملنے جایا کرتے تھے۔ البتہ اب پرسکون راستہ کافی آرام دہ بھی بن چکا تھا اور ندی کے دو سمتوں کو ایک شاندار پل ملارہا تھا۔
جامعہ پہنچنے سے پہلے ہم یہ سوچ رہے تھے کہ پتہ نہیں کیسے اندر جانے دیا جائے گا اور کب تک جامہ تلاشی ہوگی و۔۔۔ مگر ہماری ’توقع‘ کے خلاف ایسا کچھ نہیں ہوا اور مین گیٹ پر کھڑے چوکیداروں نے ہمیں حیرت میں ڈال کر بلاپوچھ گچھ جامعہ کی حدود میں جانے دیا۔
مادرِ علمی میںقدم رکھتے ہی یوں لگا ہمیں کئی برسوں کے بعد ماں کی گود مل رہی ہے۔ سکون ایسا ملا کہ حرم مکی کے سایے میں۔۔۔ یہاں ہر سو اپنائیت تھی۔ دارالعلوم کی سڑکیں، درخت، خوبصورت باغیچے، عمارتیں اور درسگاہیں ہم سے باتیں کرتیں، ہمیں پرانی یادیں یاد دلاتیں اور ان خوبصورت یادوں کو تروتازہ کرتیں۔ جو خوشی اور مسرت کا احساس ہمیں دارالعلوم میں ملا وہ لفظوں میں بیان نہیں ہوسکتا۔
کچھ جانے پہچانے طلبہ کے تعاون سے ہم نے ایک دن گزارنے کی رخصت ناظم دارالاقامہ سے حاصل کی۔ مغرب اور عشا کی نمازوں کے بعد مسجد ہی میں حضرات استاذہ کرام مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی، مولانا عزیزالرحمن، مولانا افتخاراحمد، مولانا راحت علی ہاشمی اور مولانا محمدیونس دامت برکاتہم سے ملاقات ہوئی۔
مولانا عزیزالرحمن صاحب نے کافی شفقت کا معاملہ فرمایا اور دیر تک مسجد کے صحن میں استفادے کا موقع دیا۔ انہوں نے جامعہ دارالعلوم زاہدان سے چھپنے والے عربی ماہنامہ ’الصحوة الاسلامیة‘ اور اس کے بعض لکھاریوں کے بارے میں پوچھا جو دارالعلوم کراچی ہی کے فضلا ہیں۔ حضرت استاذ جی بتاتے ہیں ان کے آباواجداد کا تعلق بنیادی طورپر ایران کے شہر ہمدان سے ہے جو صفوی یلغار کے بعداپنا دین بچانے کی خاطر ہجرت پر مجبور ہوئے۔ انہیں فارسی زبان سے بھی گہری مناسبت ہے اور اسی لیے ہماری گفتگو ان سے قدرے طویل اور دوستانہ رہی۔ یہاں ایک ایسے طالب علم سے بھی ملاقات ہوئی جو ہمارے فارسی رسالہ ’ندائے اسلام‘ کے پرستار تھے اور اپنے فارسی دان ساتھیوں کی مدد سے بعض مضامین بھی پڑھ چکے تھے۔ احقر کو وہ نام سے پہچانتے تھے اور اس کی وجہ بندے کے بعض مضامین تھے جو ندائے اسلام میں چھپ چکے ہیں۔
رات کا کھانا ہم نے جامعہ کے مطعم میں کھایا جو ہمارے دور میں زیرتعمیر تھا اور اب اس کا افتتاح ہوچکا تھا۔ سابقہ مطبخ بعض پرانے کمروں سمیت مدرسة البنات میں ضم ہوچکے تھے۔ جامعہ کے مطعم میں اطعام کا بہت شاندار اور منظم انتظام تھا۔ طلبہ کرسیوں پر بیٹھ کر سکون سے کھانا تناول کرتے اور ہاتھ دھونے اور پانی پینے کا مناسب انتظام تھا۔ یہاں تو ہر ضرورت کا مناسب انتظام ہوتا ہے اور اساتذہ وطلبہ کو کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ حضرت رئیس الجامعہ ہر سال کے آغاز میں اس بات کی تصریح فرماتے ہیں اور ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ مرنے کی صورت میں قبرستان بھی میسر ہے!
مادرِ علمی میں ہم ہر کسی کو غور سے دیکھتے؛ چوکیدار بھائیوں سے لے کر طلبہ و اساتذہ اور کینٹین کے ویٹرز تک۔ غرض یہ تھا کہ ہمارے دور کا کوئی بندہ مل جائے۔ حسبِ توقع کچھ ایسے حضرات بھی ملے۔ ان میں سے ایک مرکزی درسگاہ کی عمارت کے چوکیدار تھے جو بلوچی سپیکنگ ہیں اور دیگر جاننے والوں کی طرح راقم کو بھی شکل سے پہچانتے اور انہیں صرف میرا چہرہ یاد تھا۔ پیر کے دن ہم نے جامعہ کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا۔ دارالافتا بھی گئے اور بعض اساتذہ کرام سے ملاقاتیں ہوئیں۔ مولانا مفتی عبدالرﺅف سکھروی صاحب نے اپنے دفتر میں اپنی کچھ بیش بہا کتابوں کا تحفہ دے کر ذرہ نوازی کا مظاہرہ فرمایا۔ نیز انہوں نے مختصر الفاظ میں نصیحت فرمائی کہ دینی خدمت کرتے ہوئے نیت ٹھیک کرلیں اور اخلاص سے کام کریں۔ دوسرا یہ کہ توکل سے کام لیں اور زندگی میں استغنا اختیار کریں، رئیس اور مالدار لوگوں کی جیبوں پر نظر نہ رکھیں؛ ان شاءاللہ غیب سے مدد ملے گی اور روزی میں برکت آئے گی۔ دارالافتاءہی میں استاذ محترم مولانا عصمت اللہ اور مولانا محمدیعقوب صاحب سے ملاقات ہوئی جنہیں میری شکل یاد تھی اور نام تو میں خود بھی بھول جاتاہوں!
جانے سے پہلے ہم نے دارالعلوم کے قبرستان کی زیارت بھی کی جو عیدگاہ کے قریب واقع ہے۔ یہاں بعض اساتذہ و طلبہ اور ان کے متعلقین آرام کررہے تھے۔ معروف مبلغ اور نظم خواں جنید جمشید کا ابدی گھر بھی اسی قبرستان میں ہے جس پر کچھ بامعنی اور فکرانگیز اشعار آویزاں تھے۔ ایک باذوق خاتون نے ان ہی کے پڑھے ہوئے ایک قصیدے میں قدرے تبدیلی لاکر مرحوم جنید جمشید کا نام شامل کیا تھا جس کا پہلا بیت غالبا کچھ اس طرح تھا:
الہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہے
جنید سراپا فقرہے عجزو ندامت ساتھ لایاہے

صدر بازار
جامعہ دارالعلوم کراچی اور وہاں کے ساتھی طالب علموں سے وداع کے بعد ہم نے مشرق کوچ کا انتظار کیا جس پر سوار ہوکر ہم کئی سالوں تک صدر بازارکراچی اور مکی مسجد کا رخ کیا کرتے تھے؛ البتہ اول الذکر کا رخ کرنا زیادہ ہوتا! کوچ آتی مگر بیٹھنے بلکہ کھڑے ہونے کی جگہ بھی اس میں نہ ملتی۔ مجبور ہوکر ہم نے رکشہ لیا اور بازار کی طرف چل پڑے۔ اس روٹ کی عمارتیں ہمارے لیےاجنبی نہ تھیں۔ صدر بازار میں سب سے زیادہ جانی پہچانی جگہ ہمارے لیے صالح مسجد تھی جو بالکل ایک بڑے چرچ کے سامنے واقع ہے۔ اس بازار کی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں مختلف مسالک اور مذاہب کی عبادتگاہیں موجود ہیں؛ مسلمانوں کے مختلف فرقوں سے لے کر پارسیوں اور حتی کہ قادیانیوںکو جائے عبادت میسر ہے۔

چھوٹا پاکستان
یہ ہمارا اندرونِ شہر پہلا دورہ تھا۔ کراچی کوئی عام شہر نہیں؛ اسے چھوٹا پاکستان کہتے ہیں جو اس ملک کا سب سے بڑا شہر بلکہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ یہ صوبہ سندھ کا دارالحکومت ہے مگر موسم کے لحاظ سے اندرونِ سندھ سے کافی مختلف موسم رکھتاہے جو بہت ہی زیادہ خوشگوار اور قابل برداشت ہے۔ پاکستان میں تجارت و معیشت کا پہیہ چلتاہے تو اس کا سہرا کراچی کی بندرگاہوں کے سر جاتاہے۔ اس شہر میں معروف تجاری اور تعلیمی اداروں کے علاوہ بڑے بڑے اسپتال اور تفریحی مقامات بھی موجود ہیں۔ راقم نے چیک اپ کے لیے ایک ممتاز کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر سے معائنہ کرایا۔ موصوف ایشیا کے تین ماہرترین کارڈیالوجسٹ ڈاکٹرز میں ایک ہیں جو ایک شاندار پرائیویٹ اسپتال میں مصروفِ خدمت ہیں۔ جس منزل میں ان کا کلینک واقع ہے، وہاں پنچ وقتہ نمازیں جماعت کے ساتھ ادا ہوتی ہیں اور ایک امام صاحب امامت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ خود ڈاکٹر عبدالصمد صاحب جو کسی ڈاکٹر سے زیادہ کسی سرکاری مسجد کے امام لگ رہے تھے، اسی امام کے پیچھے نمازیں ادا کرتے تھے۔

اردو بازار میں
کراچی کی پرانی جگہوں میں ایک ’اردو بازار‘ ہے جو دراصل کتابوں کے کاروبارکی وجہ سے مشہور ہوا تھا۔ لیکن اب کچھ دیگر چیزوں کے کاروبار کی وجہ سے بھی مشہور ہواہے۔ یہاں ہم نے تفصیلی چکر لگایا۔ گلی کوچوں میں گھوم کر یوں محسوس ہوا کہ دین کی طرف رغبت بڑھنے کا رجحان باقی ہے۔ باپردہ خواتین اکثریت میں تھیں اور امن و سکون کا احساس واضح طورپر نظر آتا۔ ٹریفک جام کا مسئلہ کافی حد تک کم ہوچکا تھا اور گاڑیاں رواں دواں تھیں۔ ٹرانسپورٹ کی خستہ حالی اپنی جگہ قائم تھی؛ صرف کرایوں میں اضافہ ہوگیا تھا۔

کیماڑی؛ نو گو ایریا!


ایک دن ساتھیوں کی مشورت سے ہم نے کیماڑی جزیرے کا رخ کیا۔ چھوٹی، پرانی اور خستہ حال بوٹ دیر تک ہمیں انتظار میں رکھنے کے بعد منزل کی طرف نکلی۔ جزیرے میں داخلے کے لیے فیس لی گئی۔ لیکن ساحل سمندر سے قبل پاکستان نیوی کے ایک چیک پوسٹ پر ہمیں روکا گیا۔ ایک صاحب نے شناختی کارڈ دکھانے کا کہا تو ہم نے پاسپورٹ دکھایا۔ اہلکار نے پاسپورٹ اپنے قبضے میں لیا اور ہمیں ایک سائیڈ کھڑے ہونے کا کہا۔ پھر ہمیں سامنے ایک سایے تلے بیٹھنے کی مشورت دی گئی اور ساتھ ہی ساتھ ایک اہلکار نے خبر دی کہ ہمارے انٹیلی جنس کا ایک اہلکار ’مختصر سوال جواب‘ کے بعد ہمیں واپس بھیج دے گا! انہوں نے یہ بھی ’نوید‘ دی کہ ہمیں تنگ نہیں کیاجائے گا۔ جاتے ہوئے اس صاحب نے خبر دی حالات خراب ہیں اور کراچی کے امن خراب کرنے میں بھارت، افغانستان اور ایران ملوث ہیں! ان کی بات سے ہمیں کوئی حیرت نہ ہوئی۔ تھوڑی دیر میں آیا وہ جس کا انتظار تھا۔۔۔ مگر وہ بہت ہی سادہ کپڑوں میں ملبوس تھے۔ یہاں تک کہ شروع میں ہمیں اندازہ نہ تھا یہ نیوی انٹیلی جنس کے اہلکار ہیں۔ انہوں نے کھڑے کھڑے نام، والد کا نام اور فون نمبر پوچھا اور ہم نے بیٹھے بیٹھے ان کا جواب دیا۔ پھر انہوں نے معذرت کی کہ ہم کچھ منٹس ان کے انتظار میں رہے اور وہ کسی بیمار کو ایمبولینس فراہم کرنے کے سلسلے میں مصروف تھے۔ ان کا انداز بہت ہی دوستانہ تھا یہاں تک کہ ہم نے مذاق میں کہا: ہم آپ کے مہمان ہیں اور تمہیں غیرملکی شہریوں کو تفریحی مقامات کے سیر سے نہیں روکنا چاہیے۔ انہوں نے جواب میں کہا یہ ممنوعہ علاقہ ہے اور یہاں غیرملکیوں کو آنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کراچی کے بعض معروف تفریحی مقامات کا نام لیا اور وہاں جانے کی مشورت دی۔ انہیں ہماری اردو سے بھی حیرت ہوئی جو ہم نے برطرف کردی۔ انہیں بتایا گیا ہمارے علاقے کے لوگ پاکستان آتے جاتے ہیں اور ان کا اردو بولنا اور سمجھنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے۔کیماڑی سے واپس جاتے ہوئے ہم اس انٹیلی جنس اہلکار کی خوش اخلاقی پر انہیں داد دیتے رہے اور وہ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر ہمیں مانیٹرنگ کرتے رہے، یہاں تک کہ انہیں یقین ہوا یہ تین افراد جزیرے سے نکل گئے۔
کلفٹن سی ویو میں خوشگوار موسم سے لطف اندوز ہونے کے بعد ہم نے جامعة العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاون کا رخ کیا۔ رات وہیں گزاری اور صبح واپس جامعة الرشید چلے گئے۔ جانے سے قبل مولانا شبیراحمد عثمانی اور ان کے ساتھ ابدی گھر میں آرام کرنے والے مرحومین کی قبروں پر حاضری دی اور فاتحہ پڑھا۔

کراچی ٹو کوئٹہ
کراچی میں ہمارا قیام جمعرات سولہ فروری کو اختتام پذیر ہوا۔ کوئٹہ جاتے ہوئے ہمیں معلوم ہوا سندھ ہی میں ایک خوفناک دھماکہ ہوا ہے جس میں متعدد شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔ ایک بار پھر خوف کی فضا قائم ہوچکی تھی اور یوں لگتا کہ دھماکوں کا ایک نیاسلسلہ شروع ہوا ہے۔ کوئٹہ کراچی شاہراہ پر متعدد ایف سی چیک پوسٹس قائم تھے اور ہر ایک یا دو گھنٹے کے بعد بسوں کو روک کر شناختی کارڈ دکھانے کا حکم دیا جاتا۔ اس سے کافی دقت ہوتی۔ جب ہم پاسپورٹ دکھاتے تو اکثر اہلکاروں کو ویزا کی تفصیلات پڑھنے میں دقت ہوتی۔۔۔ تعلیم کی کمزوری کی وجہ سے! ایک دفعہ تو ہمیں بس سے اتارا گیا اور ایک نااہل اہلکار نے ہمیں اپنے پیچھے دوڑایا اور اپنے ’بڑے‘ سے کہا یہ غیرملکی ہیں! انہوں نے بھی پاسپورٹ چیک کرکے کہا: کیا کروں؟ پاسپورٹ تو ان کے پاس ہے! سکیورٹی اتنی سخت تھی کہ کوئٹہ کے بائی پاس سے شہر کے رہائشی علاقوں تک ہمیں پانچ چھ جانچ پڑتالی پوسٹوں سے گزرنا پڑا۔
کوئٹہ کا موسم انتہائی خوشگوار اور قدرے ٹھنڈا تھا۔ چھ سو کلومیٹر کے سفر کے بعد تھکن کا احساس ہوتاہی ہے۔ لیکن شہر کی خوبصورتیوں کو دیکھ کر ایک دم پرانی یادیں تازہ ہوگئیں اور تھکاوٹ کا احساس ہی نہ رہا۔ کوئٹہ ہمارے لیے بہت ہی معزز ہے۔ یوں محسوس ہوتا کہ ہمیں کوئٹہ سے پیار ہے اور کوئٹہ کو ہم سے!
ایک انتہائی محترم دوست اور ہم جماعت ساتھی کے گھر میں ناشتہ کے بعد ہم بازار کی طرف چل پڑے۔ جمعے کا دن تھا۔ کوئٹہ کا بازار جمعے کو تقریبا بند ہوتاہے۔ پھر بھی تحفے تحائف خریدنے کے لیے چیزوں کی کوئی کمی نہ تھی۔ کمی تھی تو پیسے اور وقت کی!
جلد ہی بازار سے فراغت و رخصت لے کر ہم اپنے دوست کے گھر پہنچے۔ تفتان کا ٹکٹ جیب میں تھا اور تفتان کی بسیں بھی نامعلوم وجوہ کے بناپر جلد ہی شہر سے نکلنا چاہتی تھیں۔ چنانچہ ہم نے ایمرجنسی میں کھانا کھایا اور چند منٹ تاخیر کے ساتھ بس اڈہ پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

ایران کی چوکھٹ پر
رات تین بجے کوئٹہ تفتان کا سفر اپنے اختتام کو پہنچا۔ صبح کے انتظار میں ہم نے ایک جاننے والے کی بیٹھک میں آرام کو ترجیح دی جو رات کے اس پہر میں بھی کھلی تھی۔ صبح انتہائی سکون و خیریت کے ساتھ ہم نے بارڈر پار کیا۔ سخت طوفان کی وجہ سےلوگ سخت تکلیف میں تھے۔ بارڈر سے قدرے دور ہوکر ایک خوبصورت بارش نے ہمارا استقبال کیا۔ زاہدان کی جامع مسجد مکی میں ہر صغیر و کبیر ظہر کی نماز کے لیے آرہا تھا کہ ہم بخیر و عافیت گھر پہنچے۔ الحمدللہ رب العالمین

پہلی، دوسری اور تیسری قسط پڑھنے کے لیے کلک کریں

 

* فاضل جامعہ دارالعلوم کراچی، یکے از خادمان دارالعلوم زاہدان – ایران اور سنی آن لائن ویب سائٹ کے سب ایڈیٹر

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں