قریبا 2 لاکھ مسلمانوں کی نماز جمعہ کے لیے مسجد اقصیٰ میں حاضری

قریبا 2 لاکھ مسلمانوں کی نماز جمعہ کے لیے مسجد اقصیٰ میں حاضری
aqsa-women-prayerمقبوضہ بیت المقدس(ایجنسیاں) مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں مسلمانوں نے صہیونی سکیورٹی فورسز کے سخت اقدامات کے باوجود مسجد اقصیٰ میں رمضان المبارک کے آخری جمعہ کی نماز ادا کی ہے جبکہ فلسطینیوں نے واشنگٹن میں نئے براہ راست امن مذاکرات کے آغاز پر احتجاج کیا ہے۔

قابض اسرائیلی حکام نے جمعۃ الوداع کے موقع پر مقبوضہ بیت المقدس میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے اور شہر میں اضافی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ اسرائیلی پولیس کے مطابق مسجد اقصیٰ میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے ایک لاکھ ستر ہزار کے درمیان مسلمانوں نے نماز جمعہ ادا کی ہے جبکہ فلسطینیوں نے یہ تعداد دو لاکھ سے متجاوز بتائی ہے۔
نمازجمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ کے خطیب شیخ یوسف ابوسنینہ نے واشنگٹن میں مشرق وسطیٰ امن مذاکرات کی بحالی پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ یہ مذاکرات ایک مذاق ہیں۔
انہوں نے اسرائیل پر الزام عاید کیا کہ وہ عرب اور مسلم دنیا کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس نے مقبوضہ مغربی کنارے میں نو آباد کاری کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے اور وہ وہاں یہودی بستیاں تعمیر کر رہا ہے۔
اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ رمضان کے آخری جمعہ کے موقع پر بیت المقدس میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔شہر کے پولیس ترجمان شمولک بن روبی نے بتایا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے آس پاس دو ہزار اضافی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔
اسرائیلی حکام نے گذشتہ جمعوں کی طرح رمضان کے آخری جمعہ کے موقع پر بھی پچاس سال سے کم عمر کے مردوں اور چالیس سال سے کم عمر مسلم عورتوں کے مسجد اقصیٰ میں داخلے پر پابندی لگا دی تھی اور مقبوضہ مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے فلسطینیوں کی ایک محدود تعداد ہی کو ان کے قبلہ اول میں نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے جانے کی اجازت دی گئی ہے۔
غزہ کی پٹی میں حماس کے زیر اہتمام یوم القدس کے موقع پر ایک بڑی ریلی نکالی گئی۔حماس اور دوسرے مزاحمتی دھڑوں کے سنئیر عہدے داروں نے اسرائیلی قبضے کے خلاف مسلح مزاحمت کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے یہ اپیل امن مذاکرات کی بحالی سے قبل مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے آباد کاروں پر دو حملوں کے بعد کی ہے جس میں چار یہودی ہلاک ہو گئے تھے۔
حماس کے ایک سنئیر عہدے دار اسماعیل الاشقر نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”القدس کو مذاکرات کے ذریعے آزاد نہیں کرایا جا سکے گا بلکہ اسے صرف جہاد اور مزاحمت کے ذریعے ہی آزاد کرایا جا سکتا ہے”۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مذاکرات میں شرکت ایک جرم ہے۔

مسلمانوں کا تیسرا مقدس مقام
مسجد اقصیٰ مکہ معظمہ میں مسجد حرام اور کعبتہ اللہ اور مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے بعد مسلمانوں کا تیسرا مقدس مقام ہے۔یہود کے نزدیک بھی یہ مقدس مقام ہے۔یہیں ان کے بہ قول ان کا دوسرا معبد تھاجسے رومیوں نے 70 عیسوی میں تباہ کر دیا تھا۔
مسجد اقصیٰ القدس کے عرب آبادی والے مشرقی حصے میں واقع ہے۔ اسرائیل نے مشرقی بیت المقدس پر1967ء کی جنگ میں قبضہ کیا تھا اوربعد میں اس کوصہیونی ریاست میں ضم کرلیا تھا۔اب وہ اس شہر کو اپنا دارالحکومت قراردیتا ہے لیکن اقوام متحدہ اور امریکا سمیت عالمی برادری نے کبھی اسرائیل کے اس دعوے کو قبول نہیں کیا۔اب فلسطینی بھی اسے اپنی مجوزہ ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔
اقوام متحدہ اور مغربی قوتوں کا کہنا ہے کہ اس شہر کی حیثیت کا تعین اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔فریقین کے درمیان بیس ماہ کے وقفے کے بعد گذشتہ روز ہی براہ راست مذاکرات بحالی ہوئے جن میں دیگر متنازعہ امور کے علاوہ القدس کی حیثیت کا بھی تعین کیا جائےگا۔
اس وقت مشرقی بیت المقدس اور اس کے نواحی علاقوں میں ڈھائی لاکھ فلسطینی رہ رہے ہیں جبکہ دولاکھ اسرائیلیوں کو اس شہرکے مغربی حصے میں گذشتہ برسوں کے دوران لابسایا گیا ہے۔اسرائیل کے انتہا پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت اس سے پہلے کسی امن سمجھوتے کے تحت اس شہر کو تقسیم کرنے یا اسے دونوں ریاستوں کا مشترکہ دارالحکومت بنانے کے مطالبات کو مسترد کرچکی ہے لیکن اب نے وزیردفاع ایہود باراک کا کہنا ہے کہ اسرائیل بعض رعایتوں کے بدلے میں مقبوضہ بیت المقدس کے بعض حصوں سے دستبردار ہونے کو تیار ہے۔
مسجداقصیٰ کے تقدس کی وجہ سے ماضی میں صہیونی حکام کے جارحانہ اقدامات کی وجہ سے فلسطینیوں اور یہودیوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوتی رہی ہے۔اس سلسلے میں سب سے بڑا واقعہ سن 2000ء میں پیش آیا تھا جب سابق اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون المعروف بلڈوزرنے مسجد اقصیٰ میں اپنے ناپاک قدم رکھے تھے تو اس کے خلاف فلسطینیوں نے دوسری انتفاضہ تحریک شروع کردی تھی۔
اسرائیل فلسطینیوں سے مذاکرات کے ساتھ القدس کو”یہودیانے”کی پالیسی پربھی عمل پیرا ہے جس کا بنیادی مقصد مقبوضہ بیت المقدس سے زیادہ سے زیادہ فلسطینیوں کو نکال باہرکرنا ہے تاکہ وہ اسے اپنی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت بنانے کا دعویٰ نہ کرسکیں.اسرائیل اس پالیسی کے تحت القدس سے فلسطینی آبادی جارحانہ اقدامات سے بے دخل کررہا ہے اوریہودیوں کی تعداد کوبڑھارہا ہےاوروہ اپنے اس اقدام سے آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں