غزہ کی سرحد کے قریب اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپوں کے دوران ایک فلسطینی شہید ہوگیا۔
فلسطینی وزارت صحت کے ترجمان اشرف القوز کے مطابق 26 سالہ محمد ابو سادا اسرائیلی فوج کی فائرنگ کا نشانہ بنا۔ اس کے سینے پر لگی گولی جان لیوا ثابت ہوئی۔ مقبوضہ بیت المقدس میں اذان پر پابندی کی مخالفت اور فلسطینی قیدیوں کی حمایت میں زبردست مظاہرے کئے گئے۔ فلسطینی مظاہرین نے صیہونی جیلوں میں قید و بند کی مشقت برداشت کرنے والے فلسطینی قیدیوں خاص طور پر شیخ رائد صلاح سے اظہار یکجہتی کا اعلان کیا اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین اپنے ہاتھوں میں شیخ رائد کی تصویریں اٹھائے ہوئے تھے۔اور دیگر قیدیوں سمیت ان کی رہائی کا مطالبہ کررہے تھے۔ دریں اثنا مصر کے دارلافتاءنے فلسطینی مساجد میں لاو¿ڈ سپیکر پر اذان دینے پر پابندی کی اسرائیلی سازش کی شدید مذمت کرتے ہوئے اذان پر پابندی کو اسرائیل کی مذہبی دہشت گردی قرار دیا ہے۔ فلسطینی شہروں کی مساجد میں لاو¿ڈ سپیکر پر اذان دینے پر اسرائیلی حکومت کی طرف سے پابندیوں کی کوششوں کی عالمی سطح پر مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔
ترکی اور اردن نے بھی مساجد میں اذان دینے پر پابندی کی اسرائیلی کوششوں کی شدید مذمت کی ہے۔ چیئرمین اسرائیلی بلدیہ نے فلسطینیوں کے ہزاروں مکانات مسمار کرنے کی دھمکی دیدی۔
نوائے وقت

آپ کی رائے