افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد میں عسکریت پسندوں نے امریکا اور افغانستان کے مشترکہ اڈے پر حملہ کیا ہے۔ طالبان کے مطابق ائر پورٹ پر کیا جانے والا حملہ خودکش ہے۔
افغان انٹلیجنس اہلکاروں کے حوالے سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ جلال آباد میں قائم ایک امریکی اڈے کو سات خودکش حملہ آوروں نے نشانہ بنایا جبکہ عینی شاہدین کے مطابق حملے کے وقت فائرنگ کی آواز بھی سنی گئی۔ افغان اہکاروں کے مطابق حملہ کرنے والے سات افراد اور ایک افغان گارڈ اس واقعہ میں ہلاک ہو گئے۔
طالبان نے امریکی اڈے پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ان کے کچھ جنگجو امریکی اڈے میں داخل ہوئے تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ افغان پولیس اہلکاروں کے مطابق دو حملہ آور بارود سے بھری گاڑیوں میں آئے اور انہوں نے امریکی اڈے کے باہر سکیورٹی بیرئیر کو توڑا جبکہ تین حملہ آوروں نے سکیورٹی گارڈز پر حملہ کر دیا۔ مقامی شہریوں نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ حملہ آوروں پر ہیلی کاپٹروں کے ذریعے فائرنگ کی گئی تاہم یہ لڑائی بیس منٹ تک جاری رہی۔
دوسری جانب طالبان کے ایک ترجمان نے امریکی اڈے پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہےکہ طالبان کے جنجگوؤں نے اتوار کی صبح امریکی اڈے پر حملہ کیا۔ افغان حکام کے مطابق امریکی اڈے پر ہونے والے حملے میں نیٹو افواج کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
طالبان ذرائع کا دعویٰ ہے اس کارروائی میں 12مجاہدین نے حصہ لیا جس میں درجنوں غیرملکی فوجی ہلاک وزخمی ہوگئے۔ طالبان ویب سائٹ کے مطابق مذکورہ آپریشن میں کم ازکم اٹھارہ فوجی ہلاک، چالیس زخمی جبکہ 2 طیارے تباہ ہوچکے ہیں۔
العربیہ +ایجنسیاں

آپ کی رائے