القدس یہودیانہ ’’قومی ترجیح‘‘، نیا اسرائیلی قانون منظور

القدس یہودیانہ ’’قومی ترجیح‘‘، نیا اسرائیلی قانون منظور
quds_0مقبوضہ بیت المقدس(مرکز اطلاعات فلسطین) اسرائیلی قانون سازی کے امور کی ذمہ دار وزارتی کمیٹی نے مقبوضہ بیت المقدس کے متعلق ایک نئے قانون کی تصدیق  کی ہے جس کے مطابق القدس کو یہودیانہ اسرائیل کی ’’قومی ترجیح‘‘ میں شامل ہو گیا ہے، شہر کو تعلیم، روزگار اور ہاؤسنگ جیسے شعبوں کے حوالے سے ’’ترقیاتی زونز‘‘ میں شامل کر دیا جائے گا۔

عبرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس نئے قانون سے نئے رہائشی منصوبوں کو مدد ملے گی، یہ قانون بھی شہر سے دوسرے شہر میں ہجرت کے خلاف اسرائیلی بلدیہ کی جنگ کا ایک حصہ ہے، واضح رہے کہ القدس کے  یہودی نوجوان شہر کی حدود سے باہر کام کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ اس قانون کے مطابق مشرقی بیت المقدس میں یہودی کالونیوں گھروں کی تعمیر اسرائیلی ترجیحات میں شامل ہو جائے گا۔
عبرانی زبان میں شائع ہونے والے کثیر الاشاعت اخبار ’’یدیعوت احرونوت‘‘ کے الیکٹرونک ایڈیشن کے مطابق اسرائیلی کنیسٹ میں اس قانون کو اکثر پارلیمنٹیرینز کی حمایت حاصل ہے، داخلی سکیورٹی کے وزیر اسحاق اھرونفچ کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد محض اسرائیلی سیاست کا ایک حصہ ہے۔
اس نئے قانون کے مطابق القدس چھوڑنے کو تیار یہودی نوجوانوں کو پراپرٹی ٹیکس میں خصوصی رعایت دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے دیگر علاقوں کے یہودیوں کو بھی القدس میں سکونت اختیار کرنے کی ترغیب ملے گی، اسی قانون میں کئی دیگر صہیونی شہروں کو بھی قومی اہمیت دیتے ہوئے فنڈز کی فراہمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں