آج : 24 January , 2010

پاکستان آرمی کاایک سال تک کوئی نیا محاذ نہ کھولنے کااعلان

پاکستان آرمی کاایک سال تک کوئی نیا محاذ نہ کھولنے کااعلان
am_pakاسلام آباد(مانیٹرنگ سیل) پاکستان آرمی نے کہا ہے کہ آئندہ چھے ماہ سے ایک سال کے عرصہ کے دوران جنگجوٶں کے خلاف کوئی نئی کارروائی شروع نہیں کی جائے گی بلکہ پہلے سے جاری فوجی آپریشنز کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مستحکم کیا جائے گا.

پاکستان آرمی کی جانب سے جمعرات کو یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کے وزیردفاع رابرٹ گیٹس دوروزہ دورے پر اسلام آباد میں ہیں اور امریکا پاکستان پرافغان سرحد کے ساتھ واقع قبائلی علاقوں میں موجود جنگجوٶں کے خلاف کارروائی کو وسعت دینے کے لئے دباٶ ڈال رہا ہے.
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجرجنرل اطہرعباس نے امریکی وزیردفاع کے ساتھ آنے والے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم برسوں کی بات نہیں کررہے بلکہ پاکستان کو موجودہ کامیابیوں کو مستحکم کرنے اور فوجی آپریشنزکو وسعت دینے کے لئے چھے ماہ سے ایک سال کا عرصہ درکار ہوگا”.
واضح رہے کہ پاکستان آرمی نے اپریل 2009ء کے تیسرے ہفتے میں وادی سوات اورمالا کنڈ ڈویژن میں طالبان جنگجوٶں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا تھا اور اگست تک اس نے کامیابی سے طالبان جنگجوٶں کی بڑی تعداد کا خاتمہ کردیا تھا اوران کے ٹھکانے تباہ کردئیے تھے.اکتوبر کے وسط میں پاک فوج نے افغان سرحد کے ساتھ واقع وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں طالبان جنگجوٶں کے خلاف آپریشن راہ نجات کے نام سے کارروائی شروع کی تھی جس کے ردعمل میں دہشت گردوں نے ملک کے مختلف شہروں میں فوجی تنصیبات اور شہروں پر بم حملے اورخودکش حملے شروع کردئیے تھے جن میں گذشتہ تین ماہ کے دوران چھے سوسے زیادہ افراد مارے گئے ہیں.

امریکی وزیردفاع کا دورہ
امریکا پاکستان سے یہ مطالبہ کرتا چلاآرہا ہے کہ وہ اپنے سرحدی علاقے میں موجودجنگجوٶں کے خلاف کارروائی کا دائرہ کاربڑھائے جو اس کے بہ قول افغانستان میں موجود امریکی اوردوسرے غیر ملکی فوجیوں پر حملوں کے لئے سرحدی علاقے کوایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کررہے ہیں لیکن اب امریکی وزیردفاع رابرٹ گیٹس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے میزبان ملک پر براہ راست کوئی دباٶ نہیں ڈالیں گے.
امریکی وزیردفاع نے جمعرات کو دوروزہ دورے پر اسلام آباد آمد کے بعد پاکستان کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویزکیانی اور وزیردفاع چودھری احمد مختار سے الگ الگ ملاقات کی ہے جس میں انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا ہے..
انہوں نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان میں امریکی محرکات کے بارے میں سازشی نظریوں سے بخوبی آگاہ ہیں.انہوں نے کہا کہ امریکا پاکستان کے جوہری ہتھیاروں پر کنٹرول کی کوئی خواہش نہیں رکھتااور نہ ملک پر قبضے یا اس کو توڑنے یا مسلم دنیا کو تقسیم کرنے کی کسی سازش میں شریک ہے.
انہوں نے کہا کہ ”وہ پاکستانی قیادت کے ساتھ اپنی ملاقاتوں میں افغانستان میں اپنے ملک کی جنگی حکمت عملی پر بات چیت کریں گے اور پاکستان کو یہ یقین دہانی کرائیں گے کہ امریکا ایک طویل عرصے کے لئے یہیں رہے گا”.
گیٹس نے جمعرات کو ایک پاکستانی روزنامے میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ ”پاکستان کے سرحدی علاقے سے تعلق رکھنے والے طالبان جنگجو افغانستان میں موجود القاعدہ اور طالبان سے مل کر کام کرتے ہیں،اس لئے سرحد کے دونوں جانب دباٶ ڈال کرہی پاکستان اور افغانستان دہشت گردی کو فروغ دینے والے گروہوں سے نجات حاصل کرسکتے ہیں.
امریکی وزیردفاع نے لکھا ہے کہ ان کے دورے کا مقصد پاکستان کے سرحدی علاقے اورافغانستان میں استحکام کے درمیان تعلق،ایشیا میں انتہا پسندی کے خطرے،غیرقانونی منشیات کی روک تھام کے لئے کوششوں اور میری ٹائم سکیورٹی کے شعبہ میں تعاون کے حوالے سے پاکستانی قیادت سے تزویراتی تبادلہ خیال کرنا ہے.


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں