مکہ مکرمہ کے مشہور محدث حنظلہ بن ابی سفیانؒ

مکہ مکرمہ کے مشہور محدث حنظلہ بن ابی سفیانؒ

نام و نسب
یہ مکہ مکرمہ کے مشہور محدث حنظلہ بن ابی سفیان بن عبد الرحمن بن صفوان بن امیہ بن خلف بن وہب بن حذافہ ابن جمح جمحی،مکی قرشی رحمة اللہ علیہ ہیں۔

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد:5/493،تھذیب الکمال :7/443، 444،رقم الترجمہ :1561،تھذیب التھذیب 3/60،61، رقم:110،سیر اعلام النبلاء :6/336،رقم :139،تذکرة الحفاظ :1/176،رقم: 174،التاریخ الکبیر :3/44،رقم:170،الجرح والتعدیل :3/260،رقم:1071،میزان الاعتدال :1/620،رقم: 2270، الکاشف:1/358،رقم:1276،مقدمة الفتح:563)

آپ عمرو بن ابی سفیان اور عبد الرحمن بن ابی سفیان کے بھائی ہیں۔(تھذیب الکمال :7/444) ان کی والدہ کا نام حفصہ بنت عمرو بن ابی عقرب ہے ۔(الطبقات الکبریٰ :5/493)

تحصیل علوم حدیث
حنظلہ بن ابی سفیان نے جن ائمہ کبار ومحدثین عظام سے حدیث کا علم حاصل کیا ان میں سالم بن عبد اللہ بن عمر،،سعید بن میناء،طاوٴس بن کیسان،عبد اللہ بن عروةبن الزبیر ،عبد الرحمن بن سابط جمحی،عبد العزیز بن عبد اللہ عمری ،عروہ بن محمد سعیدی ،عطاء بن ابی رباح ،عکرمہ بن خالد مخزومی ،عون بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود ،قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق ،مجاہد بن جبیر ،نافع مولیٰ ابن عمر اور ان کے دو بھائی عبد الرحمن بن ابی سفیان اور عمرو بن ابی سفیان رحمہم اللہ شامل ہیں ۔(تھذیب الکمال :7/444،تھذیب التھذیب :3/60،61)

آپ سے فیض پانے والے محدثین
آپ سے حدیث نقل کرنے والوں میں اسحاق بن سلیمان رازی،جعفر بن عون عمری، حماد بن عیسی جہنی ،حماد بن مسعدہ ،سعید بن خثیم ہلالی، سفیان ثوری ،ابو عاصم النبیل ،عبد اللہ بن الحارث مخزومی ،عبد اللہ بن داوٴد واسطی ،عبد اللہ بن مبارک ،عبد اللہ بن نمیر ،عبد اللہ بن وہب ،عبید اللہ بن موسیٰ،عتبہ بن عبد الواحد قرشی ،مخلد بن یزید حرانی ،مکی بن ابراہیم بلخی ،وکیع بن الجراح ،ولید بن عقبہ شیبانی،ولید بن مسلم اور یحییٰ بن سعید القطان رحمہم اللہ شامل ہیں ۔(تھذیب الکمال :7/444،445،سیر اعلام النبلاء :6/337، تھذیب التھذیب :3/61)

ائمہ جرح و تعدیل کے توثیقی کلمات
امام ابو داوٴد ،ابو زرعہ ،نسائی ،یحییٰ بن سعید نے فرمایا : ”ثقة“ ․(تھذیب التھذیب :3/61،الجرح والتعدیل :3/260)

علامہ ذھبی  نے ”سیر اعلام النبلاء “میں فرمایا: ”کان من ائمة الحدیث بمکة “․ (سیر اعلام النبلاء :6/337)یعنی حنظلہ مکہ کے أئمہ حدیث میں سے تھے ۔علامہ ذہبی ”تذکرة الحفاظ“ میں حضرت حنظلہ کا تذکرہ ”الحافظ الثبت“ اور” الکاشف “میں”من الأثبات“کے الفاظ سے کیا ہے۔ (تذکرة الحفاظ :1/ 176،الکاشف 1/ 358)

عبد اللہ بن احمد بن حنبل  نے اپنے والد سے نقل کیا ہے ،وہ فرماتے ہیں کہ جب امام وکیع حنظلہ کی حدیث نقل کرتے تو حدثنا حنظلہ بن ابی سفیان کے بعد فرماتے: ”کان ثقة ثقة“ ․ (الجرح والتعدیل :3/260،تھذیب الکمال : 7/ 445)یحییٰ بن معین فرماتے :”حنظلة بن أبي سفیان ثقة“․(سیر اعلام النبلاء :6/ 337،الجرح والتعدیل :3/260 )امام احمد بن حنبل  فرمایا : ”ثقة ثقة “․(تھذیب التھذیب :3/61،تذکرة الحفاظ : 1/ 176)ابن ابی مریم نے ابن معین سے نقل کیا ہے ،وہ فرماتے ہیں : ”ثقة حجة“․(تذکرة الحفاظ :1/ 176،تھذیب الکمال : 7/445)یعقوب ابن شیبہ نے فرمایا :”ثقة“․(مقدمة الفتح :1/ 563،تھذیب التھذیب :3/61)ابن سعد نے فرمایا :”کان ثقة “․(الطبقات:5/ 493)ابنِ حبان نے” ثقات “ میں تذکرہ کیا ہے ۔(تھذیب التھذیب:3/61)حافظ ابن حجر  نے بھی ان کی توثیق کی ہے ۔( مقدمة الفتح :1/ 563،حاشیہ تھذیب الکمال:7/446) امام ترمذی  نے فرمایا: ” ثقة، وثقہ یحییٰ ابن سعید القطان“․ (سنن الترمذی کتاب الدعوات ،باب ماجاء فی رفع الأیدی عند الدعاء،تحت رقم الحدیث :3386)علامہ ذہبی  نے فرمایا کہ حنظلہ با لاجماع ثقہ ہیں ۔( میزان الاعتدال :1/260)

ابن عدی کا قول
ابنِ عدی نے ”الکامل فی الضعفاء “ میں ان کا تذکرہ کیا ہے اور ائمہ سے ان کی توثیق بھی نقل کی ہے ،البتہ ان کی ایک روایت نقل کر کے اس کو منکر کہہ دیا ہے اور کہا کہ اس حدیث کا متن غیر محفوظ ہے ،البتہ یہ بھی کہا کہ یہ روایت حنظلہ سے مروی نہیں، بلکہ ابو قتادہ عبد اللہ بن واقدی حرانی کو وہم ہوا ہے، انہوں نے اس کی نسبت حنظلہ کی طرف کردی ہے ،کیوں کہ حنظلہ عام طو ر سے مستقیم اور صالح احادیث نقل کرتے ہیں اور جب وہ کسی ثقہ سے روایت کرتے ہیں تو مستقیم الحدیث ہوتے ہیں ۔(2/420،421، رقم:168/537)

ابن عدی  کے قول پرعلامہ ذہبی کی گرفت
علامہ ذہبی نے ابن عدی کا” ضعفاء“ میں ان کا تذکرہ کرنے پرمذمت کی اور ” میزان الاعتدال “ میں فرمایا : ”ذکرہ ابن عدی وإلا لما کنت أذکرہ“․ یعنی ابن عدی نے ضعفاء میں ان کا ذکر کیا ہے اگر وہ ایسا نہ کرتے تومیں بھی ان کا تذکرہ نہ کرتا (کیوں کہ وہ ثقہ ہیں ) (1/620،رقم:2370)

جب کہ ”سیر أعلام النبلاء “میں علامہ ذہبی  نے ابن عدی پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ابن عدی نے ”الکامل “میں ان کا ذکر کرکے اپنے آپ کو پریشانی میں ڈال دیا ہے ،وہ ان کے کسی عیب کو بیان نہیں کر سکے ،اصل میں یہ ان کی بے جا سختی ہے ۔(6/337)

ابن عدی نے اپنے شیخ احمد بن عبد اللہ بن سابور کی سند سے حنظلہ بن ابی سفیان عن نافع عن ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : اغسلوا قتلاکم“․اس حدیث کو نقل کر نے کے بعدابن عدی نے کہا کہ ہم نے اس حدیث کو اپنے شیخ ابن سابور کے علاوہ کسی اور سے نہیں لکھا ۔(الکامل :2/421)

علامہ ذہبی  نے” سیر اعلام النبلاء“ میں اس روایت کو نقل کر نے کے بعد لکھا کہ ”ورواتہ ثقة“ اس روایت کے راوی ثقہ ہیں ،(اگر متن کو درست مانا جائے تو پھر)یہ اس مقتول پر محمول ہوگی جو میدانِ قتال کے علاوہ مارا جائے ،اس کے بعد علامہ ذہبی  نے مزید لکھا کہ شاید (متن کی) یہ غلطی ابن عدی یا شیخ الشیخ کی طرف سے ہے، اس لیے کہ ثقہ راوی بھی کبھی وہم کا شکار ہوجاتا ہے ۔(6/337،338)

محقق سیر اعلام النبلاء کا قول
محقق ومحشی سیر اعلام النبلاء ڈاکٹر بشّار عواد معروف نے ابنِ عدی پر علامہ ذہبی  کی گرفت پر لکھا ہے کہ موٴلف(علامہ ذھبی) کی (ابن عدی)پریہ گرفت احادیث کے متون اور ان پر نقد کے حوالے سے ان کی وسعت اطلاع اور بصیرت نافذہ کو واضح کرتی ہے اور علامہ ذہبی کی اس طرح گرفت کی بہت سی مثالیں تراجم رجال میں پھیلی ہوئی ہیں ،جب کہ بہت سارے محدثین اس سے غافل ہیں ،حالاں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خاص کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ان متون حدیث پر نقد کا اہتمام کر تے تھے جوقرآنِ کریم ،یاحسِ سلیم، یا ان عقلی دلائل کے خلاف ومبائن ہو جو اسلام اور اس کے اصول و کلیات کو گھیرے ہوئے ہیں ،وہ متونِ احادیث جن کے رجال اسا نید اگر ثقہ و عادل ہیں ان پر نقدو گرفت کے حوالے سے امام زرکشی  کی تالیف ”مستدرکات عائشہ “ایک بہترین نمونہ ہے ۔(حاشیہ سیر اعلام النبلاء :6/ 338)

وفات حسرت آیات
امام احمد بن حنبل نے یحییٰ بن سعید سے نقل کیا ہے حنظلہ بن ابی سفیان 151 ہجری تک حیات تھے ۔( تھذیب الکمال : 7/447)

امام بخاری  نے یحییٰ بن سعید سے نقل کیا ہے کہ حنظلہ بن ابی سفیان 151 ہجری میں انتقال کر گئے ۔( تھذیب التھذیب :3/61،التاریخ الکبیر:3/ 44،45)

یہی قول یعنی 151ہجری میں وفات کا ابن سعد ،خلیفہ بن خیاط، ابنِ حبان ،ابن زبیر ،حافظ ابن حجر اور علامہ ذہبی و غیرہ سے بھی منقول ہے ۔ (الطبقات الکبریٰ 5/ 493،حاشیہ تھذیب الکمال :7/447،الکاشف :1/358،سیر اعلام النبلاء :6/ 338) رحمہ اللّٰہ واسعة واسعة․

مفتی ابوالخیر عارف محمود
استاد ورفیق شعبہ تصنیف وتالیف، جامعہ فاروقیہ کراچی
بشکریہ: الفاروق میگزین (جامعہ فاروقیہ کراچی)

 

 

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں