پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ, تجارتی مرکز کراچی اور صوبہ خیبرپختونخواہ کے ضلع سوات میں بم دھماکوں اور فائرنگ سے 120 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوچکے ہیں۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں سوات کے علاقے تختہ بند روڈ پر تبلیغی مرکز کو دھماکہ خیز مواد(آئی ای ڈی) سے نشانہ بنایا گیا جس میں کم از کم 21 افراد ہلاک اور 70 سے زائد زخمی ہو گئے۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق دھماکے کی نوعیت کا علم نہیں ہو سکا تھا تاہم بم ڈسپوزل اسکواڈ کے آفیشل قیوم شاہ نے واقعے میں دھماکہ خیز مواد کے استعمال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ڈیوائس کو تبلیغی مرکز میں نصب کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر نیاز محمد نے غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ زخمیوں میں سے متعدد افراد کی حالت نازک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، انہوں نے کہا کہ یہاں مستقل زخمی لائے جارہے ہیں۔
پولیس نے اس سے قبل کہا تھا کہ سوات میں ہونے والا دھماکہ گیس سیلنڈر کے پھٹنے سے ہوا تاہم موقع پر موجود افراد نے پولیس کے اس دعوے پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔
واقعے میں زخمی ہونے والے مہمبر خان نامی شخص نے بتایا کہ دھماکے کی جگہ پر کوئی سیلنڈر موجود نہیں تھا، ہم سب کو معلوم ہے کہ گیس سیلنڈر سے اتنے افراد ہلاک نہیں ہو سکتے۔ ایک زخمی نے بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جائے وقوعہ پر کوئی گیس سیلنڈر موجود نہیں تھا۔
اگر اس بات کی تصدیق ہوجاتی ہے کہ یہ بم دھماکہ تھا، تو یہ گزشتہ دو سال کے دوران سوات میں ایک دن میں ہلاک ہونے والوں کی سب سے بڑی تعداد ہو گی۔
ڈی ایچ کیو اسپتال کے آفیشل ڈاکٹر جمیل نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ اب تک دھماکے میں ہلاک ہونے والے 21 افراد کی لاشیں لائی جا چکی ہیں۔
علاقائی پولیس چیف اختر حیات نے بتایا کہ دھماکہ ضلع سوات میں مینگورہ کے مضافاتی علاقے میںمقامی تبلیغی جماعت کے ہفت روزہ میٹنگ میں ہوا۔
دھماکے کے موقع پر مرکز میں تقریباً 1500 افراد موجود تھے جو عالم دین کا درس سن رہے تھے۔
تبلیغی مرکز کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ تبلیغی جماعت سے منسلک تھا جس کا کسی بھی دہشت گروپ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ڈان نیوز کے مطابق مقامی افراد اور ریسکیو ٹیموں نے لاشوں اور زخمیوں کو سیدو شریف اسپتال سوات منتقل کردیا ہے، واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ کر تحقیقات شروع کردی ہے۔
کوئٹہ میں ہلاکت خیز بم دھماکے
پاکستان کے شورش زدہ صوبے کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں ہونے والے 2بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 95 تک جا پہنچی ہے۔
ریسکیو ذرائع کےمطابق دھماکوں میں ایس ایس پی،ایس ایچ او سمیت پولیس کے9 اہلکار، نجی ٹی وی کے نمائندے سیف الرحمٰن، کیمرہ مین اور ایدھی کے 4 رضار کار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل دھماکوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 16 جو کہ بعدازآں 40 اور پھر 56بتائی گئیں ، پولیس کے اعلیٰ حکام کی جانب سے 81ہلاکتیں بتائی گئیں جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 95 تک جاپہنچی ہے۔
ڈی آئی جی حامد شکیل نے بھی ہلاکتوں کےبارے میں میڈیا کو بتایا تھا کہ دھماکوں میں اب تک 70افراد ہلاک جب کہ 163 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
پولیس کےمطابق علمدار روڈ پر ہونے والا دھماکہ خود کش حملہ تھا جب کہ دوسرے دھماکے کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔
پولیس کا کہناتھا کہ دھماکوں کی ذمہ داری تاحال کسی گروہ کی جانب سے قبول نہیں کی گئی۔
بلوچستان کی حکومت اور شیعہ تنظیموں نے ان ہلاکتوں پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ کوئٹہ کی تاجر تنظیموں اور شیعہ برادری کی اپیل پر دھماکوں کے خلاف جمعہ کو شہر میں شٹر ڈاؤن بھی ہڑتال کی گئی ۔ آخری اطلاعات کے مطابق کوئٹہ کی ہزارہ برادری اور شیعہ تنظیموں نے ہلاک شدگان کی تدفین سے انکارکیا ہے۔ مظاہرین علمدار روڈ پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں، ان کا مطالبہ ہے شہر فوج کے حوالے کیا جائے۔
نمائندہ دی نیوز ٹرائب کےمطابق زخمیوں کو کوئٹہ کے سول اسپتال سمیت مختلف اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے جبکہ زخمیوں میں متعدد افراد کی حالت تشویش ناک ہے جس سے مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔
کوئٹہ ہی میں نیٹوکنٹینرکے ٹرمینل پر راکٹ حملے اور فائرنگ سے 2افراد جاں بحق جبکہ 10ٹینکر جل کر خاکستر ہوگئے۔
پولیس کے مطابق جمعہ کی شام کوئٹہ کے نواحی علاقے مغربی بائی پاس پر نامعلوم مسلح افراد نے افغانستان میںموجود نیٹو فورسزکیلیے کراچی سے سامان لیکر جانے والے کنٹینرکے ٹرمینل پر راکٹوں سے حملہ اور فائرنگ کردی جس کے نتیجے ایک کار بھی جل کر خاکستر ہوگئی ۔ فائرنگ سے بجلی کی تار ٹوٹ گئے اورعلاقے میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔
کراچی، فائرنگ سے7ہلاک
پاکستان کے تجارتی و کاروباری مرکز کراچی کےعلاقے سپرہائی وے کے قریب نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے 7افراد کو قتل کردیا ۔
نمائندہ دی نیوز ٹرائب کےمطابق فائرنگ کاواقعہ سپر ہائی کے قریب نادر ہومیو کلینک کے پاس پیش آیا جہاں 6نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے ڈیرے پر فائرنگ کرکے7 افراد کو موت کی نیند سلادیا۔
پولیس کےمطابق فائرنگ کےواقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق باجوڑ ایجنسی سے ہے جب کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق واقعہ ٹارگٹ کلنگ کا نتیجہ ہے۔
پولیس کا کہنا تھا کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ 2گھنٹوں کےدوران کراچی کے مختلف علاقوں میں فائرنگ اور پرتشدد واقعات میں اب تک 13افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
خبررساں ادارے

آپ کی رائے