آج : 14 September , 2015

تدوینِ قرآن سے متعلق

تدوینِ قرآن سے متعلق

مولانا سید سلمان ندوی اور احقر فضیل احمد ناصری القاسمی کے نقطہ ہائے نظر
رمضان المبارک ۱۴۳۶؁ھ میں ہمارے بے حد محترم حضرت مولانا سید سلمان ندوی زید مجدہم کا ایک دوصفحاتی مضمون بعنوان’’ترتیب وتدوین قرآن‘‘واٹس ایپ پر مطالعے کو ملا، لمبے لمبے مضامین واٹس ایپ اور فیس بک پردیکھ کر بڑی کڑھن ہوتی ہے۔
مجھ سے پڑھے نہیں جاتے،مگر اس مضمون نے اس قدر گردش کی کہ مجھے خواہی نہ خواہی اس کامطالعہ کرنا ہی پڑا۔مضمون پڑھ کر ابتدائً خیال آیا کہ یہ مولانا کے قلم سے نہیں ہے، کسی من چلے نے اپنی تحریر پر ان کانام چڑھادیاہے، میں نے اپنے ایک دوست کو دکھایا تو وہ بھی ہم خیال نظر آئے ۔ میں نے سوچا کہ شاید کوئی صاحبِ قلم جنبش فرمائیں گے مگر کئی دن گزرجانے کے بعد بھی کوئی رد نہیں آیا تو میں نے یہی سمجھا کہ سوشل میڈیا سے وابستہ اہل علم ،رمضان کی برکات سے استفادہ کے پیش نظر خاموش ہیں اور بعض مولانا ندوی کے قدوقامت سے مرعوب ومدہوش۔معاملہ قرآن کاتھا، اس لئے مجھے قلم برداشتہ کچھ نہ کچھ لکھنا پڑا، جس کاعنوان یہ تھا ’’قرآن مقدس کے ساتھ مولانا سید سلمان ندوی کا کھلواڑ‘‘۔مغلوبیٔ جذبات سے عنوان اگر چہ سخت ہوگیا تھا، لیکن جو کچھ لکھا گیا تھاخونِ جگر سے اور ہمدردانہ لکھا گیا تھا۔میں نے اس مختصر مضمون میں یہ ثابت کرنا چاہا کہ قرآن کریم کے مروج نسخے بالکل ٹھیک ہیں اور اس میں کسی ترمیم کی بات کرنا ’’ام الکتاب ‘‘سے عوام کا اعتماد اٹھانا ہے۔تحریر آئی تو سوشل میڈیا میں ایک زبردست بحث چھڑگئی ، ہفتہ عشرہ یہی موضوع چلا، میں ممبئی میں تھا اور پھر سفر در سفر کے چکر میں۔ اس لئے مضمون کے بعد کسی بحث میں حصہ لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی، فرصت بھی ندارد تھی،موبائل چارج بھی نہیں رہتا تھا، کبھی نیٹ فیل ہوجاتا تھا، اسی دوران ایک مضمون نظر سے گزرا، جس کاعنوان تھا، ’’مولانا سلمان ندوی کے خلاف مولانا فضیل احمد ناصری القاسمی کا غلط پروپیگنڈہ‘‘یہ ندوہ کے ایک فارغ التحصیل اور مولانا کے معتمد کے قلم سے تھا ۔مضمون پڑھا تو سخت مایوسی ہوئی کہ ایک غلط موقف کو کس طرح سر آنکھوں پر بٹھایا جارہاہے!کئی گروپ میں یہ تحریر ڈالی گئی۔میں نے سردست بتایا کہ سفر میں ہوں ، اس لئے مفصل مضمون بیس دنوں کے بعد دیوبند پہنچ کر لکھوں گا۔ان کا یہی نوشتہ ’’تنقید سے کوئی بالا تر نہیں‘‘نامی گروپ میں بھی آیا، شرکاء گروپ نے فوراً ندوی صاحب کو شامل کیا اور ہم دونوں میں مباحثے کی بات رکھ دی۔گنجائش نہیں تھی مگر مجبوراً آمادہ ہوگیا۔ میں نے اپنا موقف پیش کیا تو وہ کوئی پیش قدمی نہ کرسکے، باربار کی دعوت اور للکار کے باوجود ان کاسکون حرکت میں نہ بدل سکا، لامحالہ گروپ کے بانیان نے میری بالادستی کااعلان کردیا۔

اس کے علاوہ میں نے کسی اور گروپ میں حصہ نہیں لیا، میرے اس مضمون سے بحث ومباحثے کاایک باب کھل گیا، اکثر علماء اور مشائخ میرے موقف کی تائید میں تھے، چند ہی تھے جنہوں نے مولانا ندوی زید مجدہم کی حمایت کی۔بعض محقق علماء نے مولانا زید مجدہم کے مضمون کے خلاف تحقیقی موادترتیب دیئے مگر افسوس کہ اس کو بھی نگلیٹ کردیا گیا۔میرے مخالفین میں فضلاء ندوہ کی اکثریت تھی، واٹس ایپ اور فیس بک پربعض فارغین ندوہ نے میرے خلاف وہ طوفانِ بدتمیزی برپاکیا کہ الامان والحفیظ ۔ایک صاحب نے مجھ سے ذاتی نمبر پر ہلکے پھلکے تعارف کے بعد لکھا کہ آپ ایک سالہ صحافتی کورس کرلیں۔گویا ان کا اعتراض میرے موقف پر نہیں بلکہ میرے اسلوبِ نگارش پر تھا۔ میں نے کہا مشورہ ٹھیک ہے مگر یہی مشورہ مولانا ندوی کو بھی دینا چاہئے۔اردو اگرمجھے نہیں آتی تو’’ خاکم بدہن ‘‘انہیں بھی نہیں آتی ۔بندہ ٔ خدا! لقمان کو حکمت سکھلاتے ہو؟ اس بے چارے کو یہ معلوم نہیں تھا کہ مخاطب جس خانوادہ سے تعلق رکھتا ہے اس نے بہار میں علوم وفنون کی نشأۃ ثانیہ کاعظیم کارنامہ انجام دیا ہے۔مدرسہ امدایہ دربھنگہ (بہار) کانام کون نہیں جانتا؟یہ ادارہ میرے والد کے پردادا حضرت مولانا شاہ منور علی دربھنگوی (خلیفۂ اجل حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ)کاقائم کردہ ہے۔ دیگر علوم وفنون کی طرح اردو بھی اس خانوادہ کی پروردۂ نعمت ہے۔یہ مولانا منور علی مرحوم ندوہ کے بانیوں میں ہیں ۔تحریک ندوۃ العلماء کے سلسلے میں حضرت حاجی امداد اللہ مرحوم کی ساری نمائندگی مولانا مرحوم نے ہی کی تھی۔
آج کی اس تحریر میں میں مولانا سید سلمان ندوی دام مجدہم کے مضمون کا تجزیہ کروں گا اور بتائو ںگا کہ انہو ںنے کہاں کہاں ٹھوکر کھائی ہے۔ارباب علم وقلم سے بصد ادب التجا ہے کہ شخصیت کا احترام ملحوظ رکھنے کے دوران عظمت قرآن بھی پیش نظر رکھیں، بعض احباب نے سلمان اور قرآن میں’’تحفظ سلمان‘‘ کو زیادہ اہمیت دی اور’’ تحفظ قرآن‘‘ کو پس پشت ڈال دیا۔

مولانا ندوی لکھتے ہیں ’’سورتوں کی تقسیم کے علاوہ جو تقسیم وترتیب لوگوں میں زیادہ رائج ہوگئی، وہ پاروں اور رکوع کی ترتیب ہے، ان دونوں ترتیبوں کامرتب کون ہے؟ آج تک عوام تو کیا، اہل علم کو بھی اس کاعلم نہیں، روایت پرستی اور تقلید کا مزاج اس امت میں اتناپختہ ہے کہ نامعلوم مرتبین کی ترتیب کو اس درجہ شہرت اور اعتبار حاصل ہوگیا کہ اسی کی بنیاد پر حفظ وناظرہ کے درجات میں عمل ہورہاہے اور تراویح میں قرآن سنایا جارہاہے ، تلاوت کرنے والے پاروں کی تلاوت کررہے ہیں اور مقدار قرأت پاروں کے ذریعہ بیان کی جارہی ہیں‘‘
مولانا ندوی کی بات پر تبصرہ کرنے سے پہلے ضروری سمجھتاہو ںکہ پاروں اور رکوع کی ترتیب کی تاریخ بیان کردی جائے ۔شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی رقم طراز ہیں :بعض حضرات کا خیال ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مصاحف نقل کراتے وقت انہیں تیس مختلف صحیفوں میں لکھوا یا تھا۔لہٰذا یہ تقسیم آپ ؓ ہی کے زمانے کی ہے۔لیکن متقدمین کی کتابوں میں اس کی کوئی دلیل احقر کو نہیں مل سکی۔البتہ علامہ بدرالدین زرکشیؒ نے لکھا ہے کہ قرآن کے تیس پارے مشہور چلے آتے ہیں اور مدارس کے قرآنی نسخوں میں ان کا رواج ہے ، بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ تقسیم عہد صحابہؓ کے بعد تعلیم کی سہولت کے لئے کی گئی ہے (علوم القرآن، ص۲۰۳بحوالہ البرہان ،ص۲۵۰۔مناہل العرفان ص،۴۰۲،ج۱)

حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ اپنی کتاب احسن الفتاویٰ (ج۱؍ص۴۹۱)پر لکھتے ہیں:ختم قرآن سے متعلق روایات مختلف ہیں تین روز، سات روز، ایک مہینہ، ایک مہینے میں قرآن کریم ختم کرنے کے لئے پیش نظر اس کے تیس پارے کردیئے گئے جس طرح کہ ایک ہفتہ میں ختم کرنے والوں کے سات منزلیں بنادی گئیں۔‘‘
شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریاکاندھلویؒ ، حکیم الاسلام حضرت قاری محمد طیب صاحبؒ اور مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی ؒ کے افادات کا ایک مجموعہ ’’تحفۂ حفاظ‘‘ کے نام سے مارکیٹ میں دستیاب ہے ،اس میں تیس پاروں کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھاہے:حضرت عبداللہ بن عمروبن عاصؓ سے مروی ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا :قرآن کریم کو ہر مہینہ میں ختم کرو۔ میں نے عرض کیا میرے میں زیادہ قوت ہے ، فرمایا کہ سات دن میں ختم کرو اور اس پر زیادہ نہ کرو، (متفق علیہ) شاید اسی سے اخذ کرکے حجاج کے زمانے میں تیس پاروں کی اصطلاح مقر ر ہوئی(ص۸۲)

رکوع کی ترتیب:شیخ الاسلام مولانامفتی تقی عثمانی لکھتے ہیں:احقر کو جستجو کے باوجود مستند طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ رکو ع کی ابتداء کس نے اور کس دور میں کی؟ بعض حضرات کا خیال ہے کہ ان رکوعات کی تعیین بھی حضرت عثمانؓ ہی کے زمانے میں ہوچکی تھی، لیکن روایات سے اس دعوے کی کوئی دلیل احقر نہیں مل سکی۔ البتہ یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ اس علامت کا مقصد آیات کی اسی متوسط مقدار کی تعیین ہے جو ایک رکعت میں پڑھی جاسکے اور اس کو رکوع اسی لئے کہتے ہیں کہ نماز میں اس جگہ پہنچ کر رکوع کیا جائے (علوم القرآن،ص۲۰۴)

حضرت مولانا رشید احمد لدھیانویؒ کابیان ہے:رکوع اور پاروں کا ثبوت حضورﷺ سے نہیں ملتا۔مشائخ بخارا نے قرآن کریم میں پانچ سو چالیس رکوع لگائے تاکہ تراویح میں ہر رکعت میں ایک رکوع پڑھا جائے تو ستائیس رمضان تک ایک ختم ہوجائے۔ جیسے کہ متقدمین نے ہر دس آیات کے بعد تعاشیر کی علامات لگائیں، جن سے یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ تراویح کی ہر رکعت میں اتنی مقدار پڑھنے سے پورے مہینے میں قرآن کریم ختم ہوجائے گا۔کیو ں کہ پورے مہینے میں رکعات تراویح کی تعداد چھ سوہے اور کل آیات چھ ہزار سے کچھ زائد ہیں(احسن الفتاویٰ،ص۴۹۰وص۴۹۱ ، بحوالہ مبسوط للسرخسیؒ)

یہ رہا رکوعات اور پاروں کی تقسیم وترتیب کی تاریخ کاخلاصہ۔اس سلسلے میں اگرچہ کسی حتمی تاریخ کا سراغ نہیں ملتا، مگر اتنا ضرور ہے کہ پاروں کی تقسیم کا یہ کام حجاج ابن یوسف کے عہد میں انجام پایا ۔ قرہاقرن سے یہ دونوں سلسلے جاری ہیں اور بلااعتراض وتردید قرآن میں ان کی موجودگی پیہم چلی جارہی ہے۔ مگر مولانا ندوی امت مسلمہ پر جس طرح گرم ہورہے ہیں اور جس جلال کے ساتھ ان کاقلم گولے برسا رہا ہے وہ حیرت ناک بھی ہے اور افسوس ناک بھی۔ایک ذی علم شخصیت سے اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔وہ امت محمدیہ کو روایت پرستی اور تقلیدی مزاج کا طعنہ دے رہے ہیں ،گویا ایک غلط کام پر امت بلاوجہ ساکت رہی۔
مولانا ندوی کی اگلی عبارت ملاحظہ ہو:تیس پاروںمیں قرآن کی تقسیم کی کوئی شرعی بنیاد نہیں ہے۔ قرآن جیسی کتاب میں اس بے بنیاد ترتیب کا اس درجہ رواج تعجب انگیز ہے اور لائق تنقید بھی۔قرآن کی تلاوت سورتوں کی بنیاد پر ہونی چاہئے تھی، تراویح میں سورتوں کے اختتام کو اصل قرار دینا چاہئے تھا…دوسطر کے بعد لکھتے ہیں:اسباق اور رکعات کی بنیاد صفحہ کی آخری آیت پر رکھنا جیسا کہ حافظی قرآن میں کیا گیا، قرآن کے معانی پر سخت ظلم ہے ۔ایسے حفاظ ، علماء کے لئے سخت آزمائش کاذریعہ بنتے ہیں اور معانی کو توڑنے مروڑنے کاا نہیں احساس بھی نہیں ہوتا۔‘‘

مولانا ندوی کاتیس پاروں کی تقسیم کو شرعی بنیاد پر تسلیم نہ کرنا بڑی جسارت ہے۔جب کہ سبھی محققین کے نزدیک یہ تقسیم تعلیم کے لئے کی گئی ہے ۔میں مولانا سے سوال کرتاہوں کہ کیاایک مسلمان پر تعلیم قرآن فرض ولازم نہیں ہے؟ اگر ہے اور ضرور ہے تو اسے غیر شرعی کہنا کس دلیل سے ہوا؟مولانا تقی عثمانی لکھتے ہیں :آج کل قرآن کریم تیس اجزاء پر منقسم ہے جنہیں تیس پارے کہا جاتا ہے۔ یہ پاروں کی تقسیم معنی کے اعتبار سے نہیں بلکہ بچوں کو پڑھانے کے لئے آسانی کے خیال سے تیس مساوی حصوں پر تقسیم کردیا گیا ہے۔‘‘صرف اس بنیاد پر تقسیم قرآن کو غیر شرعی کہنا کہ بعض اوقات بالکل ادھوری بات پرپارہ ختم ہوجاتا ہے ،حق سے بعید ہے۔پاروں کی تقسیم اور حافظی قرآن کی مدد سے بچوں کو حافظ بنانا قرآن پر ظلم ہوتا تو علماء عصر ہرگز ہرگز خاموش نہ بیٹھتے۔قرآن جیسی عظیم الشان، لازوال اور محفوظ ترین آسمانی کتاب کے ساتھ ایک نقطہ کی چھیڑ چھاڑ بھی کوئی برداشت نہیں کرسکتا، چہ جائے کہ پاروں کی تقسیم۔لہٰذا اس تقسیم پر تعجب کرنا اور اسے مسترد کرنا جادۂ اسلاف سے انحراف ہے ۔

معلوم ہونا چاہئے کہ امام ابوحنیفہؒتراویح کی ہر رکعت میں دس دس آیات کی تلاوت کے قائل تھے جیسا کہ علامہ سرخسیؒ کی مبسوط میں ہے :
روی عن ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالیٰ ان الامام یقرأ فی کل رکعۃ عشر آیات ونحوھا وھو الاحسن (ص،۱۴۶ج۲)
اب خود ہی سوچئے کہ جب امام ہر رکعت میں دس دس آیتیں پڑھے گاتو ایسے بے شمار مقامات آئیں گے جہاں امام رکوع تو کرلے گا مگر بات ادھوری رہ جائے گی، جومولانا ندوی کی زبان میں قرآن کے معانی پر سخت ظلم کہلائے گا۔یہ بھی پیش نظر رہے کہ اللہ عزوجل نے فاقرأوا ماتیسر من القرآن سے یہی حکم دیا ہے کہ قرآن پڑھنے والے کو تلاوت میں جس قدر آسانی ہو اورجہاں سے انہیں سہل معلوم ہوتی ہو وہیں سے تلاوت کریں ۔ اس میں واقعات کے تسلسل اور مضامین کے سلسلہ وار بیان کو ملحوظ رکھنے کاحکم نہیں دیا ہے۔ اسی لئے فقہاء کرام نے صراحت کی ہے کہ اگر ماتجوز بہ الصلوۃ مقدار کی تلاوت کرلی تو نماز بلاکراہت درست ہے۔ شامی کی عبارت ہے: وإن قرأثلاث آیات قصاراأو کانت الآیۃأوالآیتان تعدل ثلاث آیات قصار خرج عن حد الکراھۃ المذکورۃیعنی کراھۃ التحریم (شامی،جلد۲؍ص۱۳۳)اس عبارت میں صاف ہے کہ نماز میں تین چھوٹی آیتیں پڑھ لیں یا ایسی ایک آیت یا دو آیتیں پڑھ لیں جو تین آیتوں کے برابر ہوں تو نماز کراہت تحریمی کی حد سے نکل جائے گی ۔اس میں واقعات کے تسلسل اور معنی کی خرابی پر کوئی روشنی نہیں ہے ۔ اگر نماز میں یا تحفیظ القرآن میں واقعات کے تسلسل اور مضامین کے سلسلہ وار بیان کی رعایت ضروری ہو،تو ارشاد خداوندی فاقرؤا ماتیسر بے فائدہ ہوکر رہ جائے گا۔ہاں یہ درست ہے کہ عدم رعایت سے اہل علم کی طبع نازک پر بار ہوتا ہے اور ائمہ کو اس کا لحاظ رکھنا چاہئے مگرمقتدیوں میں صرف عالم ہی تو نہیں ہوتے دوسری طرح کے بھی افراد مثلا بوڑھے، بچے، جوان، محنت کش اور کسان سبھی ہوتے ہیں جن کی رعایت امام پر ضروری ہے۔اہل علم کی رعایت میں دیگر افراد کو مسجد سے دور نہیں کیا جاسکتا۔

اس موقع پر مولاناندوی سے یہ سوال کرنا بے جانہ ہوگا کہ آپ کے بقول حافظی قرآن کے مطابق حفظ کرنا معانی کو توڑنا مروڑنا ہے تو ایسا کرنا آپ کے نزدیک کیا حکم رکھتا ہے؟ حرام یا مکروہ؟ اگر کوئی عالم جان بوجھ کر کسی ایسی آیت پر رکعت کردیتا ہے جہاں بات پوری نہیں ہوئی تو نماز ہوگی یا نہیں؟ اور اس سے اس کاایمان متاثر ہوا یا نہیں؟

مولانا کے مضمون کا آخری پیراگراف تو نہایت اعتماد شکن ہے،فرماتے ہیں:پاروں کی تقسیم اگر حروف والفاظ کی تعداد کی بنیاد پر کی گئی ہے تو غلط کام کیا گیا ہے مضمونِ قرآنی کی رعایت اصل ہے۔ کئی پاروں کا اختتام اور ابتداء بالکل غلط ہے ۔تلاوت میں وہاں پر ٹھہر نا اور رکعات تراویح کا وہاں اختتام کرنا یا پاروں کے شروع سے ابتدا کرنا درست نہیں۔ بلکہ متعدد مقامات پر معنی اور مضمون پربڑا ظلم ہوا ہے۔ اور بعض جگہ تو جملہ ہی ناقص رہ جاتا ہے، مضمون کی کمر توڑدی جاتی ہے ، عبارت کے الفاظ کٹ جاتے ہیں، ابتدابے معنی ہوجاتی ہے۔‘‘
اپنی اس جارحانہ رائے کے بعد مولانا نے کچھ نشان دہی بھی کی ہے اور زور دے کر کہا ہے کہ موجودہ تقسیم میں بعض جگہ زبردست غلطیاں ہیں۔وہ کہتے ہیں :والمحصنت سے ابتداء کسی طرح درست نہیں،پارہ یا تو حرمت علیکم سے شروع ہونا چاہئے یا یا أیھا الذین آمنو لاتاکلواموالکم بینکم بالباطل الایۃ سے، یا زیادہ سے زیادہ فمن لم یستطع منکم طولا سے ۔اسی طرح بیسواں پارہ امن خلق السموات سے نہیں ہونا چاہئے، اس کا ماقبل کے جملے سے تعلق ہے،۔قل الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی سے اسے شروع ہونا چاہئے۔ربما یود الذین سے چودہواں پارہ شروع کرنے کی کیا مصیبت ہے؟ ایک آیت سورۃ الحجر کی کیو ں چھوڑدی گئی؟ پارہ کو سورت کی ابتداء سے شروع ہونا چاہئے……‘‘اسی طرح انہو ںنے ساتویں، نویں،تیرہویں، بائیسویں، تئیسویں اور ستائیسویں پارے کے آغاز کو بھی غلط ٹھہرایا ہے۔

مولانا ندوی کے قلم کے سرسری مطالعے سے مجھے ایسا لگا تھا کہ وہ ابھی قول کی حد تک ہی ہیں، مگر تفصیلی مطالعے اور غائرانہ ملاحظے کے بعد پتہ چلاکہ وہ تو اپنے خاکے کو عملی رنگ دے بھی چکے ہیں، ان کامرتب کردہ قرآن ان کے خیالات وآراء کے مطابق چھپ کر آچکا ہے۔ میں سرپیٹ کرر ہ گیا کہ یہ امت ویسے ہی فتنوں سے دوچار ہے۔روز نئے حوادث۔ گردش ایام ہر وقت اس کی تاک میں ۔قرآن پڑھنے والے ویسے بھی کتنے ہیں!اب اس عمل سے امت مرحومہ کا اعتماد قرآن سے کہیں اٹھ نہ جائے۔احمد رضا خاں بریلوی، سرسید احمد خان ، مرزا قادیانی اور ان جیسے کئی ملحدوں، بددینوں، مذہب بیزاروں اور خدا ناشناسوں نے تحریف لفظی اور معنوی ہیرا پھیری سے ایک بڑی تعداد کور اہِ جہنم پر ڈال دیا ہے، اسرائیل نے کئی برس پیش تر اپنا محرف قرآن لانچ کیا ۔ابھی حال ہی میں شام کے بدنام زمانہ حکمراں بشار الاسدنے بھی تحریف شدہ ام الکتاب لاکر اپنی یہودیت کاثبوت دیا۔شیعہ اپنے وجود کے روز اول سے ہی اس آسمانی کتاب میں خورد برد کے قائل ہیں۔ایسے میں اس آخری تحفہ ٔآسمانی کے ساتھ کسی طرح کی چھیڑ چھاڑ ہرگز ہرگز سود مند نہیں ہوگی۔اس کی موجودہ ترتیب بالکل ٹھیک ہے، اس سے معنی میں کوئی خرابی نہیں آتی۔ نمازمیں کوئی فسادپیدا نہیں ہوتا۔ پھر یہ بھی سوچئے کہ ہمارے یہاں چار دلائل شرعیہ میں سے ایک دلیل اجماع بھی ہے، یہ سچ ہے کہ پاروں کی تقسیم حجاج ابن یوسف نے ۷۳؍۹۵؍ھ کے دوران کرائی، جنہو ںنے یہ کام کیا وہ علماء ہی تھے۔کام کوئی غلط نہ تھا، اس لئے امت کا کوئی بھی فرد اس کے خلاف کھڑا نہ ہوا۔یہی اجماع ہے اور اجماع کے خلاف وہی جاتا ہے جس کی طبیعت شذوذ پسند ہو۔
یہ بھی نہ بھولئے کہ عہد صحابہ ؓ میں اگر پاروں کی تقسیم نہ تھی اور رکوع کاوجود نہ تھا تو انہیں کی تخصیص کیوں؟ نقطے بھی تو نہیں تھے!نقطہ نویسی کا یہ کام عبدالملک بن مروان کے دور حکومت میں انجام پایا، نقطہ لگانے والے نصر بن عاصم لیثی اور یحییٰ بن یعمرعدوانی ہیں۔ جنہو ں نے حجاج ابن یوسف کے اشارے پر یہ کام کیا۔ نقطے کی طرح اعراب بھی قرآ ن میں نہ تھا، زبر، زیر، پیش لگانے کی شروعات پہلے ابوالاسود دوئلی اور پھر حجاج ابن یوسف نے کی۔ اس کام کے لئے بھی اس نے یحییٰ ابن یعمر، نصر بن عاصم اور حسن بصری جیسے اکابر کو منتخب کیا۔آج قرآن میں حرکات اور نقطوں کا جو سلسلہ رائج ہے وہ اسی دور کاہے، مگرچوں کہ ان اضافات سے مقصود قرآن میں کوئی خلل درپیش نہ تھا، اس لئے امت نے بسروچشم گوارا کرلیا، یہ اقدامات تسہیل تلاوت کی نیت سے تھے، اس لئے کسی نے کوئی نکیر نہیں کی۔پاروں کی تقسیم میں بھی کوئی خرابی نہ تھی اسی لئے امت بلا اختلاف اسے نقل کرتی رہی۔

مولانا ندوی کو اگر اعتراض ہی کرنا تھا تو اس عم پارہ پر کرتے جو بچوں کی تعلیم کے لئے پوری طرح معکوس چھپا ہے۔ پوری ترتیب توقیفی ترتیب کے خلاف ہے۔کسی نے اس کے ابطال میں کوئی زبان نہیں کھولی، کم از کم وہی کھول دیتے۔بعض مدارس میں قرآن الٹا یاد کرایا جاتا ہے ۔پہلے سورۂ والناس ،پھر سورہ ٔ فلق اور اس طرح پچھلے قدمو ںپر چلتے ہوئے سورہ ٔ فاتحہ پر حافظ ٹھہرتا ہے۔ یہ تو قرآن کے ساتھ انتہائی بھونڈا مذاق ہے۔ اسے کیوں کر ہضم کرلیا گیا؟ بعض اساتذہ سورتیں ہی نہیں ، آیتیں بھی پچھلے قدموں پر چلا کر پڑھاتے ہیں ۔ پہلے من الجنۃ والناس ، پھر الذی یوسوس فی صدور الناس وغیرہ، تو کیا اس طرح کی تعلیم قابل قبول ہے؟ تحفیظ کے یہ طریقے صرف چھوٹے ہی نہیں،گجرات اور مہاراشٹر کے بڑے مدارس میں بھی رائج ہیں۔اس طرز کی تحفیظ کے جائزہ کے لئے اب تو باقاعدہ مسابقے بھی ہورہے ہیں۔ ان کی تردید میں مولانا نے کچھ کیو ں نہیں کہا؟
میںبڑے ادب کے ساتھ مولانا سے گزارش کروں گا کہ وہ قرآن کے ساتھ تعرض نہ کریں۔وہ جس حال میں ہے ، اسی حال میں رہنے دیں ۔امت مسلمہ کے پاس لے دے کر یہی ایک محفوظ ترین’’ متاع‘‘ ہے، اس سے امت کے اعتقاد کو متزلزل نہ کریں ۔ بات کتنی ہی درست ہو ، اس کے کہنے کا ایک مناسب وقت ہوتا ہے اور قرآن سے متعلق اس طرح کی بات کہنے کا اب کوئی مناسب وقت ہے اور نہ ہوگا۔

(بصیرت فیچرس)


آپ کی رائے

تعليق واحد لـ : “تدوینِ قرآن سے متعلق

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں