آج : 1 November , 2016

تعلیم کی ضرورت و اِفادیت

تعلیم کی ضرورت و اِفادیت

تعلیم کی اہمیت اور اِفادیت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔ تقسیم ہند سے پہلے مسلمان تعلیم میں بہت پیچھے تھے، ہندو ہمیشہ سے تعلیم پر زیادہ توجہ دیتے رہے ہیں۔
تقسیم کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے ہماری اس کمزوری کو نظرانداز نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا۔ ’’تعلیم کا مطلب صرف نصابی تعلیم نہیں ہے، ہمیں اپنی آئندہ نسل کے کردار اور اخلاق کی تربیت کرنا ہے جس میں غیرت، اخلاق کی بلندی، ایمانداری اور ذاتی مفادات سے مُبرّا قومی خدمات ذمّہ داری سے انجام دینا بھی ہے‘‘۔ آپؒ نے ایک اور موقع پر فرمایا: اس وقت فوری ضرورت ہے کہ ہم اپنے عوام کی سائنٹیفک اور ٹیکنیکل میدان میں اچھی ٹریننگ (تربیت) کریں تاکہ ہم اپنے ملک کی معاشی حالت کو ٹھوس بنیاد پر قائم کرسکیں۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہمیں دنیا سے مقابلہ کرنا ہے جو کہ اس میدان میں بہت تیزی سے ترقی کرتی جارہی ہے۔
ہمارے پیارے رسول ؐ نے تقریباً چودہ سو سال پہلے تعلیم و علم کی اہمیت کو جان کر فرمایا تھا کہ اگر علم حاصل کرنے کے لئے تمہیں چین (دور دراز ترین ملک اس زمانے میں) بھی جانا پڑے تو جائو۔ ہمارے اپنے ایس ایس جی کے سابق کمانڈر جنرل حکیم ارشد قریشی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ وہ قوم جو اپنے دانشوروں کی قدر نہیں کرتی اس کو مستقبل میں پھر کوئی دانشور نہیں ملتے اور تاریخ اس کی گواہ ہے کہ ایسی قومیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تباہ و برباد ہوجاتی ہیں۔ تباہی غلامی، مقروض، جاہل وغیرہ بھی کہلاتی ہے۔
مشہور برطانوی؍امریکن ریاضی دان اور فلسفی پروفیسر ڈاکٹر الفریڈ نارتھ وائٹ ہیڈ نے نہایت اعلیٰ نصیحت کی تھی۔ موجودہ جدید دور میں قانون پکّا ہے کہ جو قوم اپنے دانشوروں کی قدر نہیں کرتی وہ ذلیل و خوار ہوتی ہے۔ ان کی بہادری، سوشل جاذبیت، تمام بذلہ سنجی، زمینی اور سمندری فتوحات اس کی قسمت نہیں بدل سکتی ہیں۔ آج وہ اپنا گزارہ کرلیتی ہے لیکن کل یعنی مستقبل میں سائنس آگے بڑھ جائے گی اور جاہلوں اور غیرتعلیمیافتہ لوگوں کی کوئی سنوائی نہیں ہوگی۔
انگریز فلسفی تھامس ہکسلے کا کہنا ہے کہ شاید تعلیم کا سب سے قیمتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آپ اس قابل ہوجاتے ہیں کہ اگر آپ کچھ کرنا چاہیں تو وہ کرسکتے ہیں خواہ آپ چاہیں یا نہ چاہیں۔ اور ابتدائی تعلیم نہایت اہم و ضروری ہے جو جسقدر جلد شروع کی جائے اتنا ہی بہتر ہے کیونکہ غالباً یہ وہ سبق ہوتا ہے جو انسان اچھی طرح سیکھتا ہے اور یہی آخری سبق ہوتا ہے۔
مشہور سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر البرٹ آئن اسٹائن نے خوبصورت الفاظ میں کتنی پیاری بات کہی ہے۔ ایک عقلمند جاہل چیزوں کو بڑی کرسکتا ہے زیادہ پیچیدہ اور مشکل بنا سکتا ہے اور زیادہ جارحانہ رنگ دے سکتا ہے۔ لیکن ایک نہایت عقلمند اور دانشور اورہمّت والا چاہئے کہ انسان مخالف (یعنی صحیح) سمت میں جاسکے۔پروفیسر البرٹ آئن اِسٹائن نے مزید کہا ہے کہ خواہ انسان کتنا ہی تجربہ کار ہو اور درمیانی یا دوسرے درجہ کی عقل و فہم کا مالک ہو تو وہ ایک دانشور، ذہین نہیں بن سکتا۔ ایک اور مغربی فلسفی پیٹر بروہم نے بتلایا ہے کہ تعلیم انسان کو رہنمائی کرنے والا (لیڈر) بناتی ہے اور اس کو کوئی ہانک نہیں سکتا۔ اس کو بہ آسانی قانون کی پاسبانی سکھاتی ہے لیکن غلامی سے محفوظ رکھتی ہے۔ ایک اور مغربی دانشور جان لو کے نے کہا ہے کہ تعلیم (علم حاصل کرنا) ایک ایسا عمل ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا یعنی انسان زندگی بھر کچھ نا کچھ سیکھتا رہتا ہے۔ ہمارے اپنے نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام نے کہا ہے کہ پانچ سو سال، ساتویں صدی سے بارھویں صدی تک مسلمان دنیا کی قوّت، انتظامی صلاحیت، طرز حکومت، اخلاقیات، رہائش کا اسٹینڈرڈ، علم و ادب، سائنس، ٹیکنالوجی، انصاف اور فلسفے میں رہنمائی کررہے تھے۔
حدیث نبویؐ ہے کہ وہ قومیں جو دہرا طرز زندگی اپناتی ہیں (یعنی کہنا کچھ اور کرنا کچھ) ان کو اللہ تعالیٰ تباہ و برباد کردیتا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ لاتعداد جاہلوں نے دانشوروں و عقلمندوں کو خوفزدہ کردیا ہے۔ آپؓ نے مزید فرمایا ہے کہ لاتعداد دانشوروں نے مذہب سے بیگانگی اختیار کرکے اپنا مستقبل تباہ کرلیا ہے اور ان کی سمجھ بوجھ اور علم ان کے کام نہیں آیا۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے پریذیڈنٹ نے نہایت ہی پیاری بات کہی کہ اگر لوگ سمجھتے ہیں (یا شکایت کرتے ہیں) کہ تعلیم مہنگی ہے تو وہ ذرا جہالت پر عمل کرکے دیکھیں۔ آپ نے مزید کہاکہ اگر کسی یونیورسٹی اور تعلیمی ادارے کو تباہ کرنا چاہتے ہو تو ذہین ترین اساتذہ بھرتی کرلو۔
لندن کے مشہور امپیریل کالج کے ریکٹر (اب یہ یونیورسٹی بن گیا ہے) نے نہایت اعلیٰ اور سمجھداری کی بات کہی ہے کہ کسی قوم کی ترقی اور دولت مندی اس قوم کے انجینئروں کی صلاحیت کی عکاس ہوتی ہے۔ ایک افریقی ضرب المثل ہے کہ اگر تم ایک مرد کو تعلیم دیتے ہو تو ایک فرد کو تعلیم دیتے ہو لیکن اگر تم ایک عورت کو تعلیم دیتے ہو تو تم ایک خاندان کو تعلیم دیتے ہو۔ مشہور فلسفی وِکٹر ہوگو نے کہا ہے کہ جو شخص ایک اسکول کھولتا ہے وہ ایک جیل خانہ بند کرتا ہے۔ امریکی صدر تھامس جیفرسن نے کیا خوب کہا تھا کہ اگر کوئی قوم جہالت میں رہے اور ترقی یافتہ دور میں آزاد رہے تو وہ وہ چاہتی ہے کہ جو نہ پہلے کبھی ہوا ہے اور نہ ہی آئندہ کبھی ہوگا۔ ایک اور امریکی صدر کیلون کُولِج نے کیا حقیقت مندانہ بات کہی ہے کہ پوری دنیا دانشمند لاوارثوں، کام چوروں سے بھری پڑی ہے۔
حدیث نبوی ؐ(اور کلام الٰہی) ہے کہ تعلیمیافتہ اور جاہل میںوہی فرق ہے جو ایک زندہ شخص اور ایک مردہ شخص میں ہوتا ہے۔مشہور چینی فلسفی کوان چُنگ نے کیاپیارا فلسفہ بیان کیا ہے کہ جب آپ ایک مرتبہ بیج بوتے ہیں تو صرف ایک ہی فصل کاٹتے ہو لیکن جب لوگوں کو علم کی تعلیم دیتے ہیں تو سینکڑوں فصلیں کاٹتے ہیں۔
آئیے اب کلام مجید میں حضرت سلیمان ؑ کا واقعہ دیکھتے ہیں کہ کس طرح ایک عالم کو اللہ تعالیٰ نے ایک طاقتور جن پر فوقیت دی تھی۔ حضرت سلیمان ؑ نے اپنے سرداروں سے کہا کون ملکہ سبا کا تخت یہاں لا سکتا ہے قبل اس کے کہ وہ یہاں پہونچیں۔ جنوں کے ایک سردار نے کہا کہ قبل اس کے کہ آپ مجلس کا اختتام کریں میں وہ تخت آپ کی خدمت میں پیش کرونگا کیونکہ مجھ میں یہ قوّت بھی ہے اور آپ مجھ پر بھروسہ بھی کرسکتے ہیں۔ ایک عالم دین نے کہا کہ آپ کی آنکھ جھپکنے نہ پائے گی کہ میں اس کو آپ کی خدمت میں پیش کردونگا اور اُسی وقت وہ تخت حضرت سلیمانؑ کے سامنے موجود تھا۔ یہ واقعہ سورہ نمل میں تفصیل سے موجود ہے۔کلام مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ وہ لوگ جو دل میں خدا کا خوف رکھتے ہیں حقیقتاً وہی صاحب علم ہیں (سورۃ فاطر)۔ سورہ زُمر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کیا وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں کیا ان لوگوں کے برابر ہیں جو علم نہیں رکھتے۔ یہ علم والے وہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے سمجھ بوجھ دی ہے اور جن کو رہنمائی عطا فرمائی ہے۔ سورہ مجاد لہ میں اللہ رب العزّت نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عزّت و مرتبہ عطا فرمائے گا جو ایمان رکھتے ہیں اور جن کو اس نے علم عطا کیا ہے۔ سورہ انعام میں اللہ رب العزّت نے فرمایا ہے، کیا نابینا، بینا شخص کے برابر ہوسکتا ہے پھر تم سوچتے کیوں نہیں ہو۔ سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو پسند کرتا ہے اس کو عقل و فہم دیتا ہے اور جس کو یہ ہدایت ملی وہ یقینا بہت خوش قسمت ہے۔ سورہ اعراف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم ان لوگوں کو تفصیلاً اَپنی ہدایات سمجھاتے ہیں جو سمجھتے ہیں (باعلم ہیں)۔
شیخ سعدیؒ نے فرمایا ہے کہ بچہ جو علم و تربیت شروع کے چند برسوں میں سیکھتا ہے وہی اس کی زندگی کا قیمتی اثاثہ ہیں۔
ورلڈ بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اچھی بنیادی (پرائمری) تعلیم بچے کی آئندہ زندگی پر بہت مثبت اثرات ڈالتے ہیں اور وہ آئندہ زندگی میں اس سے فوائد حاصل کرتے ہیں۔
میرا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم ایک قوم کی تعمیر و ترقی میں اہم رول ادا کرتی ہے اور یاد رکھیں کہ جہالت تعلیم کا نعم البدل نہیں ہے، خراب تعلیم اچھی تعلیم کا نعم البدل نہیں ہے۔ اسکول کی تعلیم اعلیٰ تعلیم کا نعم البدل نہیں ہے اور دو نمبری تعلیمی اداروں سے حاصل شدہ تعلیم و تربیت اعلیٰ فنی تعلیم کا نعم البدل نہیں ہے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ کوئی بھی اعلیٰ تعلیم و تربیت عقل و فہم کا نعم البدل نہیں ہے اور آپ پڑھنے سے عقل و فہم حاصل نہیں کرتے بلکہ یہ خدا کا عطا کردہ تحفہ ہوتا ہے اور اسکی مثال آپ کے سامنے ہے کہ کئی اسکول وغیرہ چھوڑے ہوئے افراد کامیاب ترین اور مالدار ترین شخصیات ہیں۔بل گیٹس اس کی جیتی جاگتی مثال ہے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان
جنگ نیوز


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں