دنیا کے مختلف خطوں میں جاری جنگ و جدل میں شہری آبادی کی ہلاکت کے تدارک کے لیے ۲۰۱۴ء میں ایک معاہدہ کیا تا کہ جنگ زدہ خطوں میں اسلحے کی ترسیل کا سدباب کیا جاسکے۔
چنانچہ اب تک ۸۷ ریاستوں نے اس معاہدے (ATT) توثیق کردی، تا ہم امریکا سمیت ۴۶ریاستوں نے اس معاہدے پر دستخط کردیے ہیں، لیکن اس کی توثیق نہیں کی، جس کی وجہ سے بڑی طاقتیں بالخصوص امریکا، برطانیہ، فرانس متحاربین کو اسلحہ فراہم کرتی ہیں۔ لہذا CONTROL ARMS COALITION نامی تنظیم سعودی عرب اور جنوبی سوڈان کی حکومتوں کو کروڑوں ڈالر کے مہلک اسلحہ جات فروخت کررہے ہیں جو یمن اور جنوبی سوڈان کی شہری آبادیوں پر استعمال کیے جارہے ہیں۔
چنانچہ ۲۲ اگست کو اے ٹی ٹی کی ڈائرکٹر ANNA MAC DONALD نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ امریکا، برطانیہ اور فرانس سعودی عرب کو دھماکا خیز بم اور دیگر مہلک ہتھیار فروخت کررہے ہیں، جو روزانہ یمن کی شہری آبادی پر استعمال کیے جارہے ہیں۔ فرانس کے ڈاکٹروں کی تنظیم MEDICINS SANS FRONTIERES نے اگست کے دوسرے ہفتے میں اعلان کیا کہ وہ شمالی یمن سے اپنے شفاخانوں کے عملے کا انخلا کررہا ہے، کیونکہ سعودی عرب کے طیاروں نے اس کے ایک ہسپتال پر بمباری کرکے ۱۸ افراد کو ہلاک کردیا۔ مستند اطلاعات کے مطابق سوا سال سے یمن میں جاری جنگ میں اب تک چھ ہزار پانچ سو افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، جن میں تین ہزار سے زائد بچے ہیں، جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ بتائی جاتی ہے۔ سعودی عرب کے حملہ آور طیارے ہسپتالوں اور اسکولوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں، حتی کہ انہوں نے قدیم تاریخی شہر مآرب کے آثار قدیمہ کو بھی صفحہ ہستی سے مٹادیا۔
ہومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹر نے کئی ماہ قبل انکشاف کیا تھا کہ سعودی طیاروں نے شمالی یمن کے صوبے ساعدہ میں شہری آبادی پر کلسٹر بم گرائے، جس سے بہت سے شہری مارے گئے اور یہ بم انہیں امریکا نے فراہم کیا تھا۔یہ ہتھیار ۲۰۰۸ء کے معاہدے کی رو سے ممنوع قرار دیا جاچکا ہے اور اس کا استعمال جنگی جرائم میں شما ر کیا جاتا ہے۔ شہریوں کی ان ہلاکتوں کے باوجود امریکی صدر اوباما نے ماہ رواں (اگست) میں سعودی عرب کو 1.5 ارب ڈالر کا اسلحہ فراہم کیا۔ (رائٹر بحوالہ ڈان، منگل ۲۳ اگست ۲۰۱۶ء)
ادھر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ روس اور عوامی جمہوریہ چین نے اے ٹی ٹی معاہدے پر دستخط نہیں کیے، جبکہ جنوبی سوڈان مرکز کے سربراہ کا دعویٰ ہے کہ چین، یوکرین اور جنوبی افریقا نے جنوبی سوڈان کی حکومت کو اسلحہ فراہم کیا، جبکہ وہ انہیں خانہ جنگی میں باغیوں کے خلاف استعمال کررہی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اسلحہ کی فروخت صنعتی ممالک کی پالیسی ہے، کیونکہ اس تجارت میں یکمشت اربوں ڈالر کا منافع ہوتا ہے، ساتھ ہی گاہک حکومت پر غلبہ بھی حاصل ہوجاتا ہے۔
ہمیں حیرت ہے کہ اسلحہ کی ترسیل کنٹرول کرنے والی تنظیم نے سعودی عرب اور جنوبی سوڈان کو ہدف تنقید بنایا جو خانہ جنگی میں عام شہریوں کو ہلاک کررہے ہیں۔ اس بات سے ہر شخص اتفاق کرے گا کہ سعودی عرب اور جنوبی یمن کی حکومتوں کو باغیوں سے جنگ کرتے ہوئے جنیوا کنونشن کے اضافی پروٹوکول II برائے خانہ جنگی کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے جس کی رو سے شہری آبادی کو نشانہ بنانا قطعاً ممنوع ہے۔ لیکن کیا صرف سعودی عرب اور جنوبی سوڈان کی حکومتیں بڑی طاقتوں سے حاصل کردہ اسلحہ شہری آبادی کے خلاف استعمال کررہی ہیں یا دیگر ریاستیں بھی اس جرم میں ملوث ہیں؟
اس کے لیے ہم شیشان، فلسطین اور کشمیر میں جاری جد و جہد میں روس، امریکا، اسرائیل اور بھارت کے کردار کا جائزہ لیتے ہیں جہاں یمن اور جنوبی سوڈان سے کہیں زیادہ شہری ہر روز ہلاک ہررہے ہیں۔ یہ بات پایۂ کو پہنچ چکی ہے کہ روس نے شام کے آمر بشارالاسد کو کیمیائی اسلحہ فراہم کیا جسے اس نے باغیوں کے خلاف استعمال کیا۔ اس پر سلامتی کونسل نے شام کے آمر کی مذمت کی اور اسے اپنا کیمیائی اسلحہ متعلقہ اہلکاروں کے حوالے کرنا پڑا، تا ہم اسے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی سزا نہیں ملی، کیونکہ اس کی پشت پنا ہی روس کررہا ہے۔ اب تک شام میں تین لاکھ شہری ہلاک اور ایک کروڑ بے گھر ہوچکے ہیں۔
اب ذرا فلسطین کا منظرنامہ ملاحظہ ہو جہاں امریکا، برطانیہ اور فرانس اسرائیل کو اربوں ڈالر کا سامان حرب فروخت کرچکے ہیں، جو وہ غزہ کے شہریوں پر استعمال کرچکا ہے اور اس کے باعث اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل صہیونی ریاست کا جنگی جرم قرار دے چکی ہے۔ یاد رہے اس کے باوجود امریکا اسرائیل کو ایک ارب ڈالر سالانہ سے زیادہ لاگت کا اسلحہ فراہم کرتا ہے۔ کاش! ATT کی شق امریکا اور اسرائیل پر بھی لاگو کی جاتی۔ اسی طرح مصر کا غاصب آمر عبدالفتاح السیسی اگست میں صرف رابعہ کے میدان میں دھرنا دیے مردوں، عورتوں اور بچوں کے پر امن احتجاج پر اندھادھند گولا باری کرکے ایک ہزار سے زائد افراد کا قتل عام کرچکا ہے، لیکن اسے امریکا اور روس دونوں نے اسلحہ فروخت کیا۔ کس لیے؟ (۱) ایک منتخب جمہوری حکومت کا بزور طاقت تختہ الٹنے اور (۲) پرامن شہریوں کے قتل عام کے لیے اور کس لیے۔
اب ہم عالمی تاریخ میں سب سے بڑے انسانی المیے کشمیر کا ذکر کرتے ہیں۔بھارت نے کشمیر پر اپنے ۶۹ سالہ ناجائز اور غاصبانہ قبضے کے دوران (۱) ایک لاکھ کشمیریوں کو شہید (۲) پندرہ ہزار باعصمت خواتین کی عصمت دری (۳) ہزاروں نوجوانوں کا اغوا اور یرغمال (۴) پرامن احتجاجیوں کو PELLET BULLETS سے اندھا کرنا (۵) اقوام متحدہ، انسانی حقوق کونسل کے مبصرین کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کی اجازت سے انکار۔ کیا یہ جرائم نسل کشی کے زمرے میں نہیں آتے؟ (۶) اسرائیل کا بھارت کی قابض فوج کو رات کی تاریکی میں دیکھنے والے خصوصی چشمے کا عطیہ اور (۷) قابض بھارتی فوج کی تربیت کے لیے اسرائیل کمانڈوز کی خدمات۔
اس کے علاوہ روس، امریکا، برطانیہ، فرانس نے بھارت کو اربوں ڈالر کا مہلک اسلحہ فروخت کیا ہے۔ ذرا ATT اس کا بھی حساب کرے۔ جب مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی چھ لاکھ قابض فوج، نیم فوج اور پولیس کشمیریوں کے انسانی حقوق پامال کررہی ہے، اس وقت امریکی صدر بارک اوباما نے نریندر مودی سے فوجی معاہدہ کیا اور امریکی طیارہ ساز کمپنیوں کو بھارت میں F-16 طیارے بنانے کی اجازت بھی دے دی، جبکہ روسی ساختہ ہیلی کاپٹر گن شپ کشمیریوں کی بستیوں پر بمباری کرتے ہیں۔ اے ٹی ٹی کو اس پر بھی نظر رکھنی چاہیے کہ امریکا بھارت کو ایسا سامان حرب کیوں فروخت کرتا ہے جو کشمیریوں اور پاکستان سرحدی بستیوں پر استعمال کیے جارہا ہے۔ پھر دنیا میں امریکا کے پیدا کردہ انسداد دہشت گردی کے کاروبار میں پینٹاگون اور سی آئی اے کے ایجنٹ بھارت فوجیوں کو کشمیری حریت پسندوں کا قلع و قمع کرنے کی تربیت دے رہے ہیں اور انہیں اسلحہ فراہم کررہے ہیں۔ کیا یہ ہتھکنڈے جنگی جرائم، نسل کشی اور انسانی حقوق کی پامالی جیسے سنگین جرائم کے زمرے میں نہیں آتے؟
مجھے اس پر قطعاً اعتراض نہیں کہ اے ٹی ٹی نے یمن پر سعودی عرب کی وحشیانہ بمباری میں مغربی طاقتوں پر اعانت کا الزام عاید کیا۔ لیکن اس نے شام، فلسطین اور کشمیر میں بڑی طاقتوں کی جانب سے اسرائیل اور بھارت کو اسلحہ اور فوجی تربیت دینے پر اعتراض کیوں نہیں کیا؟ اس سے ہم یہ سمجھنے پر مجبور ہیں کہ بڑی طاقتیں چھوٹے مجرم کو پکڑتی ہیں، لیکن بڑے مجرم کی اعانت اور اس کے جرائم پر چشم پوشی کرتی ہیں۔ حق اور انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ جارح، غاصب اور قابض فوج کے خلاف مقبوضہ علاقوں کے نہتے عوام کو رقوم، اسلحہ، عسکری تربیت، سفارتی و سیاسی حمایت فراہم کی جانی چاہیے، تاکہ وہ اپنے حق خود ارادیت کا دفاع کرسکیں، مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ انہیں الٹا دہشت گرد قرار دے کر سارا استعماری ٹولہ ان پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ یہ کیسا بین الاقوامی معاشرہ ہے؟ کیسا عالمی نظام ہے؟ جہاں مظلوم کو مجرم اور مجرم کو منصف ٹھہرایا جاتا ہے؟
سعودی عرب اس لیے برا ہے کہ وہ مسلمان ہے اور امریکی، برطانوی، فرانسیسی اور روسی اس لیے اچھے ہیں کہ وہ نصاریٰ ہیں۔ ہم سعودی عرب سمیت امریکا، برطانیہ، فرانس، اسرائیل، بھارت اور روس کو یمن، فلسطین اور کشمیرمیں جاری جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہیں اور انہیں عدالت کے کٹہرے میں دیکھنے کے منتظر ہیں۔
تحریر: پروفیسر شمیم اختر
روزنامہ اسلام، ۲۵ اگست ۲۰۱۶ء

آپ کی رائے