کابل (العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں) افغانستان کے مشرقی صوبہ خوست میں نیٹو فوج کے قافلے پر خودکش بم حملے کے نتیجے میں تین امریکی فوجیوں سمیت چودہ افراد ہلاک اور کم سے کم چالیس زخمی ہو گئے ہیں۔
واشنگٹن میں ایک امریکی عہدے دار نے نیٹو کی قیادت میں بین الاقوامی سکیورٹی اسسٹنس فورس میں شامل اپنے تین فوجیوں کی خوست میں سوموار کو ہوئے خودکش بم حملے میں ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ افغان حکام کے مطابق حملے میں دس شہری اور ایک افغان مترجم بھی مارا گیا ہے۔
ایک عینی شاہد نے برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹرز کو بتایا ہے کہ پولیس کی وردی میں ملبوس خودکش بمبار نے خوست شہر میں گشت کرنے والے امریکی فوجیوں پر اچانک حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں زوردار دھماکا ہوا۔ نیٹو فوج کی خاتون ترجمان نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے صرف یہ کہا ہے کہ فوجیوں کو ایک خودکش بمبار نے نشانہ بنایا ہے۔
صوبہ خوست کے گورنر عبدالجبار ناہیمی کا کہنا ہے کہ خودکش بمبار ایک موٹر سائیکل پر سوار تھا اور اس نے فوجیوں کے قریب آکر اپنے بارود سے لدے موٹر سائیکل کو دھماکے سے اڑا دیا۔گورنر نے دھماکے میں سینتیس شہریوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
افغان طالبان نے خوست میں امریکی فوجیوں پر خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کرلی ہے۔گذشتہ روز مشرقی افغانستان میں افغان فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں دو امریکی فوجی مارے گئے تھے۔ افغانستان میں گذشتہ گیارہ سال سے جاری جنگ کے دوران مزاحمت کاروں کے ساتھ جھڑپوں، بم دھماکوں اور تشدد کے دوسرے واقعات میں مہلوک امریکی فوجیوں کی تعداد دو ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔
جنگ زدہ ملک میں اس سال اب تک وردی پوش افغان سکیورٹی اہلکاروں کے چھتیس حملوں میں باون غیرملکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اگست میں پندرہ نیٹو فوجی مارے گئے تھے جبکہ گذشتہ سال صرف پینتیس غیر ملکی فوجی افغان سکیورٹی فورسز کی وردی میں ملبوس اہلکاروں کے حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔نیٹو نے وردی پوشوں افغانوں کے غیر ملکی فوجیوں پر بیس فی صد حملوں کا طالبان مزاحمت کاروں کو ذمے دار قرار دیا ہے جبکہ باقی حملے ثقافتی اور مذہبی اختلافات کی بنا پر کیے گئے ہیں۔

آپ کی رائے