چارسدہ کی تحصیل تنگی میں کچہری کے قریب دو دھماکوں کے نتیجے میں وکیل سمیت ۸ افراد جاں بحق اور ۴ پولیس اہلکاروں سمیت ۲۰ زخمی ہوگئے۔
زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا جہاں بعض افراد کی حالت تشویشناک ہے جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، پشاور اور چارسدہ کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ تفصیلات کے مطابق منگل کو چارسدہ کے علاقے تنگی میں سیشن کورٹ پر ۳ خودکش حملہ آوروں نے دھاوا بول دیا اور اندر داخل ہونے کی کوشش کی اس دوران ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکا خیز مواد سے اڑالیا جبکہ دیگر ۲ کو پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کرکے مارا گرایا۔دھماکہ سے قبل حملہ آوروں نے دستی بم پھینگے اور فائرنگ کی۔ دھماکے کے نتیجے میں ۸ افراد جاں بحق اور ۲۰ زخمی ہوگئے۔
واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرکے ڈاکٹروں کی چھٹیاں منسوخ کردی گئیں۔
مشیر اطلاعات پختونخوا مشتاق غنی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ دھماکے میں ۷ افراد شہید اور ۲۱ زخمی ہوئے، پوری قوم دہشت گردی کے خلاف ایک پیج پر ہے، ایسی کارروائیوں سے قوم کو خوفزدہ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی حفاظت کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، پولیس نے دہشت گردوں کو کچہری میں داخل نہیں ہونے دیا۔
ڈپٹی کمشنر طاہر ظفر کے مطابق سیکورٹی انتہائی سخت تھی اس کی وجہ سے دہشت گرد سیشن کورٹ کے اندر داخل نہیں ہوسکے اور زیادہ نقصان نہیں ہوا۔
ڈی پی اور چارسدہ سہیل خالد نے کہا: ۳ خودکش حملہ آوروں نے تحصیل تنگی کی کچہری میں داخل ہونے کی کوشش کی، سیکورٹی اہلکاروں کی موجودگی پر ایک خودکش حملہ آور نے خود کو اڑالیا جس کے بعد دیگر دو حملہ آوروں نے فائرنگ اور دستی بم سے حملہ شروع کردیا تا ہم پولیس کی جوابی کارروائی میں دونوں دہشت گرد ہلاک ہوگئے، آپریشن کے بعد علاقے کو کلیئر کردیا گیا۔
صدر ممنون حسین اور وزیر اعظم محمدنواز شریف نے چارسدہ دھماکوں کی شدید مذمت کی اور دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ ایسے حملے ہمارے عزم کو کمزور نہیں کرسکتے، حکومت دہشت گرد عناصر کے خلاف جنگ جاری رکھے گی، اللہ کے فضل سے دہشت گردوں کے خلاف ہم کامیاب ہوں گے۔ وزیر اعظم نے غمزدہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی اور جاں بحق ہونے والوں کے درجات کی بلندی کی دعا کی اور حملہ ناکام بنانے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حملے کو ناکام بنا کر بڑے نقصان سے بچایا۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے چارسدہ دھماکوں کی شدید مذمت کی اور دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب دینے والے جوان قومی ہیرو ہیں، دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے پر کے پی کے پولیس کو خواج تحسین پیش کرتے ہیں، بڑے سانحے سے محفوظ رکھنے پر اللہ کے شکرگزار ہیں۔
وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیر اعلی بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک، گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا، جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق، سابق صدر آصف زرداری سمیت دیگر رہنماؤں نے چارسدہ کچہری دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ادھر میڈیا رپورٹوں کے مطابق چارسدہ میں سیشن کورٹ پر دہشت گردی کے حملے اور خودکش دھماکے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم جماعت الاحرار نے قبول کرلی ہے۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق خیبرپختونخوا کے علاقوں پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، مردان میں دہشت گردوں کے داخل ہونے کی اطلاعات تھیں اور حساس اداروں نے سیکورٹی اداروں کو الرٹ جاری کیا تھا کہ دہشت گرد حملہ کرسکتے ہیں کیونکہ فاٹا اور مہمند ایجنسی قریب ہے اور بارڈر بھی کھلا ہے جس کی وجہ سے دہشت گرد پاکستان میں آسانی سے داخل ہوسکتے ہیں۔
روزنامہ اسلام۔ 22/02/2017

آپ کی رائے