کراچي/كابل (جنگ نیوز) امريکي اخبار’نيو يارک ٹائمز‘ کے مطابق نيٹو کمانڈر نے افغانستان ميں قرآن مجيد کي بے حرمتي پر معافي مانگ لي.افغانستان ميں نيٹو کي طرف سے قرآن مجيد اور ديگر اسلامي کتب کي بے حرمتي کے رد عمل ميں ملک بھر ميں احتجاجي مظاہرے شروع ہوگئے جس پر نيٹو کمانڈر نے غير ملکي فوجيوں کي طرف سے معذرت کي ہے۔
تقريباًدو ہزار سے زائد مظاہرين نے آج بگرام ايئر بيس جہاں يہ واقعہ پيش آيا ،کے سامنے احتجاج کيا. مظاہرين نے ضلعي حکومت کي عمارت کو بند کر ديا اور لوگوں کو شہر کے مرکز ميں آنے سے روک ديا ،مغربي حکام نے غير ملکيوں کو خبردار کرتے ہوئے اپنے گھروں تک محدود رہنے کي تاکيد کي ہے.
اخبار کے مطابق جنرل جان آر ايلن نے اپنے بيان ميں افغان صدر حامد کرزئي اور افغان عوام سے معافي مانگي ہے.
رپورٹ کے مطابق ايساف کے اہلکاروں نے بگرام ايئر بيس ميں اسلامي مواد جس ميں قرآن مجيد کے بھي نسخے شا مل تھے انہيں نامناسب طريقے ٹھکانے لگانے کي کوشش کي. بيان ميں کہا گيا جب ہميں اس فعل کا علم ہوا ہم نے فوري مداخلت کي اور اسے روکا اوربرآمد مواد کو مذہبي حکام کي طرف سے مناسب طريقے سے سنبھالا. انہوں نے کہا کہ ہم اس کي مکمل تحقيق کر رہے ہيں اور ہم اس ميں ملوث افراد کيخلاف کارروائي کريں گے. انہوں نے يقين دلاتے ہوئے کہا کہ آئندہ ايسا کبھي نہيں ہو گا.
نيٹو کمانڈر نے افغان عوام کي يقين دہاني کے لئے ”ميں آپ کو يقين دلاتا ہوں … ميں آپ سے وعدہ کرتا ہوں … کہ کسي بھي طرح يہ جان بوجھ کر نہيں کياگياتھا“جيسے الفاظ استعمال کئے.
افغانستان ميں اس بات پر لوگ مشتعل ہيں کہ نيٹو اہلکار قرآن مجيد نسخوں کو جلانے کے لئے لے کر جانے والے تھے. بيس پر افغان ملازمين نے ا س اقدام کو فوري روکا.
جنرل ايلن نے اپنے بيان ميں کہا کہ ميں ان مقامي اہلکاروں کا مشکور ہوں جنہوں ں نے ہميں غلطي کي نشاندہي ميں مدد دي اور فوري مداخلت کر کے روک ديا.
اخبار نے يا ددلايا کہ فلوريڈا کے پادري کي طرف سے قرآن مجيد کي بے حرمتي پر افغانستان ميں پرتشدد مظاہروں نے جنم ليا تھا.

آپ کی رائے