آج : 3 January , 2011

پریشانیوں کی اصل وجہ خدا سے دوری ہے، مولاناعبدالحمید

پریشانیوں کی اصل وجہ خدا سے دوری ہے، مولاناعبدالحمید
molana_18خطیب اہل سنت زاہدان شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ رفتہ کے خطبے کا آغاز سورۃ العنکبوت کی آیت نمبر64سے کرتے ہوئے کہا آج کل لوگ مختلف پریشانیوں کا شکار ہیں۔ کسی بھی ملک میں لوگ مشکلات ومصائب سے محفوظ نہیں ہیں۔

روحانی پریشانی کو جسمانی پریشانیوں سے بدر جہا زیادہ ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا یورپی ممالک میں جہاں اللہ تعالی نے لوگوں کو بہت ساری مادی نعمتیں عطا فرمائی ہے اور ہم سمجھتے ہیں وہاں کے باشندے مکمل آسائش وآرام اور خوشحالی کی زندگی گزار رہے ہیں، خودکشی اس قدر عام ہوچکی ہے کہ اب با قاعدہ بعض شہری حکومتیں خودکشی کے لیے مخصوص مقامات مقرر کرتی ہیں۔ اس مایوسی کی انتہا اور روحی پریشانیوں کے اسباب کو ڈھونڈنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا عراق کسی زمانے میں مالدار ملکوں میں شمار ہوتا تھا، تیل کے ذخائر سے مالا مال یہ ملک پوری دنیا کو سپلائی کرتا تھا لیکن اب ہم دیکھتے ہیں عراق کن مسائل سے دوچار ہے۔ لبنان و فلسطین آباد و سبز علاقے تھے جن کا تذکرہ قرآن شریف میں آتا ہے۔ مگر اب لبنان ایک غریب و محتاج ملک بن چکاہے، فلسطین کی اپنی مخصوص مشکلات ہیں۔ دنیا کے ہر کونے میں لوگ پریشانی کی کسی نہ کسی قسم کا شکار ہیں۔ پاکستان ایسا ملک تھا جہاں جمہوریت اور آزادی کا چرچا تھا، وہاں آج ہر کوئی خودکش حملوں کی زد میں ہے۔ ایران میں بھی امن تھا لیکن آج ہم بدامنی کا شکار ہیں۔
ان پریشانیوں کی اصل وجہ کو واضح کرتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا قرآن وسنت اور انبیاء کی تعالیم سے معلوم ہو تا ہے اللہ تعالی نے اس دنیا کو اور ہم انسانوں کو کیوں پیدا فرمایاہے۔ جو مسائل ہمیں نظر آتے ہیں یہ سب معلول ہیں اور ان کی علت یہ ہے کہ انسان اپنی اصل راہ سے بھٹک چکاہے جو بلاشبہ ’’خدا کی بندگی‘‘ ہے۔
حضرت شیخ الاسلام نے تاکید کی اللہ تعالی نے یہ تمام اسباب کو ہمارے اختیار میں رکھا ہے تا کہ ہم بہتر انداز میں اس کی عبادت کریں۔ اس کی نا فرمانی نہ کریں، ہمارا رخ اللہ کی جانب ہو۔ یہ دنیا فانی اور بے وفا ہے۔ انسانوں کے لیے بنائی گئی ہے انسان اس کیلیے نہیں خلق نہیں ہوئے۔
ہمیں اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ جو اللہ کو مانتے نہیں ان سے اللہ کوئی توقع نہیں رکھتا۔ لیکن آپ مسلمان ہیں، تمہیں اس کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اپنے دلوں میں دنیا کو نہیں اللہ تعالی کو جگہ دیدیں۔ حقوق اللہ وحقوق العباد کا خاص خیال رکھیے۔ شیطان کے شر سے اللہ کے یہاں پناہ مانگیے۔

‘محکمہ شناختی کارڈ کے حکام اپنا رویہ بدل دیں’

خطیب اہل سنت زاہدان نے صوبائی حکام کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا شناختی کارڈ کے مسئلے پر تحقیقات کے دوران خطے کی خاص صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے لوگوں کی عزت کا خیال رکھنا چاہیے۔عوام کے ساتھ ظلم وناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔
عوام کی جانب سے بار بار شکایات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا ماضی میں بہت سارے لوگوں نے جبری فوجی سروس کے خوف سے قومی شناختی کارڈ نہیں بنائے، بعض لوگ انقلاب سے پہلے شاہ ایران سے بر سر پیکار تھے اور ایران سے باہر نکلے تھے، اس زمانے شناختی کارڈ کی اتنی اہمیت بھی نہیں تھی اس لیے لوگوں نے ہرگز قومی شناختی کارڈ بنانے کی کوشش نہیں کی۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ ایسا دور آئے گا کہ انہیں مشکل کا سامنا کرنا پڑے۔ مصیبت اس وقت آں پڑی جب مہاجر بھائی صوبے (سیستان وبلوچستان) میں آئے۔ چنانچہ بہت سارے ایرانی بلوچوں کو شناختی کارڈ نہیں ملا ہے، جن کو ملا ہے انہیں ’’مشکوک‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔ بہر حال متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ ظلم وتعدی سے اجتناب کریں۔
جامع مسجد مکی زاہدان کے نمازیوں سے خطاب کرکے مولانا عبدالحمید نے تجویز دیتے ہوئے کہا بعض شہریوں نے شناختی کارڈ کے لیے درخواست جمع کرائی ہے لیکن تا حال انہیں کامیابی نہیں ہوئی ہے، ایسے افراد کی درخواستوں کی چھان بین کے لیے ایک کمیشن تشکیل دی جائے جس کے ارکان سرکاری حکام اور مقامی لوگوں اور عمائدین پر مشتمل ہوں۔ اس طرح بغیر شناختی کارڈ کے ایرانی شہریوں کو کارڈ مل جائے گا اور غیر ایرانی ملک بدرہوں گے۔
ممتاز سنی عالم دین نے مزید کہا جب بعض لوگوں کا کسی سے جهگڑا ہوتا ہے، تو محض ذاتی دشمنی کے بنا پر مخبری کرتے ہیں کہ فلان شخص ایرانی نہیں ہے!متعلقہ حکام بھی اس کے شناختی کارڈ کے ضبط کرنے اور ملک بدری میں دیر نہیں کرتے۔ یہ مسئلہ علاقے میں بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ یہ لوگ بارڈر کے اس پار ہمارے دوست وخیرخواہ نہیں بنیں گے بلکہ مسائل پیدا کریں گے۔
انہوں نے کہا ہمیں معلوم ہے محکمہ شناختی کارڈ کے آفیسرز بلوچ اور سنی نہیں ہیں، اس بات کا قوی امکان ہے غلط فیصلے کرکے دور اندیشی وفراخدلی کا ثبوت نہ دیں۔ یہ حکام کیلیے لمحہ فکریہ ہے، انہیں مسئلے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
اپنے دورہ ’’میرجاوہ‘‘ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے کہا میرجاوہ کا علاقہ پاکستانی بارڈر کے ساتھ واقع ہے جو طویل وعریض مگر خشک علاقہ ہے، لوگوں کا ذریعہ معاش مشترکہ سرحد(زیرو پوائنٹ گیٹ) ہے جسے حکومت نے بند کررکھاہے۔ لوگ وہاں شدید مشقت میں ہیں۔ خاص طور پر اب جب حکومت نے سبسڈی ختم کردی ہے اور اشیائے ضرورت مہنگی ہوچکی ہیں۔ اس بارے میں امید ہے حکام صحیح اقدامات اٹھائیں گے تا کہ عوام معیشتی مسائل سے دوچار نہ ہوں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں