افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی خبریں بے بنیاد ہیں: ترجمان طالبان

افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی خبریں بے بنیاد ہیں: ترجمان طالبان
taliban_2کابل/جدہ (ثناءنیوز) طالبان کے ترجمان قاری محمد يوسف احمدی نے کہا ہے کہ رات کے وقت کابل پر ہماری حکمرانی ہوتی ہے، طالبان افغانستان کے تین چوتھائی حصے پر قابض ہیں، اسکا اعتراف خود حلیف ملک کی افواج کر رہی ہیں، 24گھنٹے میں سے 21گھنٹے قندھار ہمارے قبضے میں رہتا ہے۔

انہوں نے ایک سعودی اخبار کو بتایا ہے کہ سعودی عرب بڑا اور اہم ملک ہے، افغانستان میں قیام امن کے لئے اسکی کوششیں انتہائی اہم ہیں.
انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی خبریں بے بنیاد ہیں ۔صدر کرزئی کے ساتھ مذاکرات کرنے والے یا تو طالبان کے برطرف عناصر ہیں یا وہ افراد ہیں جو ذہنی شکست کھا کر طالبان سے علیحدہ ہو گئے ہیں۔

کندی: جھڑپوں کے دوران 8 پولیس اہلکارسمیت 4 شہری ہلاک
اے ایف پی کے مطابق افغانستان میں جھڑپوں کے دوران 8 پولیس اہلکارسمیت 4 شہری ہلاک ہو گئے۔ صوبہ کندی کے ضلع کجران میں جھڑپ میں 8 پولیس اہلکار‘ 4 شہری ہلاک ہو گئے۔
دریں اثناء ہلمند میں بم دھماکے سے ایک ڈینش فوجی ہلاک اور 4 زخمی ہو گئے۔
دوسری جانب افغان صدر حامد کرزئی نے جنوبی صوبے قندھار میں اتوار کے روز اپنی ا یک تقریر کے دوران سینکڑوں قبائلی اور مذہبی لیڈروں سے اپیل کی ہے کہ وہ طالبان کے اس مضبوط گڑھ میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے ایک بڑی فوجی کارروائی میں تعاون کریں۔ صدر کی اپیل اپیل کا بڑے پیمانے پر مثبت ردعمل دیکھنے میں آیا۔ زیادہ تر حاضرین نے اس وقت کھڑے ہو کر اقرار میں اپنے ہاتھ ہلائے جب افغان صدر نے ان سے یہ پوچھا کہ آیا وہ تقریباً نو برس سے جاری جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ کرزئی‘ طالبان شورش کے مرکز قندھار میں فوجوں کے اجتماع کے سلسلے میں مقامی لیڈروں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے خدشات کم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ نیٹو کمانڈر امریکی جنرل اٹینلے مک کرسٹل‘ اس دورے میں افغان صدر کے ہمراہ تھے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے اس اجلاس کے بعد ان کے حوالے سے بتایا کہ وہ صدر کرزئی کی جانب سے اتحاد کے لئے ایک واضح اور مضبوط اپیل پر مطمئن تھے۔ جنوبی افغانستان میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے‘ کیونکہ طالبان نے فوجی آپریشن سے قبل حملے بڑھا دئیے ہیں۔ امریکی صدر براک اوباما نے طالبان کی بڑھتی ہوئی شورش کو کچلنے کے لئے اس سال مزید 30 ہزار فوجی افغانستان بھیجنے کا حکم دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ فوجیوں کی واپسی کا عمل اگلے سال جولائی کے وسط سے شروع ہو جائے گا۔

کوئٹہ چمن نیٹو سپلائی روٹ پر حملے کرینگے، طالبان
دوسری طرف تحریک طالبان نے کوئٹہ چمن نیٹو سپلائی روٹ پر حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے عوام کو نیٹو ٹرالرز اور متعلقہ پارکنگ سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے.
تحریک طالبان قندھار شوری کی جانب سے کوئٹہ کے اخبارات کو جاری کئے گئے ایک تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان اور افغان عوام کیلئے نیٹو سپلائی کوئٹہ کے راستے قندھار جاتی ہے جس میں نیٹو کیلئے اسلحہ تیل اور ساز وسامان ہوتا ہے. کوئٹہ میں غربی بائی پاس بلیلی اور شیخ ماندہ کے مقام پر بعض افراد نے نیٹو سپلائی کے ٹرالروں کو پارکنگ کیلئے زمین بھی فراہم کی ہے اوران کی حفاظت بھی کرتے ہیں.
طالبان نے بیان میں کہا ہے کہ ہم نے متعلقہ افراد اور دیگر لوگوں کو باربار آگاہ کیا کہ وہ نیٹو کو مددفراہم کرنے سے گریز کریں چونکہ نیٹو کی پارکنگ آبادی والے علاقوں میں واقع ہے اس لئے ہم نے بے گناہ لوگوں کی جانوں کے ضیاع سے روکنے کیلئے بہت صبر سے کام لیا مگر یہ لوگ باز نہیں آئے لہٰذا ہم آخری بار ان کواطلاع دیتے ہیں وہ نیٹو سپلائی کو مدد اور تحفظ فراہم کرنا چھوڑ دیں بصورت دیگر طالبان جلد اپنے حملوں کا آغاز کریں گے اور دیکھیں گے کہ کس طرح نیٹو سپلائی یہاں سے گزرتی ہے.
واضح رہے کہ کوئٹہ چمن شاہراہ پر چالیس سے زائد مرتبہ نیٹو ٹرالروں پر حملے ہوئے ہیں اور انہیں نذرآتش کردیاگیا ہے جس میں کئی افراد جاں بحق بھی ہوئے ہیں لیکن کسی نے ابھی تک اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی تاہم پہلی مرتبہ نیٹو سپلائی لائن پر حملوں کے حوالے سے طالبان کا موقف سامنے آیا ہے ۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں