حماس دہشت گرد تنظیم نہیں: ترک وزیر اعظم اردوگان

حماس دہشت گرد تنظیم نہیں: ترک وزیر اعظم اردوگان
turkey-ordoganانقرہ/مقبوضہ بیت المقدس (ایجنسیاں) ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کی دشمن فلسطینی تحریک حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم نہیں سمجھتے۔

ترک وزیر اعظم نے وسطی شہر قونیہ میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ”حماس کے کارکنان مزاحمت کار جنگجو ہیں جو اپنی سر زمین کے دفاع کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک الیکشن جیتا ہے”۔ ان کی یہ تقریر ٹیلی وژن پر براہ راست نشر کی گئی ہے جبکہ استنبول میں دس ہزار سے زیادہ افراد نے اسرائیل کے خلاف ریلی نکالی اور زبردست نعرے بازی کی۔
رجب طیب ایردوان نے کہا کہ ”میں نے یہ بات امریکی عہدے داروں کو بھی بتائی ہے اور آج بھی میری سوچ یہی ہے کہ میں حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار نہیں دیتا بلکہ وہ مزاحمت کار ہیں اور اپنی سرزمین کا دفاع کر رہے ہیں”۔
رجب طیب ایردوان نے گذشتہ سوموار کو غزہ جانے والے امدادی قافلے پر اسرائیلی بحری قزاقوں کے حملے کے بعد سے اسرائیل کے خلاف سخت لب ولہجہ اختیار کر رکھا ہے۔ صہیونی حملے میں نو ترک شہری شہید ہو گئے تھے۔ انہوں نے حماس کو ایک جمہوری پلیٹ فارم میں تبدیل ہونے کا موقع نہ دینے پر مغربی طاقتوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
انہوں نے اپنی تقریر کے دوران اہل مغرب کو مخاطب ہو کر کہا کہ ”آپ انہیں ایک موقع کیوں نہیں دیتے؟ انہیں جمہوری جدوجہد کرنے دیں”۔ انہیں ریلی میں شریک اپنے کارکنان کے نعروں کی وجہ سے متعدد مرتبہ اپنی تقریر روکنا پڑی۔
رجب ایردوان نے امدادی قافلے پر اسرائیلی حملے کو تنقید کا نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا اور کہا کہ” اسرائیلی حکومت منافق، نفسیاتی مریض اور جھوٹی ہے”۔ غزہ میں محصور فلسطینیوں کے لیے امدادی قافلے کا اہتمام ترکی کے ایک خیراتی ادارے نے کیا تھا اور اسرائیلی دہشت گردی کا شکار ہونے والے چھے بحری جہازوں میں زیادہ تر ترک شہری سوار تھے۔
ادھر استنبول میں اسرائیلی کمانڈوز کے حملے میں شہید اور گرفتار ہونے والے امدادی کارکنان کے حق میں ایک بڑی ریلی نکالی گئی جس میں دس ہزار سے زیادہ افراد شریک تھے۔ مظاہرین نے اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ ایک صحافی سمیت نو ترک شہداء کے لیے دعائیہ تقریب کا اہتمام تاریخی بایزید مسجد میں کیا گیا تھا۔

آئرش جہازکو بھی غزہ نہیں جانے دیا جائے گا،اسرائیل کی دھمکی
دوسری جانب اسرائیل نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کے بحری جہاز کو بغیرتلاشی لیے غزہ جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جبکہ امریکا کا کہنا ہے کہ غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے جہاز اسرائیل کی بندرگاہ پر لنگرانداز ہوں۔
اسرائیلی وزیر خارجہAvigdor Liberman نے اسرائیلی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ Rachel Corrie نامی بحری جہازکوبھی غزہ جانے نہیں دیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی بحری جہاز جو اسرائیلی کی سلامتی کے لیے خطرہ ہو اس کو غزہ کے ساحلی علاقوں تک جانے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئرش حکومت سمیت دیگر کو آگاہ کردیا ہے کہ کسی بھی بحری جہاز کو اس وقت تک غزہ جانے نہیں دیا جائے گا جب تک یہ نہ پتا چل جائے کہ اس میں کیا کچھ ہے۔
واضح رہے کہ ریچل کوری نامی بحری جہاز امدادی سامان لے کر غزہ جارہا ہے ۔اس کی آئرلینڈ سے روانگی ترکی سے غزہ جانے والے امدادی بحری بیڑے پر اسرئیلی سفاکانہ حملے کے بعدہوئی ہے ۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں